جنرل (ر)پرویز مشرف کی وطن واپسی

جنرل (ر)پرویز مشرف کی وطن واپسی

اکتوبر1999ءمیں نواز شریف کی جمہوری حکومت کو برطرف کرکے ملک میں آمریت قائم کرنے والے جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ عبوری حکومت قائم ہونے کے جلد ہی بعد پاکستان واپس آجائیں گے ۔ اس وقت ان کے خلاف محترمہ بے نظیر بھٹو اور اکبر بگٹی کے قتل کے مقدمات کے علاوہ دوسرے بہت سے مقدمات بھی درج ہیں جس کی وجہ سے وہ گرفتاری سے بچنے کے لئے لندن میں مقیم ہیں۔ گزشتہ پانچ سال میں جمہوری طاقتوں کی طرف سے ملک میں پرویز مشرف کی آمریت اور ان کے ملک و قوم کے لئے نقصان دہ منصوبوں پر سخت تنقید ہوتی رہی ہے جس سے قوم میں ان کے لئے ہمدردی کے بجائے مخالفانہ جذبات زیادہ شدید ہیں۔ سابق صدر پرویز مشرف اس وقت آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر ہیں۔ پاکستانی سیاست میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں ۔ ان کے نام سے قائم انٹرنیٹ پر ایک منظم ویب سائٹ موجود ہے ، جس میں ان کے پارٹی اراکین اور حامیوں کی آراءسامنے آتی رہتی ہیں۔    

جنرل (ر) پرویز مشرف کی کمانڈو تربیت نے انہیں اپنی ذات پر کافی اعتما د بخشاہے۔ فوج کی سربراہی اور نواز شریف حکومت ختم کرنے کے بعد اپنے دور حکومت میں انہوں نے اپنی انا اور مرضی کے مطابق بہت سے ایسے بڑے فیصلے کئے تھے جن سے قوم کوشدید نقصان اٹھانا پڑا ۔ ان کی ذاتی صلاحیتوں اور عزم و حوصلہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کارگل کا معرکہ ان کی سوچ اور منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا جس سے پاکستان کو بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور عالمی سطح پر بدنامی کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک کھلی اور بڑی جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔ انہوں نے اپنے دو تین ساتھی بڑے افسروں کو اعتماد میں لے کر یہ کام اس وقت کیا جب بھارتی وزیراعظم واجپائی پاکستان آ کر مینار پاکستان پر حاضری دے چکے تھے اور دونوں وزرائے اعظم نے کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا اعلان کیا تھا، واجپائی فروری1999ءمیں پاکستان آئے اور کارگل کی جنگ مئی میں شروع ہو گئی۔

پرویز مشرف نے ملک میں بھاری اکثریت رکھنے والی مسلم لیگ کی مستحکم حکومت کو ختم کرکے اقتدار پر قبضہ کیا اور پھر11 ستمبر 2001ءکو امریکہ میں ہونے والے دہشت گردی کے وا قعات کے بعد جب مغربی میڈیا کی طرف سے افغانستان، طالبان اور پاکستان پر انگلیاں اُٹھنے لگیں ۔ سپرپاور نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے افغانستان کو تاخت و تاراج کرنے کا پروگرام بنایا ، تو پرویز مشرف نے امریکی حکام کی ایک ہی فون کال پر امریکہ کوذاتی طورپر پاکستان کے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلادیا ۔ انہوں نے اس مقصدکے لئے خود کو عالم اسلام کی طاقت سمجھنے والے پاکستانیوں کو ”سب سے پہلے پاکستان“ کا نعرہ دیا ، جس کا بظاہر مطلب یہ تھا کہ اگر ہم اپنے مسلم افغان بھائیوں اور افغانستان میں قائم اسلامی حکومت کا سوچتے رہیں گے تو خود بھی کچلے جائیں گے اور امریکہ ہمیں واپس پتھر کے زمانے میں پہنچا دے گا۔ ہمارا حال بھی عراق جیسا ہوجائے گا۔ ان کی طرف سے اس آسانی سے امریکیوں کی تمام شرائط مان لینے پر امریکیوں کو بھی حیرت ہوئی، جس کا اظہار ان کے بہت سے اعلیٰ افسروں نے اپنی یادداشتوں میں کیا ہے۔ پرویز مشرف کی حکومت نے طالبان اور افغان لوگوں کو پسماندہ ذہن اور قدامت پرست ظاہر کرتے ہوئے پاکستان کو ”روشن خیال اعتدال پسندی“ کا نعرہ بھی دیا۔ امریکی اتحادی بننے کے بعد ہمیں وہ فوائد تو نہ ملے جن کی توقعات بہت بڑھا چڑھا لی گئی تھیں ، تاہم اپنی آزادی سلب کرنے والے امریکیوں کا ساتھ دینے کی وجہ سے افغان اور ان کے پاکستان میں حامی مسلح قبائلی پاکستان کے مخالف ہو گئے۔ پاکستان میں دہشت گرد ی کی کارروائیاں شروع ہو گئیں، جن سے ہماری معیشت اور امن و امان کو سخت نقصان پہنچا۔ پرویز مشرف کے آخری دوبرسوں کے دوران دو اور بڑے واقعات ایسے ہوئے، جنہوں نے ان کے لئے قوم میں قبولیت کے رہے سہے جذبات بھی ختم کردئیے۔

چیف جسٹس کی معزولی اور توہین آمیز سلوک کے بعد ان کی اہل خاندان سمیت نظر بندی جسے پوری قوم نے میڈیا کی آنکھ سے دیکھا اور محسوس کیا ، یہ حرکت پرویز مشرف اور ان کی حکومت کی بدنامی کے لئے بہت اہم ثابت ہوئی۔ تاہم پوری قوم چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے لئے اُٹھ کھڑی ہوئی اور وکلاءنے اس تاریخی تحریک میں ہراول دستے کاکام کیا۔ اس کے بعد لال مسجد اسلام آباد کے خلاف آپریشن میں سینکڑوں بے گناہ بچیوں کا قتل جو سیاسی رہنماﺅں کے کامیاب مذاکرات کے باوجود جنرل صاحب کی انا کی تسکین کے لئے کیا گیا ، وہ بھی ان کی حکومت پر ایک بدنما دھبہ ہے۔ اسی طرح ان کے دور میں پاکستان کو ایٹمی راز اور ٹیکنالوجی شمالی کوریا اور ایران کو سمگل کرنے جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ملک کو بہت بدنامی ملی، جس طرح چیف جسٹس آف پاکستان کی انتہائی اہم شخصیت کو اپنے مقاصد کی راہ میں حائل ہونے کی پاداش میں سزا دینے کی کوشش کی گئی، اسی طرح ایٹمی ٹیکنالوجی کی سمگلنگ کا الزام بھی اپنے مغربی آقاﺅں کو خوش کرنے کے لئے پاکستان کے محسن اور بے حد قابل احترام شخص جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سر تھونپنے کی کوشش کی گئی ۔ محترمہ بے نظیر نے اس کے متعلق اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس سلسلے میں ڈاکٹر عبدالقدیر کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے دورِ حکومت میں ڈاکٹر عبدلقدیر خان کو ان کے گھر پر نظر بند رکھا اور ان کی ہر قسم کی نقل و حرکت پر پابندی رہی۔    

بلوچستان کے مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے اپنی انا پرستی اور اکبر بگتی کے قتل سے انہوں نے اسے جس طرح پیچیدہ بنا دیا اسے اب تک قوم بھگت رہی ہے۔ نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد بلوچستان کے حالات مسلسل خراب ہوتے رہے ہیں۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے زمانے میں امریکہ سے پاکستان کو بہت زیادہ مالی امداد ملی، جس سے بہت سے ترقیاتی کام بھی ہوئے۔ مالی پریشانیوں کا سامنا لوگوں کو اس قدر نہیں تھا، مہنگائی بھی موجودہ دور کی نسبت کم تھی،روپے کی قدر بھی مستحکم تھی اور موجودہ بے قدری نہیں ہوئی تھی، مشرف دور میں آئی ٹی ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی، ہائر ایجوکیشن کمیشن قائم کیا گیا، پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں بہت سی نئی یونیورسٹیاں قائم کی گئیں، سب سے اہم کام میڈیا کی آزادی اور پرائیویٹ سیکٹر میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن لائسنسوں کا اجرا تھا، جس کے بعد الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اپوزیشن کا نقطہ نظر بھی سامنے آنے لگا، لوگوں کی ہر سطح پر سیاسی تربیت ہونے لگی۔ عوام کے بڑھے ہوئے سیاسی شعور نے خود پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت کو مسترد کردیا۔

موجودہ جمہوری حکومت کے دور میں مہنگائی ، بیروزگاری ، توانائی بحران، دہشت گردی، بھتوں، ڈاکہ زنی ، سیاست دانوں کی کرپشن اور لوٹ کھسوٹ اس قدر بڑھی ہے کہ کئی بار لوگ بے ساختہ پکار اٹھتے ہیں کہ ”ایسی جمہوریت سے تو آمریت بھلی“ ، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اہل پاکستان جمہوریت کا گلا گھونٹنے اور ملک میں آمریت قائم کرنے والے کسی شخص کو قبولیت بخشیں گے۔ عام لوگ جمہوریت اور صاف ستھری جمہوریت کے حق میں ہیں۔ اب تک ہر کسی پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ جمہوری عمل کے جاری رہنے ہی سے ملک کے مسائل ختم ہوں گے۔ سسٹم سے زیادہ لوگوں کے اخلاق اور طور اطوار میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ افراد دیانت اور امانت کو اپنالیں گے تو پھر غلط کار حکمران پاکستان پر آسانی سے مسلط نہیں ہو سکیں گے۔ غلط لوگوں کا حکومت پر تسلط و غلبہ زیادہ تر افراد قوم کی اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اب اِس سلسلے میں مسلسل سوچ بچار اور مسائل سے نکلنے کی خواہش کے پیش نظر عوام سے آئندہ انتخابات میں بہتر فیصلوں کی توقع ہے۔

یہ حالات ہیں جن میں جناب پرویز مشرف وطن واپس آنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ اگرچہ وہ پہلے بھی واپسی کے اعلان کرتے رہے، مگر اب تک واپس نہیں آئے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اپنے آٹھ نو سال کے دور حکومت میں ان کی حکومت نے بھی بے شمار لوگوں کو نوازا اور آگے بڑھا کر خود کو مضبوط کیا ہوگا، لیکن یاد رہے کہ ان کی سیاسی جماعت تو مسلم لیگ (ق) تھی جس کی تشکیل کا وہ کریڈٹ لیتے رہے اور جو اس وقت چودھری برادران کے زیر قیادت موجودہ حکومت میں حصہ دار ہے۔ جنرل صاحب کی اپنی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کہنے کو تو آل پاکستان ہے، لیکن اس میں شامل جنرل صاحب کے چاہنے والوں اور وفادار لوگوں کی تعداد یقینا وہ نہیں ہے جو انہیں ملک سے دُور بیٹھے ہوئے نظر آ رہی ہے۔ بہر حال واپس آنااور الیکشن میں حصہ لینا اُن کا جمہوری حق ہے۔مقدمات سے نجات پانے اور اپنے دامن کے دھبے دھونے کے بعد اگر جنرل صاحب یا اُن کے ساتھی کچھ نشستیں حاصل کرلیتے ہیں تو پھر بھی دیکھنا ہوگا کہ ایسی صورت میں وہ جمہوریت کے لئے کیا کردار ادا کرپاتے ہیں ویسے تو و ہ اب بھی مارشل لاءکی محبت میں گرفتار نظر آتے ہیں۔  ٭

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...