امریکہ سے ٹکر

امریکہ سے ٹکر
امریکہ سے ٹکر

امریکی مکاری کا توڑ صدر آصف علی زرداری کے پاس ہی ہو سکتا تھا، جنہوں نے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے معاہدے کو نافذ کرنے کی ٹھان لی ہے، ایران سے گیس معاہدے کے تحت پاکستان کے اندر پائپ لائن کی گراﺅنڈ بریکنگ 11مارچ کو طے ہو گئی ہے۔

ایک عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان کو تو گیس کی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن ایران کو پاکستان کی ضرورت ہے، اسی لئے یہ باتیں کھلے بندوں ہو رہی ہیں کہ گیس ایران سے آئے گی اور اقتصادی پابندیاں دُنیا سے آئیں گی، دوسرے لفظوں میں ہم گیس منگوائیں گے ، امریکہ ہمارے خلاف عالمی پولیس منگوائے گا، کہیں یہ گیس ہمارے لئے نحس نہ ثابت ہو!.... 1979میں ایران سے خمینی انقلاب پاکستان میں آنے لگا تھا ، سوال یہ ہے کہ اب گیس پائپ لائن کے ساتھ ایران سے کیا آئے گا، کہیں یہ سارا عمل بے کار کی مشقت نہ ثابت ہوکیونکہ پہلے ہی اس منصوبے پر ساری دنیا پاکستان کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ جنوری 2010ءمیں امریکہ نے پاکستان کو آفر کروائی تھی کہ اگر وہ اس منصوبے کا ارادہ ترک کر دے تو امریکہ اسے ایل این جی ٹرمینل بنوا کر دے گا جس میں گیس کو مائع حالت میں امپورٹ کرکے دوبارہ سے گیس میں تبدیل کیا جا سکے گا، یہی نہیں بلکہ تاجکستان سے افغانستان کے راستے بجلی کی دستیابی کی یقین دہانی بھی کروائی تھی، اس کے باوجود 16مارچ 2010ءکو ایران اور پاکستان نے انقرہ میں اس معاہدے پر دستخط ثبت کر دیئے، جس کے مطابق دونوں ممالک اپنے اپنے علاقے میں 2014ءتک پائپ لائن بچھا لیں گے۔ جولائی 2011ءمیں ایران نے اعلان کیا کہ اس نے اپنے علاقے میں بارڈر تک پائپ لائن بچھانے کا عمل مکمل کر لیا ہے اور اگر پاکستان نے 2014ءتک اپنے حصے کا کام نہ کیا تو اسے روزانہ کی بنیاد پر ایک ملین ڈالر کا جرمانہ ایران کو ادا کرنا ہوگا تاآنکہ پاکستان پائپ لائن بچھا نہ لے، چنانچہ 13مارچ 2012ءکو پاکستان کی وزارت خزانہ نے اعلان کیا کہ نجی سرمایہ کار اس منصوبے سے ہاتھ کھینچ رہے ہیں اور ممکن ہے کہ پاکستان میں گیس کے صارفین پر کوئی ٹیکس لگا کر مطلوبہ رقم کی دستیابی یقینی بنائی جائے، واضح رہے کہ پاکستان میں پائپ لائن کے بچھانے میں لگ بھگ ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت آئے گی، اسی دوران چین اور روس سے بھی مدد لینے کی تدبیر کی گئی ، ایک روسی کمپنی نے اظہار دلچسپی بھی کیا۔ 15اپریل 2012ءکو وزیر خارجہ پاکستان حنا ربانی کھر نے اسلام آباد میں بتایا کہ پاکستان امریکی دباﺅ کو قبول نہیں کرے گا اور ہر قیمت پر اس پائپ لائن کے منصوبے کو مکمل کیا جائے گا،کیونکہ یہ قومی مفاد کی بات ہے ، چنانچہ 4ستمبر 2012ءکو رپورٹ ہوا کہ سعودی عرب نے بھی اس منصوبے کا متبادل پیکیج آفر کیا ہے اور اس کے علاوہ کیش قرضہ اور تیل کی فراہمی کی پیشکش بھی کی گئی، مگر یکم مئی 2012کو حکومت نے اعلان کیا کہ اکتوبر 2012ءسے پہلے منصوبے کا اجراءہو جائے گااور دسمبر 2014ءمیں تکمیل پا جا ئے گا۔ 29جنوری 2013ءکو ایک امریکی اہلکار نے پاکستان پر اقتصادی پابندیوں کے اطلاق کا عندیہ دیا، اس کے بعد سے اب تک تناﺅ کی کیفیت ہے!

اس وقت کی صورت حال یہ ہے کہ ایران سے گیس کے فائدے تو ہر کوئی دیکھ رہا ہے ، نقصان کوئی کوئی دیکھ رہا ہے، خاص طور پر صدر آصف علی زرداری کی پارٹی کو تو الیکشن کے حوالے سے کمال کا فائدہ ہو سکتا ہے، یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ایرانی گیس پاکستانیوں کی عیش کروائے گی، جبکہ امریکہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ایسی کوئی بھی پائپ لائن اسے طیش دلا ئے گی!

 ہم ایک عرصے تک یہ طے کرنے میں لگے رہے ہیں کہ کس کے ساتھ کھڑے ہوں، ایرانی عیش کے ساتھ یا امریکی طیش کے ساتھ، کیونکہ گیس ہماری ضرورت ہے تو امریکہ ہماری مجبوری ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ضرورت تو کسی نہ کسی طرح پوری ہو ہی جاتی ہے لیکن مجبوری انسان کو ہتھل کرکے رکھ دیتی ہے، کہیں یہ پائپ لائن پاکستان میں امریکی مداخلت کی راہ ہموار نہ کر دے، کیونکہ ایران اگر ہوا میں بھی گیس چھوڑ دے تو سرحد عبور کر کے پاکستان آجائے گی ، یوں بھی امریکہ کو ایرانی گیس پر نہیں ایران سے تعلق پر اعتراض ہے، کیونکہ ایران امریکہ کو نہیں مانتا!

اس سے قبل ہم نے روس سے بھی ایسا ہی تعلق گانٹھنے کی کوشش کی تھی، لیکن پیوٹن نے عین وقت پر اسلام آباد کا دورہ ملتوی کر دیا، اب ایران سے یاری گانٹھی جا رہی ہے ، اگر عین وقت پر ایران بھی نہ آیا تو کیا ہو گا! ....صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے!

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...