طالبان سے مذاکرات، ہوں یا نہ ہوں، مولانا فضل الرحمن اہم ہو گئے!

طالبان سے مذاکرات، ہوں یا نہ ہوں، مولانا فضل الرحمن اہم ہو گئے!
طالبان سے مذاکرات، ہوں یا نہ ہوں، مولانا فضل الرحمن اہم ہو گئے!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جمعیت علماءاسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان اپنے والد محترم مفتی محمود سے قطعی مختلف شخصیت ثابت ہو رہے ہیں۔ مفتی محمود ڈپلومیسی سے بہت دور بہت سادہ، صاف گو اور سیدھے سادے بزرگ تھے جو بہت ہی احترام پاتے تھے۔ مولانا فضل الرحمان اتنے ہی ہوشیار، خبردار اور ڈپلومیٹ ہیں۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ طالبان اور دہشت گردی کے حوالے سے ایک سے زیادہ کل جماعتی کانفرنسیں ہو چکیں لیکن جو پذیرائی مولانا کی طرف سے بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس کو ملی، وہ اور کسی کے حصے میں نہیں آئی۔ اب تو طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بھی تعریف و تائید کردی ہے۔ اگرچہ ان کی طرف سے ایک نقطہ رکھا گیا ہے کہ وہ خیر مقدم کرتے ہوئے دہشت گردی کی جگہ بدامنی کے لفظ کو سراہتے ہیں تاہم یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ عسکری قیادت کی طرف سے یقین دہانی ضروری ہے۔ مولانا فرماتے ہیں یہ بھی ضرور ہو گا۔ اب انہوں نے جو گرینڈ جرگہ تشکیل دیا اس نے گورنر خیبر پختون خوا سے بھی ملاقات کر لی اور ایک رکن صادق شیرائی کھل کر کہتے ہیں کہ طالبان معصوم ہیں اور دہشت گردی سازش کے تحت دشمنوں کے آلہ کار کرا رہے ہیں ۔یہاں تک تو جرگہ کی کارر وائی آ گئی، اب آگے کیا ہوتا ہے یہ بھی پتہ چل جائے گا، فی الحال تو حکومت نے کل جماعتی کانفرنس شرکت بھی کی فیصلوں کی تائید بھی کی تاہم رحمان ملک کہتے ہیں کہ ہتھیار رکھے بغیر بات چیت کیسے ممکن ہے؟ اور پھر اب تو نگران حکومت بننے والی ہے جس کے پاس مینڈیٹ بہت محدود ہو گا اس لئے بات تو اگلی منتخب حکومت تک چلی گئی ہے۔ اگر ُاس وقت تک کوئی دہشت گردی نہ ہو تو غنیمت ہو گا اور اثرات بھی مثبت ہوں گے۔ جرگہ کی کارکردگی اور راہ میں حائل مشکلات اپنی جگہ، اصل بات تو یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے عام انتخابات سے قبل ایک دم چھکا مارا اور اہمیت حاصل کرلی ہے۔ اب ان کو خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں کامیابی بھی ملے گی۔ اب بڑی سیاسی جماعتوں کو جمعیت علماءاسلام (ف) کی اہمیت کا احساس زیادہ شدید ہو گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب آصف زرداری مولانا کو کس حد تک راضی کرتے ہیں۔

دوسری طرف حکمران جماعت پیپلزپارٹی کو روز ایک نیا امتحان درپیش ہوتا ہے اور اب اس سے جماعت کا نام بھی چھنتا نظر آتا ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ نہیں اور نہ ہی اسے رجسٹر کرانے کی ضرورت سمجھی گئی۔ پیپلزپارٹی شہید بھٹو کی چیئرپرسن غنویٰ بھٹو نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ان کی درخواست سماعت کے لئے منظور کر لی گئی اس میں اپیل کی گئی ہے کہ پیپلزپارٹی نام کی کوئی جماعت الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹر نہیں، درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ ان کے بچے بانی جماعت ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے اور پوتی ہیں اور جماعت پر ان کا حق ہے اس لئے ان کی جماعت کا نام پیپلزپارٹی رکھنے کی اجازت دے کر ساتھ ہی تلوار کا انتخابی نشان بھی دیا جائے۔ اس سلسلے میں یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر کی ایک درخواست مسترد کی گئی جس میں پیپلزپارٹی کی مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے گوشوارے داخل نہ کرانے اور جماعتی انتخابات نہ کرانے کے عمل کو نظر انداز کرنے اور اس سے درگزر کرنے کو کہا گیا تھا۔

بات یہیں تک نہیں رہی، سابق سینیٹر ڈاکٹر صفدر عباسی اور بلوچستان سے قومی اسمبلی کے پارٹی رکن ناصر شاہ نے پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے حالیہ انتخابات کو بھی چیلنج کردیا اور الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ۔ یوں پیپلزپارٹی کی مشکلات میں اور اضافہ ہو گیا ہے ۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی (پارلیمینٹیرین) کہاں کھڑی ہیں۔ غنویٰ بھٹو کی درخواست منظور ہوئی تو پیپلزپارٹی نام بھی کھو دے گی اور اگر پارلیمینٹیرین کے انتخابات کالعدم ہوئے تو دوسرے انتخابات تک نگران حکومت آ چکی ہو گی اور رجسٹریشن کا کیا بنے گا؟ اس کے لئے فاروق۔ ایچ ۔نائیک سے سوال ہونا چاہئے۔

مزید : تجزیہ