پاکستان کامعروف دربار جہاں درجنوں مگرمچھ بستے ہیں لیکن کسی انسان پر حملہ نہیں کرتے اور جو چیز دی جائے کھالیتے ہیں کیونکہ۔۔

پاکستان کامعروف دربار جہاں درجنوں مگرمچھ بستے ہیں لیکن کسی انسان پر حملہ ...
پاکستان کامعروف دربار جہاں درجنوں مگرمچھ بستے ہیں لیکن کسی انسان پر حملہ نہیں کرتے اور جو چیز دی جائے کھالیتے ہیں کیونکہ۔۔

  

کراچی(نیوزڈیسک)منگھو پیر کا نام تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگاجو کہ کراچی کی ایک معروف جگہ ہے۔اس کی ایک وجہ شہرت ایک صوفی کامزار ہے جسے ’پیر منگھو‘کہاجاتا ہے۔اسی مزار کے احاطہ میں ایک وسیع وعریض تالاب ہے جس میں درجنوں مگرمچھ رہتے ہیں جنہیں لوگ کھانے پینے کی چیزیں دیتے رہتے ہیں۔

مگرمچھ کے بارے میں سب جاتے ہیں کہ یہ انسانوں اور دیگر جانوروں پر حملہ کرکے انہیں نگل سکتا ہے لیکن یہاں موجود مگرمچھ کبھی بھی کسی انسان پر حملہ آور نہیں ہوتے بلکہ انہیں دیکھنے کے لئے آنے والے لوگ جو بھی کھانے کو دیتے ہیں وہ مگرمچھ بخوشی کھالیتے ہیں۔چاہے آپ انہیں گوشت دیں یا کوئی مٹھائی، یہ فوراًکھاجاتے ہیں۔انیسویں صدی کی برطانوی راج کی تاریخ میں اس کے بارے میں بتایا گیا ہے جبکہ مورخین کا کہنا ہے کہ یہ مگرمچھ یہاں صدیوں سے موجود ہیں۔منگھو پر کراچی کی مکرانی اور شہیدی کمیونٹی کے پیر ہیں جن میں سے اکثر لوگوں کو افریقہ سے عربوں،ترک،فارسی اور یورپی لوگ بطور غلام لائے تھے۔ہر سال شہیدی لوگ اپنے افریقی ہونے کا فخر ایک میلے کی صورت میں مناتے ہیں۔مشہور ہے کہ 13ویں صدی میں جب عراق پر منگولوں کا حملہ ہوا تو پیرمنگھو کراچی میں آکر بس گئے۔اس وقت کراچی ایک گاؤں تھا اور جس جگہ منگھو ٹھہرا وہ بھی ایک چھوٹی سی جگہ تھی جہاں وہ مگرمچھوں کے ساتھ رہنے لگے۔وہ مگرمچھوں کو ساتھ کھانا کھاتے۔مقامی لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ یہ مگرمچھ منگھو کی جوئیں تھیں اور شاید اس لئے یہ لوگوں پر حملہ نہیں کرتے۔تاہم سائنسدانوں کا خیال ہے کہ چونکہ مگرمچھوں کو لوگوں سے کھانا ملتا ہے اس لئے وہ ’پالتو‘ہوگئے ہیں اور ان پر حملہ کرنے کی بجائے ان سے کھانا ملنے کا انتظار کرتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -