سائنس کی ترقی، شادی شدہ جوڑوں کے درمیان طلاقوں کیلئے اب ایسا طریقہ اختیار کیا جائے گا جو انسانی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا

سائنس کی ترقی، شادی شدہ جوڑوں کے درمیان طلاقوں کیلئے اب ایسا طریقہ اختیار ...
سائنس کی ترقی، شادی شدہ جوڑوں کے درمیان طلاقوں کیلئے اب ایسا طریقہ اختیار کیا جائے گا جو انسانی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر میں جیون ساتھی کی تلاش کے لیے مختلف ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز بنائی گئی ہیں جہاں لوگ ملتے ہیں اور پھر شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں مگر برطانیہ میں اب لوگوں کو طلاق کی ”سہولت“ بھی آن لائن فراہم کی جا رہی ہے۔ آئندہ سال کے آغاز سے برطانوی شادی شدہ جوڑے عدالت کے چکر لگائے بغیر اپنے موبائل فونز اور کمپیوٹرز کے ذریعے باہمی رضامندی سے طلاق دے سکیں گے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر فیملی لاءجج سر جیمز منبے (Sir James Munby)کا کہنا ہے کہ ”ہم ایک ایسا آن لائن سسٹم بنا رہے ہیں جس کے ذریعے میاں بیوی ایک دوسرے کو طلاق دے سکیں گے۔ انہیں طلاق دینے کے لیے ایک دوسرے کے سامنے آنے کی ضرورت ہو گی نہ ہی عدالت میں جج کے سامنے پیش ہونے کی۔ اس آن لائن سسٹم کا نام ”کلک فار ڈیوورس“ (Click for Divorce)رکھا گیا ہے۔ اس کے ذریعے طلاق کا تمام سسٹم ڈیجیٹل ہو جائے گا اور طلاق لینے والے میاں بیوی کا ریکارڈ اس سسٹم کے ذریعے خودبخود عدالتی و سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن جائے گا۔“

مزید جانئے: چین میں نوجوانوں کی اکثریت نے انتہائی کم عمر میں ہی شادیاں کرنی شروع کردیں، اتنی جلدی کی اصل وجہ ایسی کہ جان کر آپ بھی ہنس پڑیں گے

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جو میاں بیوی ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے پر باہم رضامند ہوں گے انہیں اس آن لائن سسٹم پر سوالنامے دیئے جائیں گے جن کے انہیں جواب دینے ہوں گے۔ یہ سوال ان کی ازدواجی زندگی، ان کی دولت اور ذرائع آمدنی کے متعلق ہوں گے۔ اس کے علاوہ اگر ان کے ہاں اولاد ہے تو یہ بھی پوچھا جائے گا کہ طلاق کے بعد انہوں نے اپنی اولاد کے لیے کیا سوچ رکھا ہے۔ان سوالوں کے تسلی بخش جوابات دینے پر سسٹم ان کی طلاق کی تصدیق کر دے گا۔ فیملی لاءبار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرجیمز کا کہنا تھا کہ ”اس سسٹم سے لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہو گا اور ان کے وقت اور پیسے کی بچت ہو گی۔“ دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ ”اس آن لائن سسٹم سے طلاق کا عمل انتہائی آسان ہو جائے گا جس سے طلاق کی شرح بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -