آیا آیا وڈا تھانے دار آیا !

آیا آیا وڈا تھانے دار آیا !
آیا آیا وڈا تھانے دار آیا !

  

روایات میں آتا ہے کہ غریبوں، محکوموں اور مظلوموں کے کسی علاقے میں نیا تھانے دار تھانہ سنبھال کے اپنے شیر جوانوں کوسب سے پہلا حکم دیتا تھا کہ وہ بازار میں جائیں اور وہاں نظر آنے والے تمام لوگوں کو لمے پاءکے چھتر لگائیں، یہ اس امر کا اعلان ہوتا تھا کہ نئے حاکم نے حکومت سنبھال لی ہے اور تمام کن ٹٹے تھانے میں حاضر ہو کے حاضری ہی نہ لگوا ئیں بلکہ اپنے اپنے نئے رجسٹر بھی کھلوا لیں جہاں ان کی طرف سے روزانہ یا ماہانہ بنیادوں پرخدمت جمع کرنے کا ریکارڈ رکھا جا سکے۔ ایسی روایات پرانے زمانے کی ہوتی تھیں جبکہ موجودہ دور جمہوری ہے اور جمہوری دور میں آئین ، قانون اور عوام کی حکومت ہوتی ہے اس لئے کوئی سرعام چھتر لگائے تو میڈیا اس کی تصویریں بنا لیتا اورعدلیہ اس کا نوٹس لے لیتی ہے لہذا اب صرف چھتر لگا نے پر انحصار معیوب سمجھا جاتا ہے، ہمارے شہر میںنئے وڈے تھانے دارصاب یعنی سی سی پی او نے سرگودھا سے لاہور آ کے چارج سنبھالتے ہی شہر بھر کے تھانے داروںکو حکم دے دیا کہ شہر بھر کی موٹر سائےکلیں پکڑ لو، پُلس نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف تیرہ دنوں میں ساڑھے پچیس ہزار موٹرسائیکلیں پکڑ کے تھانوں میں بند کر دیں۔ وڈے تھانے دار کی ذاتی تحقیق کے مطابق اسی فیصد جرائم موٹرسائیکلوں کے ذریعے ہی ہوتے ہیں لہذا وہ تمام موٹرسائیکلیں پکڑ کر تھانوں میں بند کر دی گئیں جن کی رجسٹریشن نہیں ہوئی تھی یا رجسٹریشن ہوئی تھی تو انہوںنے چوری یا گم ہونے کے ڈر سے کاغذات موٹرسائیکل کے ساتھ نہیں رکھے ہوئے تھے۔اس طرح شہر کے کم از کم ساڑھے پچیس ہزار خاندانوں کو علم ہو گیا ہے کہ شہر میں نئے وڈے تھانے دار صاب نازل ہو گئے ہیں، ان میں سے کئی لوگوں کی نئی موٹر سائیکلوں کے سپیئر پارٹس بحق سرکار ضبط کر لئے گئے اور انہوں نے وڈے تھانے دار کی سلامی کے نام پر ایک سے تین ہزار روپے مقامی تھانے میں بطور سی سی پی او ٹیکس جمع کروا کے اپنی موٹرسائیکلیں واگزار کروالیں، اگر میں اس ٹیکس کی اوسط ایک ہزار روپے بھی نکالوں توشیر جوانوں نے صرف تیرہ دنوں میں ساڑھے پچیس لاکھ روپے اکٹھے کر لئے، ویسے مجھے مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اوسط کو دوگنا کر دینا چاہئے اور یہ رقم اکاون لاکھ ہی ہو گی، جیسے پرانے بھلے زمانوں میں اکاون روپے نئے نویلے دولہا کو سلامی ملا کرتی تھی، اسی طرح آج مہنگائی کے دور میں نئے سی سی پی او کی آمد پر پُلس نے اکاون لاکھ روپے سلامی وصول کر لی ہے تو روایات کی ہی پاسداری کی ہے۔

ہمارے وڈے تھانے دار کی تحقیق ہے کہ اسی فیصد جرائم موٹرسائیکلوں والے کرتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو جون ،جولائی کی جھلسا دینے والی لُو اور دسمبر ، جنوری کی ٹھٹھرا دینے والی سردی ہی نہیں بلکہ بارشوں کے موسم کو بھی مکمل طور پر انجوائے کرنے کے لئے موٹرسائیکل پر سواری کرتے ہیں، ہاں یہ وہی لوگ ہیں جو گاڑی رکھنے کی ہمت نہیں رکھتے ،گاڑی رکھنے کی ہمت وہی نہیں کرپاتے جو اس کی قیمت اور پٹرول کا خرچ برداشت نہیں کرتے ، اگر یہ لوگ گاڑی افورڈ کر سکتے تو پُلس ان کو ہرگز نہ روکتی ۔ اگر ہمارے وڈے تھانے دار کی تحقیق درست ہے تو انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ باقی بیس فیصد جرائم کون کرتے ہیں۔ ان میں پیدل چلنے والے بھی ہیں، گاڑیوں والے بھی ہیں اور جہازوں والے بھی ہیں۔ تھانے اور ایس ایچ او چونکہ زمین پر پائے جاتے ہیںلہذا وہ جہازوں والوں کے جرائم تو دیکھ ہی نہیں سکتے اور اگر دیکھ بھی لےں تو وہ اتنی ” اوپر“ ہوتے ہیں کہ انہیں پکڑ نہیں سکتے، ہاں باقی بیس صد جرائم میں سے اٹھارہ فیصد تو لازمی طور پر پیدل چلنے والے کرتے ہوں گے اور یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات پولیس پیدل چلنے والوں کے شناختی کارڈ وغیرہ چیک اور منہ وغیرہ بھی احتیاطاً سونگھتی رہتی ہے۔ باقی رہ گئے گاڑیوں والے تو ان میں سے بہت سارے خود یا ان کے چاچے مامے حکومتوں یا بیوروکریسی میں ہوتے ہیں ، اگر وہ بڑی بڑی گاڑیوں پر کالے شیشے لگا کے گھومتے رہیں تو انہیں پوچھ کر شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت ہی نہیں، کئی گاڑیاں تو شہر میں ایسی بھی گھومتی ہیں جن کی کھڑکیوں میں سے بندوقوں کی نالیاں باہر نکلی ہوئی نظر آتی ہیں، پولیس ان سے کوئی بھی تعرض اس لئے نہیں کرتی کہ پولیس کے پاس بھی اسلحہ ہے اور ان گاڑیوںمیں گھومنے والوں کے پاس بھی ، اگر انہوںنے کوئی قدم اٹھا تو شہر میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے اورپولیس شہر میں امن و امان یقینی بنانے کے لئے ہوتی ہے، امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے کے لئے نہیں۔ ان کے پاس اعداد و شمارموجود ہیں کہ ساڑھے پچیس ہزار موٹرسائیکلیں بند کر نے سے پچھلے سال کے مقابلے میں اس برس تقریباً دس فیصد کم جرائم ہوئے، اب میری تجویز تو یہ ہے کہ اگر وہ اڑھائی لاکھ کے لگ بھگ موٹرسائیکلیں تھانوں میں بند کر لیں تو یقینی طور پر ننانوے فیصد جرائم پر قابو پا لیں گے۔

ہمارے وڈے تھانے دار کے مطابق پُلس اس لئے خراب ہے کیونکہ ہماراپورا معاشرہ ہی خراب ہے۔ اب اگر ہم نے پُلس کو ٹھیک کرنا ہے تو پہلے ہمیں اپنے معاشرے کو ٹھیک کرنا ہوگا اور معاشرے کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری جس سونامی نے رضاکارانہ طو رپر اٹھائی تھی اس کے اپنے ذاتی الیکشنوں میں ہی اگر حاسدوںکے مطابق غلط بندے منتخب ہو گئے ہیں تو اس میں کوئی دوسرا کیا کر سکتا ہے۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ سونامی آئے اور جواب میں، میں نے بڑے میاں صاحب کو خود کہتے ہوئے سنا کہ اللہ نہ کرے کہ کہیں بھی سونامی آئے ، اب بندہ معاشرہ ٹھیک کرائے یا سونامی سے جان بچائے ، یہاں ہمارے خادم اعلیٰ بھی تو غلط نہیں کہتے، انہوں نے جمعے کے مبارک روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کچھ نہیں کہتے مگر انقلاب لانے والوں کا جو صدر منتخب ہوا ہے ، وہ ہے ”ق“،”ب“،” ض “ اور ”ہ“ ۔ ان حروف تہجی کو الگ الگ ادا کرنے کے بعد انہوں نے انہیں ملانے اوربھگتنے کی ذمہ داری سننے والوں پر ڈال دی ہے مگر مزے کی بات یہ ہے کہ سونامی کے جنرل سیکرٹری کے بارے میں انہوں نے پورا لفظ ہی بیان کر دیا ، اسے توڑ کے قاف، الف، تے اور لام نہیں کہا۔ایک ملاقات میں،میں نے ان سے کہا کہ آپ نے ڈینگی کو تو قابو کر لیا مگر تھانے دار کو قابو نہیں کر سکے حالانکہ تھانے دار اپنے وجود میںمچھر سے بہت بڑا ہونے کے باوجود حکمرانوں سے بہت ڈرتا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ تھانے اور کچہری کا کلچر تبدیل نہیں کرسکے ۔خیر،بات یہاں خادم اعلیٰ کی نہیں بلکہ وڈے تھانے دار کے نظریات کی ہو رہی ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ پولیس کے تھانے کاکلچر، علاقے کے کلچر کے عین مطابق ہوتا ہے، انہوں نے دلیل بھی دی کہ ڈیفنس کے تھانے کا کلچر ڈیفنس کے مطابق اور بھاٹی کے تھانے کا کلچر بھاٹی کے مطابق ہی ہوگا۔ میرا دل کر رہا ہے کہ میں ٹبی سٹی تھانے کا کلچر جا کے دیکھوں کہ وہاں ایس ایچ او کی چال ڈھال، رنگ روپ اور کردار کیسا ہے، کیا وہ ٹھمکے وغیرہ لگا لیتا ہے یا نہیں۔ ویسے وڈے تھانے دار کی اس بات کا مطلب تو یہ ہوا کہ پولیس کا اپنا کوئی کلچر نہیں ہوتا حالانکہ اس کا سب سے بڑا ثقافتی مظہر ” چھتر“ اورگالیوں کی زبان ہر جگہ غریب کے لئے ایک جیسی ہی ہوتی ہے اور امیروں کے لئے ہر جگہ الگ وی آئی پی کلچر ہوتاہے۔

میں نے شہر کے کوتوال سے کہا کہ ایف آئی آر درج نہیں ہوتی تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کی ذمہ داری بھی معاشرے پر ہے۔ لوگ جھوٹی ایف آئی آر درج کروانا چاہتے ہیں مگراللہ کے خوف سے لرزتے اور مخلوق کی خدمت کے جذبے سے سرشار ایس ایچ او معصوم لوگوںکو جھوٹے پرچوں میں نہیں پھنسانا چاہتے ، یہی وجہ ہے کہ وہ ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ میں چونکہ خود کو بہت عالم فاضل نہیں سمجھتا اس لئے ان سے پوچھ لیا کہ حضورکیاایف آئی آر کو انگریزی میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ ہی نہیں کہتے، کیا پہلی اطلاع پر رپورٹ درج نہ کرنا اور اینٹی کرپشن اور ایف آئی آر کے قواعد کے مطابق تحقیقات کے بعد ایف آئی آر کا اندراج جائز ہے، انہوں نے فتویٰ دیا کہ یہ عین جائز ہے جس کے بعد میرا منہ بند ہو گیا۔ شہر کے وڈے تھانے دار کہتے ہیں کہ پولیس میں صرف او ر صرف میرٹ پر عہدے دئیے جا رہے ہیں اور اس کی سب سے بڑی مثال وہ خود ہیں کہ ان کے پاس کوئی سفارش نہیں تھی مگر وہ صوبائی دارالحکومت کے کوتوال لگ گئے ہیں۔ کوتوال شہر نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے پُلس کا امیج درست کرنے کے لئے اٹھارہ نکاتی پروگرام ہی نہیں دیا بلکہ خود بھی اٹھارہ، اٹھارہ گھنٹے کام کر رہے ہیں، شکر ہے وہ چھ گھنٹے سوتے ہیں ورنہ تیرہ دنوں میں ساڑھے چھ ہزار موٹرسائیکلیں مزید بند ہوگئی ہوتیں۔

مزید : کالم