این اے 95گوجرانوالہ تین پارلیمینٹرین اور تین ٹاﺅنز کی انتظامیہ بھی اس حلقے میں خاطر خواہ ترقیاتی کام نہیں کراسکی

این اے 95گوجرانوالہ تین پارلیمینٹرین اور تین ٹاﺅنز کی انتظامیہ بھی اس حلقے ...
این اے 95گوجرانوالہ تین پارلیمینٹرین اور تین ٹاﺅنز کی انتظامیہ بھی اس حلقے میں خاطر خواہ ترقیاتی کام نہیں کراسکی

لاہور(شہباز اکمل جندران، معاونت ،شبیر حسین مغل بیوروچیف)قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 95میں میدان سج گیا، سیاسی پہلوانوں نے لنگ لنگوٹ کس لیے ،ووٹر بھی پانچ برسوں میں حل نہ ہونے والے مسائل کے حل کی امیدلگا بیٹھے ۔ قومی اسمبلی حلقہ این اے 95 گوجرانولہ شہر کے شمال مشرقی و مغربی علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہ حلقہ قلعہ چند ابائی پاس اعوان چوک ،عالم چوک کنگنی والا ،فیروز والہ اور چھچھروالی بائی پاس سے اندر اندر جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف پر واقع ہے یہ شہر کا گنجان ترین حلقہ ہے جس میں انصار ی، آرائیں ، مغل اورکمبوہ برادری کی اکثریت آباد ہے جبکہ کشمیری ، راجپوت ،ملک ، جٹ ،گجر ،رحمانی ،قریشی سمیت دیگر برادریاں بھی موجودہیں یہ حلقہ بائی پاسز کے اندرون واقع ہونے کی وجہ سے اس حلقے کے زرعی رقبے میں تیزی سے کمی ہوئی ہے سےنکڑوں آبادیاں محلہ جات بن چکے ہیں جبکہ نئی آبادیوں کی وجہ سے یہ حلقہ مسائلستان بنا ہوا ہے۔ کہیں سڑک نہیں تو کہیں بجلی گیس ، سیوریج ،واٹر سپلائی ،سکول ،کالج ڈسپنسری نہ ہے، گلیاں محلے کچے ہیں تو سٹریٹ لائیٹس نہیں ہے اندرون شہری گنجان آبادیوں میں اگر سےوریج کا نظام ہے تو ناکارہ سےوریج،سسٹم بند ہونے سے گندہ پانی لوگوں کے گھروں ،بازاروں مارکیٹوں، سڑکوں چوراہوں میں کھڑا شہریوں کے لئے ؑعذاب سے کم نہ ہے اس حلقہ سے دومرتبہ ایم پی اے اور گزشتہ انتخابات مےں ایم این اے بننے والے بےرسڑ عثمان ابراہےم انصاری صوبائی وزیر تعلیم رہ چکے ہےں مگر اس حلقہ کے تعلیمی اداروں کی حالت نہ بدل سکے اور آج بھی اس حلقہ کے سکولوں کی جہاں حالت خستہ ہے وہاں آ ج بھی بہت سے سکول بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ جدید دور میں غریب عوام بچوں کو تعلیم دلانے میں ناکام ہےں ۔ یہ علاقہ صوبائی دارالحکومت لاہور سے74 اور وفاقی دار الحکومت سے285 کلو میٹر کی دوری پر پنجاب کا اہم ترین ڈویژنل ہےڈکوار ٹر اور ملک کا اہم ترین صعنتی کاروباری ضلع ہونے کے باوجود کسی دور دراز کے پسماندہ علاقہ سے بھی گےا گزرا اور لاوارث نظر آتاہے ۔ یہ حلقہ مشرف دور سے قبل میونسپل کارپوریشن میں شامل تھا بعد ازاں میونسپل کارپوریشن ختم کرکے شہر کے دو قومی اور چار صوبائی حلقہ جات کو شہری و دیہاتی حلقہ جات یعنی دو تحصیلوں تحصیل سٹی اور تحصیل صدرکو چار ٹاونز میں تقسیم کر کے کھیالی ٹاون ،نندی پور ٹاون ،قلعہ دیدار سنگھ ٹاون اور اروپ ٹاون بنادئیے گئے قومی اسمبلی این اے 95 میں ،کھیالی ٹاون ،نندی پور ٹاون ،قلعہ دیدار سنگھ ٹاون کے کافی علاقے شامل ہیں جبکہ ان ٹاونز میں دیہاتی علاقے بھی شامل ہیں تین ٹاونز کی انتظامیہ بھی اس حلقہ میں کوئی خاطر خواہ ترقےاتی کام نہ کرواسکی ہے اور عوام آج بھی بنیادی مسائل کا شکار ہیں۔اس حلقہ کے ساتھ دو صوبائی حلقہ جات پی پی 91اور پی پی92 شامل ہیں تین ٹاونز کی انتظامیہ اور تین پارلیمنٹرین کا یہ حلقہ موجودہ دور میں بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ۔گوجرانوالہ کے اس حلقہ میں سیاسی صورت حال بہت خطرناک صورت اختیار کرتی جارہی ہے اور جاری سےاسی کشیدگی کا حل نہ نکلا تو اس کا اثرشہر کے دوسرئے حلقوں پر بھی پڑ ے گا اور پیپلز پارٹی اورمسلم ن لیگ کے اندر گوجرانوالہ میں دو دو دھڑے بن سکتے ہیں جس کا دونوں بڑی جماعتوں کو کا دیگر چھوٹی اور موسمی پارٹیوں کو یا آذاد امیدواروں کوفائدہ پہنچ سکتا ہے۔ این اے 95 میں 2008ءانتخابات کے مسلم لیگ ن کے امیدوار بیرسٹر عثما ن ابراہیم نے 51705 ووٹ لےکر کامیابی حاصل کی تھے جبکہ پی پی پی کے چوہدری ذیشان الیاس نے کئے تھے ۔ حالات بدل چکے ہیں جن کا عملی مظاہرہ چند ماہ اس قومی اسمبلی کے ایک صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں دےکھنے کو مل چکا ہے ۔آئندہ انتحابات میں این اے 95 میں مسلم لیگ ن کی طرف سے موجودہ ایم این اے سابق وزیر تعلیم بیرسڑ عثما ن ابراہیم انصاری، پی پی پی سے چوہدری محمد صدیق ،تحریک انصاف سے علی اشرف ، محمد اشرف کریمی ،عمران اللہ چوہدری سابق ایم این ائے، مہر محمد سلیم سابق ایم پی ائے، چوہدری خالد ظفر سانسی اورجماعت اسلامی کی طرف سے طارق جاوید بٹ امیدوار ہیں ۔ اس حلقہ میں پی پی پی کے چوہدری محمد صدیق اور ن لیگ کے ایم این اے بیرسٹر عثمان ابراہےم انصاری کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے تاہم اختلافات کی وجہ سے دونوں بڑی جماعتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار قومی اسمبلی کا اپنے صوبائی اسمبلی کے امیدواروں موجودہ اےم پی ایز عمران خالدبٹ اور محمد نواز چوہان سے نہ بن پاتی ہے کیونکہ بےرسٹر عثمان ابراہیم انصاری جو کہ شرافت اور صاف ستھری سیاست کے گوجرانوالہ میں علمبردار ہیں، اس حلقہ میں اپنی انصاری برادری کی اکثریت کے باوجود دےگر برادریوں کو بھی ساتھ لےکر چلنے کے خواہش مند ہیں وہ گزشتہ دوتین سال سے صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی 91 سے کشمیری برادری کے نوجوان مسلم لیگی سماجی ورکر اور عوام دوست رضوان اسلم بٹ کو لانا چاہتے ہیں اور پی پی 92 میں مغل برادری جوکہ اس حلقہ کی اکثریتی اور مسلم لیگ کی نظرےاتی برادری ہے میں سے محمد عمر مغل یا عاصم انیس کو لانا چاہتے ہیں مگر مسلم لیگ ن گوجرانولہ کی ایک اہم ترین شخصیت ، اس حلقہ میں مداخلت کرکے انہیں چلنے نہ دے اس حلقہ کے ایم این ائے عثمان ابراہیم ،اور خان غلام دستگیر خان کے درمیان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف ،میاں شہباز شریف اورحمزہ شہباز مصالحت کرواچکے ہیں مگر دل کی کرواتیں ختم نہیں ہوسکی ہیں ایک اطلاع کے مطابق آنے والے انتخابات میں اگرایم این ائے عثمان ابراہیم انصاری کی مرضی کے بغیر ان کے صوبائی حلقوں میں ٹکٹ دئے گئے تو عثمان ابراہیم انصاری مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کو واپس کرکے پی ٹی آئی میں چھلانگ مار کر یاآذاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑ کر نتائج کو بدل سکتے ہیں ۔ یہی حال پی پی پی کا ہے اس حلقہ مےں پی پی پی کو چوہدری محمد صدیق بڑے اچھے قائد ملے ہیں جنہوں نے پارٹی کو گوجرانوالہ مےں زندہ و تابندہ کر رکھا ہے مگر لالہ محمد ادریس مرحوم کی وفات کے بعد سے سٹی صدارت کی وجہ سے شروع ہونے والی جنگ حالیہ ضمنی انتخابات میں پی پی پی کی اصل طاقت بنک ووٹ آارئیں برادری دوگروپوں میں تقسیم ہوگئی ،اور پی پی پی کے اندر اتحاد گروپ بن چکا ہے ۔اگر پارٹی قےادت نے نوٹس نہ لیا تو چوہدری صدیق جیسے پارٹی کے مخلص ساتھی کو شدےد نقصان اٹھانا پڑئے گا جبکہ اس کا فائدہ تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے امیدوار چوہدری خالد ظفر سانسی کوجو پیپلز پارٹی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں فائدہ ہوسکتا ہے ۔پی پی 91 گوجرانوالہ سٹی 1 کا حلقہ گوجرانوالہ شہر کا شمال مشرقی حلقہ ہے جو کہ جی ٹی روڈ کے مشرق کی طرف کے علاقہ جات پرمشتمل ہے جس میں اندرونی بائی پاس کنگنی والا سے شیرانوالہ باغ سے پونڈانوالہ فرید ٹاون ،پیپلز کالونی چمن شاہ ،وحدت کالونی ،رانا کالونی ،اصغر کالونی بہاری ،کالونی صدیق ،کالونی ،کچی و پکی پمپ والی سمیت اسد کالونی ، محلہ بختے والا سمیت دےگر آبادیاں شامل ہیں ۔اس حلقہ میں پیپلزپارٹی کی طر ف سے رانا فیصل رﺅف مسلم لیگ ن کی طرف سے عمران خالد بٹ ایم پی اے ، رضوان اسلم بٹ ،خواجہ طارق جاوید نائیک، تحریک انصاف کی طرف سے چوہدری ا ظہر محمودچیمہ ، امیدوار ہیں جبکہ جماعت اسلامی کی طرف سے تاحال کوئی امیدوار سامنے نہ آیا ہے۔ اس حلقہ میں اکثریتی برادری جٹ اورکمبوہ ہیں شیخ ،مغل، ملک، گجر، آرائیں غفاری قریشی،راجپوت سمیت کشمیری مہاجرین اور بہاری مہاجرین بھی کثیر تعداد میں مقیم ہیں۔ کمبوہ برادری نے مسلم لیگ ق چھوڑ کر سابق ایم پی ائے محمد اشرف کمبوہ کی قیادت میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرکے ٹکٹ کے لئے بھاگ دوڑ شروع کر دی ہے تاہم اس حلقہ میں مسلم لیگ ن کے نوجوان راہنما رضوان اسلم بٹ کی پارٹی اور سماجی خدمات کی وجہ سے مضبوط امیدوار ہیں ۔رضوان اسلم بٹ نے نہ صرف حلقہ کو مسلم لیگ کامضبوط قلعہ بنایا ہے بلکہ حلقہ کے ایم این اے کے ساتھ شانہ بشانہ کام کر کے ترقیاتی کام کروائے ۔انہیں مسلم لیگ کی شہر کی بڑی شخصےت کی بھی حمایت حاصل ہے کیونکہ موجودہ ایم پی ائے پومی بٹ برادران کا روایہ طریقہ کار بڑے خان صاحب کو بھی پسند نہ ہے موجودہ مسلم لےگی ایم پی اے کی اپنے کارکنان کے ساتھ زیادتیوں سے کارکنان تنگ آ چکے ہیں ۔ اس حلقہ میں تحریک انصا ف کے مضبوط امیدوار چوہدری اظہر محمود چیمہ ہیں اس حلقہ میں جٹ برادری کی اکثریت بھی رہائش پذیر ہے جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار اظہر محمود چیمہ کا شماربھی جٹ برادری کی اہم ترین شخصیات میں ہوتا ہے جس کہ وجہ سے جٹ برادری اور نوجوانوں کے ووٹ ایک نظریاتی اور ہمدرد امیدوار ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کے امیدوار اظہر محمود چیمہ کو ملنے کے امکانا ت موجود ہیں ، صوبائی اسمبلی پی پی 92 گوجرانوالہ سٹی2 حلقہ بھی اندرون شہر شمال مغربی حصہ پر جو کہ جی ٹی روڈ کے مغرب میں واقع ہے بڑا گنجان آباد اور انڈسڑیل علاقہ ہے اس حلقہ میں مغل ،انصاری ،آرائیں ،برادریوں کی اکثریت آباد ہے جبکہ دوسری برادریاں بھی اس حلقہ میں مقیم ہیں اس حلقہ کے بھی وہی مسائل ہیں تاہم اس حلقہ میں سیاست گروپ بندی کا شکار ہو کر سخت صورت حال اختیار کر چکی ہے یہاںمیں پیپلزپارٹی کی طر ف سے لالہ اسد اللہ پاپا اور ناراض گروپ سے صلح ہونے کی صورت میں اتحاد گروپ میں آرائیں برادری سے مہر محمد ریاض یا مہر محمد سرفرازامیدوار ہوسکتے ہیں۔ اس حلقہ میں مسلم لیگ ن کی طر ف سے نواز چوہان ایم پی اے عاصم انیس ، محمد عمر مغل امید وار ہیں تاہم یہاں مغل برادری کی اکثریت ہونے کی وجہ سے حالیہ ضمنی انتخابات میں میاں نواز شریف حمزہ شہباز شریف اور خادم اعلی نے مغل برادری کے عاصم انیس سے وعدہ کررکھا ہے اور اس حلقہ میں مغل برادری کا مرکزی کردار ہوگا جبکہ ضمنی الیکشن میں کامیاب ہونے والے نواز چوہان یونین کونسل کا الیکشن لڑنے کی طاقت نہ بھی نہیں رکھتے اس حلقہ میں مسلم لیگ کی قیادت اگر پارٹی ٹکٹ مغل برادری کو دے دے اور محمد عمر مغل ،عاصم انیس آپس میں ملکر فےصلہ کر لیں تو بہت بہتر ہوگابہرحال سیاسی لحاظ سے عاصم انیس مسلم لیگ ن کے لئے مضبوط ترین امیدوار ہیں کیو نکہ ان کے والد بابو محمد رفیق چیئر مین مرحوم کا شہر کی سیاست اور خصوصا کھیالی کی سیاست میں ایک نام اور مقام ہے جبکہ عاصم انیس خود ناظم رہنے اور دیگر دوتین ےونین کونسل میں بے حد مقبول ہیں اور دس سے پندرہ ہزار ووٹ بنک اپنے ساتھ لیکر انتخابی مہم سے قبل میدان میں اترآئے ہیں برادری اور پارٹی ٹکٹ دوست احباب اور تعلق واسطے کا و وٹ انکی کامیابی واضح کرتا ہے،حالیہ ضمنی الیکشن میں پی پی پی کے اندر سے سٹی صدارت کی وجہ سے جو جھگڑا شروع ہواتھا اسے حل کروانے کے لئے کسی نے بھی تاحال کوئی کردار ادا نہ کیا ہے ۔پی پی پی کے پاس آرائیں برادری کا ووٹ بنک ہوتا تھا مگر حاجی امان اللہ مرحو م پھر خالد ہمایوں اور لالہ ادریس کی وفات کے بعد یہ حلقہ پی پی پی کا لاوارث حلقہ ہوگیاہے ۔ لالہ اسد اللہ پاپا کے سٹی صدر بننے کے بعد اختلافات شدت اختیار کر گئے، ضمنی الیکشن میں آرائیں برادری اور پی پی پی کے اہم راہنماوں نے کھلم کھلا پی پی پی کی مخالفت کی اور آرائیں برادری ہی سے آزادامید وار مہر محمد سرفراز کو کھڑا کر کے اتحاد گروپ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا تھا اس الیکشن میں آرائیں برادری کے سابق ایم پی اے مہر محمد سلیم نے جو کہ اب پی ٹی آئی میں شامل ہیں، مہر محمد سرفراز کی انتخابی مہم میں بڑا کردار ادا کیا تھا۔ اختلافات اسی طرح قائم رہے تو تحریک انصاف کی طرف سے محمود اسلم خان ،اور ڈاکٹر حمےد جماعت اسلامی سے رضوان احمد چیمہ امیدوار ہونگے ہر ہال اس حلقہ میں مسلم لیگ ن کی پوزےشن بہتر ہے۔

مزید : الیکشن ۲۰۱۳

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...