مقبوضہ کشمیر کا عامر زندہ جذبوں کی جیتی جاگتی مثال بن گیا

مقبوضہ کشمیر کا عامر زندہ جذبوں کی جیتی جاگتی مثال بن گیا
مقبوضہ کشمیر کا عامر زندہ جذبوں کی جیتی جاگتی مثال بن گیا

  

سری نگر (ویب ڈیسک) کرکٹ ایک جنون ہے اور دونوں بازوﺅں سے محرومی بھی مقبوضہ کشمیر کے 26 سالہ نوجوان عامر حسین کے اس جنون کی آبیاری میں رکاوٹ نہیں بن سکی۔ دونوں بازوﺅں سے محروم عامر اپنی گردن اور کندھوں سے بیٹ پکڑ کر بیٹنگ کرتا ہے اور اپنے پاﺅں سے باﺅلنگ کرتا ہے اور اس میں مہارت کے بل بوتے پر وہ مقبوضہ جموں کشمیر کی پارہ کرکٹ ٹیم کا کپتان بن گیا ہے۔ بدقسمتی سے عامر 8 سال کی عمر میں اپنے والد کی کرکٹ بیٹ بنانے والی فیکٹری میں نصب آرا مشین میں پھنس کر اپنے دونوں بازو کٹوا بیٹھا تھا اور اس کے علاج کے لئے اس کے والد کو فیکٹری فروخت کرنی پڑی۔ عامر دونوں بازو گنوا بیٹھا مگر اس کا کرکٹ کھیلنے کا جنون کم نہ ہوا اور اس نے گردن اور کندھوں سے کرکٹ بیٹ پکڑ کر بیٹنگ شروع کردی اور اس میں اس حد تک مہارت حاصل کی کہ اب وہ اپنی ٹیم کا کپتان بن گیا ہے۔ وہ کرکٹ کھیلنے کے علاوہ اپنے پاﺅں سے اپنی شیو کرتاہے اور چائے کی پیالی بھی اٹھا کر پیتا ہے۔ اس کے والد بشیر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیتے کے حوصلہ کی وجہ سے اس پر فخر کرتے ہیں۔

مزید :

کھیل -