کراچی میں دو دھماکے ،50افراد جاں بحق ،سواسو سے زائدزخمی ، ملزم گرفتار ،گناہ مان لیا ،کل سرکاری سوگ ،قومی پرچم سرنگوں رہے گا ،شاہرِ قائد میں ہڑتال ، تجارتی و تعلیمی ادارے بند ،امتحانات ملتوی

کراچی میں دو دھماکے ،50افراد جاں بحق ،سواسو سے زائدزخمی ، ملزم گرفتار ،گناہ ...
کراچی میں دو دھماکے ،50افراد جاں بحق ،سواسو سے زائدزخمی ، ملزم گرفتار ،گناہ مان لیا ،کل سرکاری سوگ ،قومی پرچم سرنگوں رہے گا ،شاہرِ قائد میں ہڑتال ، تجارتی و تعلیمی ادارے بند ،امتحانات ملتوی

  

کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ابوالحسن اصفہانی روڈ پر عباس ٹاون میں یکے بعد دیگرے دو دھماکوں میں خواتین اور بچوں سمیت50 سے زائدافراد جاں بحق اور130 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر شہلا رضا کی بھاوج ، بہنوئی اور ان کا ایک بچہ بھی جاں بحق ہوا ہے۔ صدر ، وزیر اعظم اور سندھ کے وزیر اعلی اور گورنر نے اس سانحہ کی پُر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آج پیر کو سوگ منانے جبکہ شیعہ تنظیموں اور وکلاءنے ہرتال کا اعلان کر دیا ہے جس کی تاجرو ٹرانسپورٹ تنظیموں نے حمایت کی ہے جس کے پیش نظر سندھ آسمبلی کا اجلاس آج ہونے والے امتحانات بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سانحہ میں 47افراد جاں بحق اور 130سے زائد زخمی ہوگئے ، غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 55ہے ۔شیعہ تنظیم ، وحدت المسلیمین نے بھی 55ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جبکہ سیکریٹری صحت کا کہنا ہے کہ 40سے زائد جاں بحق اور 135زخمی ہوئے ہیں۔ اتوار کی شام عباس ٹاﺅن کے داخلی دروازے پر مغرب کی نماز کے فوری بعد زوردار دھماکے کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی اور دھواںاٹھنا شروع ہوگیا۔ ابھی مقامی افراد اور کچھ پولیس اہلکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے کہ مسجد کے گیٹ پر دھماکہ کیاگیا جس نے بڑی تعداد میں لوگوں کو لپیٹ میں لے لیا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ علاقہ گنجان آباد ہونے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات بیان کی جاتی ہیں۔ دھماکوں کی آواز دور دور تک سنی گئی اوربہت سی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پولیس کے مطابق پہلا دھماکہ ریموٹ کنٹرول ڈ یوائس سے کیا گیا جبکہ دوسرا گاڑی میں گیس کا سلنڈر پھٹنے سے ہوا جس سے واپڈا کے ٹرانسفارمر میں بھی آگ لگ گئی اور شعلے بھڑک اٹھے جنہوں نے مقامی عمارتوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں دو سو گھر ، ڈیرھ سو دوکانیں اوردو بینک تباہ ہو گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے نمازیوں کونشانہ بنایا ہے۔ بم ڈسپوزل اسکورڈ کے مطابق دھماکے کے لیے ڈیرھ سو کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جس سے 10 فٹ گہرا اور چار فٹ چوڑا گہرا پڑ گیا ہے۔ دھماکے کے بعد جائے وقوع پر کافی تعداد میں لوگوں کا رش لگ گیا جن کا کہناتھا کہ وہ اپنے پیاروں کو ڈھو نڈ رہے ہیں۔ کسی کا بھائی نہیں مل رہا ، کسی کا بچہ نہیں رہا۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ دس کلومیٹر دور تک س±نا گیا اوردوسرا دھماکہ اس وقت ہوا جب نمازی مسجد سے باہر نکل رہے تھے اور ایسا لگا کہ جیسے ز لزلہ آگیا ہواس کے ساتھ ہی افرا تفری مچ گئی۔زخمیوں میں خواتین ، بچے اور معمر افراد بھی شامل ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق صدر آصف علی زرداری ، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور گورنر سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ صدر نے سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کے علاج معالجے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔صدر زرداری نے جاں بحق ہونے والوں کیلئے فی کس پندرہ جبکہ زخمیوں کیلئے دس لاکھ روپے امداد کا اعلان بھی کیا۔وزیر اعظم نے کل کی تمام مصروفیات منسوخ کردی ہیں اوران کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں ملک دشمن عناصر ملوث ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین نے وقع کی  مذمت کرتے ہوئے دس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔سندھ حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ نے سرکاری طور پرسوگ مانے اور سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے ، پنجاب حکومت نے بھی کل ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے،ملک بھر کی وکلاءتنظیموں،جعفریہ الائنس نے کل ہڑتال اور ایم کیو ایم نے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں دوکانیں اور مارکیٹ بند کر دی گئی ہیں اور کل بھی تجارتی و تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سوگ اور ہرتال کی وجہ سے سندھ آسمبلی کا اجلاس بھی بدھ تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے جائے وقوعہ سے ایک مشکوک شخص کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا ہے جس نے اس دھماکے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے جبکہ اس کا تعلق پشاور سے بتایا گیا ہے۔

مزید : قومی /Headlines