جنوری میں بھی سستے پاور پلانٹس بند رکھنے کا انکشاف

جنوری میں بھی سستے پاور پلانٹس بند رکھنے کا انکشاف
جنوری میں بھی سستے پاور پلانٹس بند رکھنے کا انکشاف

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) جنوری میں بھی سستے پاور پلانٹس بند رکھنے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ ہدایات پر عمل نہ کرنے اور مہنگے پاور پلانٹس چلانے پر چیئرمین نیپرا نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سینٹرل پاور پر چیزنگ ایجنسی (ّسی پی پی اے) اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا حکم دے دیا۔ منگل کو چیئرمین نیپرا کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران نیپرا نے نندی پور پاور پلانٹ سے مہنگی بجلی یدا کرنے کے باعث 4 ارب 42 کی لاگت مسترد کردی۔ نیپرا کے مطابق نندی پور پاور پلانٹ سے اوپن سائیکل پر مہنگی بجلی پیدا کی گئی جس کے باعث فیول لاگت میں اضافہ ہوا، یہ رقم صارفین پر منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ چیئرمین نیپرا کا کہنا تھا کہ دسمبر میں بھی سستے پاور پلانٹ بند رکھ کر ڈیزل اور فرنس آئل پر مہنگی بجلی پیدا کی گئی تھی کہ پاور پلانٹس کا رئیل ٹائم ڈیٹا تک رسائی اور میرٹ آرڈر باقاعدگی سے فراہم کیا جائے مگر نیپرا کی ہدایت پر عمل نہیں کیا گیا۔ فرنس آئل سستا ہونے کے باعث جاپان، سیپکول اور صبا پاور سے 5 روپے فی یونٹ بجلی پیدا ہوسکتی ہے جو کہ نندی پور پاور پلانٹ سے بھی سستی ہے مگر کسی کو احساس ہی نہیں کہ یہ پلانٹس بند پڑے ہیں، یہ پلانٹس پاکستانی عوام کی ملکیت ہوچکے ہیں، این ٹی ڈی سی پلانٹس انتظامیہ کے ساتھ بیٹھ کر حل نکالے اور ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرے۔ ٹرانسمیشن لاسز میں اضافے پر ممبر نیپرا خواجہ نعیم نے سی پی پی اے کو ہدایت کی اس معاملے کی انکوائری کرکے ذمہ داروں کو چارج شیٹ کرتے ہوئے رپورٹ جمع کرائی جائے۔

مزید :

بزنس -