پاکستان میں تمام عدالتیں قانون کی حکمرانی کی علمبردار ہیں ، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری

پاکستان میں تمام عدالتیں قانون کی حکمرانی کی علمبردار ہیں ، چیف جسٹس افتخار ...

اسلام آباد(ثناءنیوز)چےف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان میں تمام عدالتیں قانون کی حکمرانی کی علمبردار ہیں۔رِ حاضر کے مروجہ طریقوں میں جمع شدہ شہادت پر عدالتی کنٹرول ترویجِ انصاف کا اہم جزو ہے۔عدالتی افسران جو کہ فوجداری اِنصاف کی ترویج میں مصروف ہیں کیلئے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف حقیقی اور ضابطے کے قوانین سے روشناس ہوں۔آل پاکستان بشمول آزاد جموں و کشمیر کے ایڈیشنل اور ڈسٹرکٹ سیشن ججز کے سات روزہ تجدید نصاب کورس بعنوان ”فوجداری سماعتِ مقدمہ اور قبولیتِ شہادت “ کی تقریبِ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے چےف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ عصرِ حاضر کے مروجہ طریقوں میں جمع شدہ شہادت پر عدالتی کنٹرول ترویجِ انصاف کا اہم جزو ہے۔مقدمے کی موجودہ شہادتی اصولوں کی بنیاد پر جائز سماعت کیلئے ضروری ہے کہ ایک ایسا غیرجانبدار جج سماعت کی نگرانی کرے جو استغاثہ اور مجرم کے مابین شفاف، واضح اور مواقف توازن قائم رکھ سکتاہو ۔چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے اور انصاف مہیا کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو نہ صرف حاصل شدہ قانونی تحفظات کے متعلق محتاط رہنا چاہئے بلکہ لازمی طور پر جائز سماعتِ مقدمہ کیلئے حال ہی میں شامل کردہ آرٹیکل 10-Aکے مطابق عمل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام عدالتیں قانون کی حکمرانی کی علمبردار ہیں۔مقدمے کی سخت و طویل سماعت کے بعد ایک جج کی کوششیں فیصلے پرمنتج ہوتی ہیں۔ فیصلہ معتبر، تجزیاتی، شہادت پر مبنی اور گرائمر کی غلطیوں سے پاک ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ 2009ءمیں ، قومی عدالتی پالیسی کا نفاذ کیا گیا تھا جس کا ضلعی عدلیہ نے چیلنجوں کو قبول کرتے ہوئے مثبت ردِعمل دیا۔ قومی عدالتی پالیسی کے نفاذ کے بعد التواءمیں پڑے ہوئے مقدمات کی تعداد غیر معمولی حد تک کم ہوئی ہے۔ میں عدالتی افسران کو متوقع اہداف پورے کرنے پر پرخلوص مبارکباد دیتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ وہ اِنصاف کے معیار کو نقصان پہنچائے بغیر التواءمیں پڑے ہوئے مقدمات کو نمٹانے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے اور صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالی کے حصول کیلئے معاشرے کے مظلوم طبقے کو اِنصاف فراہم کریں گے ۔

مزید : صفحہ اول