امریکی عدالت نے ریمنڈڈیوس کو الزام ثابت ہونے پر دو برس قید کی سزا سنادی

امریکی عدالت نے ریمنڈڈیوس کو الزام ثابت ہونے پر دو برس قید کی سزا سنادی

واشنگٹن(ثناءنیوز)امریکا کی ایک عدالت نے بدنام زمانہ امریکی جاسوس ریمنڈ ایلن ڈیوس کو شہری پر تشدد کا الزام ثابت ہونے پر دو برس قید کی سزا سنادی ہے۔عدالت نے ریمنڈ ڈیوس کو مضروب شہری سے معافی بھی مانگنے کا حکم بھی دیا ہے۔ریمنڈ ڈیوس نے 2011 میں پارکنگ کے مسئلے پر شہری پر تشدد کرکے اسے زخمی کردیا تھا۔یادر ہے کہ 27 جنوری 2011 کو پاکستان کے مشرقی صوبے پنجاب کے صدر مقام لاہور کے مصروف علاقے مزنگ چونگی میں واقع قرطبہ چوک کے قریب ایک گاڑی میں سوار امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے موٹرسائیکل پر سوار دو نوجوانوں فیضان اور فہیم کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ اس کی مدد کو آنے والی دوسری کار نے مخالف سمت سے آنے والے ایک اور موٹر سائیکل سوار کو کچل دیا اور وہ موقع پردم توڑگیا تھا۔ واقعہ کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو لاہور پولیس نے گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا تھا،ابتدائی طور پر یہ کیس مقامی عدالت میں چلا تاہم امریکی دبا اور عوامی ردعمل کے بعد حساس نوعیت اختیار کرنے پر اس کیس کی سماعت سنٹرل جیل لاہور میں کی جاتی رہی۔پاکستان کے اس وقت کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بیان دیا تھا کہ لاہور میں دوشہریوں کے قتل کے الزام میں زیرحراست ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنا حاصل نہیں۔سابق وزیرخارجہ کے اس بیان سے باوجود بعض حکومتی عہدے دار امریکا کو خوش کرنے کے لیے ریمنڈ ڈیوس کو سفارت کار ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زورلگا تے رہے تھے تاکہ اسے ویانا کنونشن کے تحت سفارتی استثنا دیا جاسکے۔اس کی رہائی کے لیے مقدمے کی سماعت کے دوران نہ صرف انصاف کا خون کیا گیا ہے بلکہ قانون بھی دیکھتا رہ گیا ہے کہ اس کے ساتھ کیا مذاق ہوا ہے۔کیس کی سماعت کے دوران سفارتی استثنا سمیت کئی قانونی معاملات زیربحث آئے اور مختلف نوعیت کے نشیب و فراز کے بعد بالآخر ڈیڑھ ماہ قید رکھنے کے بعد امریکی قاتل کو رہا کردیا گیا ہے۔مقتولین کے ورثا کے وکیل اسد منظور بٹ نے الزام عائد کیا تھا کہ کیس کی سماعت سے قبل فیضان اور فہیم کے ورثا کوان کے گھروں سے اٹھا کر عدالت میں لایا گیا تھا۔وکلا کو بھی گن پوائنٹ پر روکا گیا اور کوئی بات میڈیا کو بتانے کی صورت میں دھمکیاں دی گئیں۔وکیل کے مطابق ورثا سے زبردستی دیت کے کاغذات پر دستخط کرائے گئے، جس کے بعد پہلے امریکی قونصلیٹ کی چار گاڑیاں روانہ ہوئیں اور بعد میں وکلا کو نکلنے کی اجازت دی گئی۔اڑتیس سالہ ریمنڈ ایلن ڈیوس کا تعلق ورجینیا سے ہے۔وہ امریکا کا سابق خصوصی فوجی ہے اور امریکی فوج میں دس سال تک رہا ہے۔اگست 2003 میں اس نے فوج کو چھوڑ دیا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں اس کے کردار کے بارے میں اس کے سوا کچھ نہیں کہا تھا کہ وہ سفارت خانے کے انتظامی اور ٹیکنیکل سٹاف کا رکن تھا۔

ریمنڈ ڈیوس

مزید : صفحہ آخر