موضع اچھرہ میں سرکاری اراضی پر قبضے ریونیو افسران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

موضع اچھرہ میں سرکاری اراضی پر قبضے ریونیو افسران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

لاہور (اپنے نمائندے سے) تحصیل ماڈل ٹاﺅن میں واقع موضع اچھرہ کی حدود میں آنیوالی صوبائی حکومت کی 3 کنال سرکاری اراضی پر کئے جانے والے قبضے محکمہ ریونیو کے اعلیٰ افسران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن کر رہ گئے جبکہ ان قبضوں میں ملوث ریونیو سٹاف کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بجائے انہیں مزید پرکشش سرکل الاٹ کر دئیے گئے شہری اچھرہ کی حدود میں لینڈ مافیا اور ریونیو سٹاف کے درمیان ہونے والی بندر بانٹ کے خلاف سراپا احتجاج بن چکے ہیں مزید معلوم ہوا ہے کہ موضع اچھرہ میں جہاں سنٹرل گورنمنٹ، صوبائی حکومت ، شاملاٹ دیہہ اور وقف شدہ سینکڑوں جائیدادوں پر وقفے وقفے سے قبضے کئے جانے کے واقعات رونما ہو چکے ہیں وہاں شعبہ نزول لینڈ کی 3 کنال قیمتی زمین پر کمرشل عمارتیں، مارکیٹس، پلازے اور دکانیں تعمیر ہو چکی ہیں وہاں نزول لینڈ کی رفاعی عامہ کے مقصد کے لئے دی جانے والی زمین کی بھی قوانین سے ہٹ کر بندر بانٹ کی جا چکی ہیں شعبہ نزول لینڈ کے سٹاف کی رپورٹس کے مطابق موضع اچھرہ میں صوبائی حکومت کی 25825 کنال سے زائد اراضی موجود ہے جس میں رفاعی عامہ کے لئے 3027 کنال زمین اور 16945 کنال سے زائد اراضی مختلف سرکاری محکموں کے زیر استعمال ہے 3 کنال سے زائد اراضی لونگ لیز پر دی جا چکی ہے 2 کنال اراضی خالی پڑی ہے تاہم موضع اچھرہ کا اس لحاظ سے اہم موضع جات میں شمار ہوتا ہے کہ موضع نیاز بیگ کے بعد یہ بھی صوبائی دارالحکومت کے بڑے سرکل میں شمار ہوتا ہے اور اس کی حدود بھی دیگر موضع جات کی حد بندی سے وسیع ہے اور موضع اچھرہ میں سینکڑوں کنال زمین ایسی بھی ہے جن کے مالکان بیرون ملک میں مقیم ہیں یا جن کے وارثان کا کچھ پتہ نہیں ہے ان لاوارث جائیدادوں پر بھی قبضے کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے علاقہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت موضع اچھرہ میں موجود سرکاری زمین کی حفاظت کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے اور ریونیو سٹاف کو ایسے اختیارات دیں جس سے وہ لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی کر سکیں اور سرکاری زمینوں کو تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1