سنی اتحاد کونسل کا اجلاس عوامی مہم 5مارچ سے شروع کرنے کا فیصلہ

سنی اتحاد کونسل کا اجلاس عوامی مہم 5مارچ سے شروع کرنے کا فیصلہ

لاہور(سٹاف رپورٹر) سنی اتحاد کونسل 5 مارچ سے ملک گیر رابطہ عوام مہم شروع کرے گی۔ مہم کے دوران ضلعی سطح پر ورکرز کنونشن منعقد کئے جائیں گے۔ 17مارچ کو سنی اتحاد کونسل کے انتخابی امیدوار داتا دربار پر اجتماعی حاضری دے کر انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔ مارچ کے آخری عشرے کے دوران بڑے شہروں میں بڑے جلسے منعقد کئے جائیں گے۔ وکلائ، تاجروں، طلبائ، مزدوروں اور خواتین کے الگ الگ کنونشن بھی منعقد کئے جائیں گے۔ سنی اتحاد کونسل نے 10رکنی ”الیکشن سیل“ بھی قائم کر دیا ہے۔ اگلے ہفتے سنی اتحاد کونسل کے انتخابی منشور کا اعلان کیا جائے گا۔ سنی اتحاد کونسل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کے ساتھ مل کر الیکشن میں بھرپور حصہ لے گی۔ اس بات کا فیصلہ سنی اتحاد کونسل کے مرکزی دفتر میں انتخابی امیدواروں اور مرکزی و صوبائی عہدیداروں کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ فضل کریم نے کی۔ اجلاس کے اہم شرکاءمیں پیر سیّد محمد اقبال شاہ، مفتی محمد سعید رضوی، صاحبزادہ محمد عمار سعید سلیمانی، مفتی محمد حسیب قادری، محمد نواز کھرل، پیر ضیاءالقاسمی مشہدی، پیر ضیاءالمصطفیٰ حقانی، محمد نواز کھرل، مفتی محمد کریم خان، حاجی رانا شرافت علی قادری، میاں فہیم اختر، پیر سیّد محمد شاہ ہمدانی، صاحبزادہ ارشد نعیمی، سرفراز ڈوگر، الحاج سرفراز تارڑ، بیرسٹر وسیم الحسن نقوی، مفتی صداقت اعوان، علامہ عبدالمجید کوکب سیالوی، صاحبزادہ بشیر احمد یوسفی، صاحبزادہ سیّد صابر گردیزی، ملک شاہد ایڈووکیٹ، رانا حسیب احمد قادری، محمد عثمان غنی، مفتی نذیر احمد اور دیگر شامل تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل جے یو آئی کی اے پی سی کو مسترد کرتی ہے کیونکہ یہ بے معنی مشق ہے اور چالیس ہزار بے گناہ پاکستانیوں کے قاتلوں کو بچانے کی سازش ہے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ فوج کی شمولیت کے بغیر طالبان سے مذاکرات بے معنی ہیں۔ دہشت گردوں کو بھارت اور امریکہ استعمال کر رہے ہیں۔ ڈرون حملے دہشت گرد ختم نہیں، پیدا کر رہے ہیں۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے پیچھے ”غیبی طاقتوں“ کو بے نقاب کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں لوٹا ساز فیکٹریاں بند کرنا ہوں گی۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ مسلح گروہوں کے سامنے جھک جانے والی ریاست مٹ جایا کرتی ہے۔ حکومت کے خاتمے سے 15دن پہلے آل پارٹیز کانفرنس پوائنٹ سکورنگ کے سوا کچھ نہیں۔ قوم چالیس ہزار شہداءکا خون معاف نہیں کر سکتی۔ قوم کو فوج کی قربانیوں پر فخر ہے۔ فوج کی قربانیوں کا سودا نہیں کرنے دیں گے۔ دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات کرنے والے پہلے ان سے پاکستان کا آئین تسلیم کروائیں اور ان کو ہتھیار پھینک کر غیرمسلح ہونے پر رضامند کریں۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے پاک ایران گیس منصوبے اور گوادر کا انتظام چین کے حوالے کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا اور انسداد دہشت گردی بلز کی حمایت کی گئی۔ اجلاس میں منظور کی گئی قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت سندھ میں مزاراتِ اولیاءاور روحانی شخصیات پر حملوں کے ملزمان گرفتار کرے۔ پنجاب حکومت دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کی سرپرستی چھوڑ دے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے۔ گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔ حکومت کالعدم تنظیموں اور دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کرے۔ ایک اور قرارداد کے ذریعے قلات پریس کلب کے صدر محمود آفریدی اور وزیرستان میں معروف صحافی ممتاز ملک کو قتل کرنے کی مذمت کی گئی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1