بنت حوا کے تحفظ کا ضامن ۔۔۔وومن پروٹیکشن بل2015ء

بنت حوا کے تحفظ کا ضامن ۔۔۔وومن پروٹیکشن بل2015ء
 بنت حوا کے تحفظ کا ضامن ۔۔۔وومن پروٹیکشن بل2015ء

  

ایک موقع پر صحابہ کرام سے گفتگو کرتے ہوئے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ تم سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں سے اچھا ہے اور میں تم سب سے بہتر ہوں۔ مذکورہ حدیث مسلمانوں کو اہل خانہ سے بہتر سلوک کرنے کے لئے بیان کی گئی۔ اسلام کو دین فطرت اسی لئے کہا جاتاہے کہ اسلام میں ایسے سماجی اور معاشی احکامات بکثرت پائے جاتے ہیں جن پر عمل کی صورت میں فلاحی معاشرہ وجود میں آتاہے۔ نبی کریمﷺ نے وصال سے قبل عورت کے حقوق سے متعلق امور پر زیادہ تاکید کی۔ قرآن مجید کی سورۃ النساء‘ سورۃالبقرہ‘ سورۃالمائدہ‘ سورۃ الاحقاف‘ سورۃ القصص‘ سورۃ الاحزاب‘ سورۃ طلاق‘ میں خصوصیت سے خواتین کے طرززندگی اور ان کے حقوق و فرائض کے بارے میں گرانقدر رہنمائی موجود ہے۔میاں بیوی کے حقوق اور باہمی حسن و معاشرت کے لئے قرآن مجید میں کم از کم 12مقامات پر تاکید اور رہنمائی موجود ہے۔سیرۃالنبیﷺ میں باربار عورت کی عزت اور احترام کی تاکید کی گئی ہے۔ اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہؓ کی مسجد نبویﷺ آمد پر نبی کریمﷺ کی جانب سے اٹھ کر استقبال کرناعزت و احترام کی انتہا ہے۔ مغرب کے برعکس اسلامی معاشرے میں عائلی زندگی ہر لحاظ سے مثالی ہے۔

معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خاتمے کے لئے پنجاب پروٹیکشن آف وومن اگینسٹ وائیلنس بل 2015ء کی منظوری خوش آئند ہے۔ چیف منسٹر سپیشل مانیٹرنگ یونٹ لااینڈ آرڈر نے وومن بل کی تیاری کے لئے سول سوسائٹی کے ارکان‘ اپوزیشن رہنماؤں‘ اسلامی سکالرز اور متعلقہ کمیٹی کے ارکان سے مشاورت کی اور وزیراعلیٰ کی ہدایت پر خواتین کی زندگی میں حقیقی تبدیلی اور راحت لانے کے لئے اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔ وومن پروٹیکشن بل کے ذریعے پہلی مرتبہ تشدد کا شکار خواتین کو تیزترین انصاف کی فراہمی کے لئے یقینی اقدامات کئے گئے تھے۔

ایک غیرجانبدار تجزیئے کے مطابق خواتین پر تشدد کے حوالے سے پاکستان دنیا میں تیسرا بڑا خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ پنجاب میں خواتین پر تشدد کے واقعات کا تناسب بہت کم ہے مگر گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبہ میں روزانہ 6خواتین قتل یا اقدام قتل‘ آٹھ خواتین زیادتی‘ 11خواتین تشدد ‘ جبکہ 32 خواتین اغوا جیسے اقدام کا شکارہوتی ہیں۔ مئی 2015ء میں کابینہ نے بل کی منظوری دی اور جون 2015ء میں اسے پہلی مرتبہ پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا جس پر بہت سے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ ان تحفظات کو دور کرنے کے لئے صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ نے صوبائی وزیربہبود آبادی‘ صوبائی وزیرسوشل ویلفیئر‘ جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر وسیم اختر‘ پی ٹی آئی‘ پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کی خواتین ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی۔ تقریباً 9ماہ پر محیط مشاورتی عمل کے بعد وومن پروٹیکشن بل میں 8ترامیم لائی گئیں۔ جماعت اسلامی کے ڈاکٹر وسیم اختر کی طرف سے تشدد کا شکار خاتون کو بازیاب کرانے کے لئے وومن پروٹیکشن آفیسر کی گھر میں زبردستی داخلے کے بارے میں زبان پر اعتراض بھی دور کر دیا گیا۔ جس کے بعد پوری کمیٹی نے بل کی منظوری کے لئے معاونت کی ۔

وومن پروٹیکشن بل کے نفاذ کے لئے مضبوط میکنزم اختیار کئے جانے کے بعد پنجاب میں خواتین پر تشدد کے واقعات کا سدباب کیا جا سکے گا اور خواتین پر گھریلو تشدد ‘ جذباتی‘ جسمانی اور معاشی استحصال‘ سائبرکرائمز اور بہانے سے خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کا سدباب ہو گا۔خواتین پر تشدد کے خاتمے کے لئے پنجاب کے تمام اضلاع میں قائم ہونے والے وائیلنس اگینسٹ وومن سینٹرز (وی اے ڈبلیو سی)میں کورٹ میں عدالتوں کا قیام‘ رہائش اور تحفظ کے علاوہ نگرانی کا نظام بھی ہو گا۔ کلائی پر پہننے کے لئے جی پی ایس ٹریکربھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ خواتین پر تشدد کی تمام اقسام کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے اضلاع میں ڈسٹرکٹ وومن پروٹیکشن کمیٹیاں قائم کی جا رہی ہیں جنہیں تشدد کا شکار خاتون کو ریسکیو کرنے کے خصوصی اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔

وومن پروٹیکشن بل کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان افہام و تفہیم کی فضا پیدا کرنے میں آسانی ہو گی اور اسلامی نقطہ نظر سے مفاہمتی عمل بھی ممکن ہو گا۔ وومن پروٹیکشن کمیٹی کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کو بخوبی نمٹانے کے لئے ایک مفاہمتی پلیٹ فارم میسر ہو گا۔ بل کی دفعہ 12ڈی میں بیان کیا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ وومن پروٹیکشن کمیٹی فریقین کے درمیان صلح صفائی اور جھگڑے کو نمٹانے کے لئے مفاہمتی اقدامات کی کوشش کرے گی جبکہ پروٹیکشن سینٹر اور شیلٹر ہوم سے متعلقہ شق نمبر 13 کے تحت پروٹیکشن سینٹر اور شیلٹرہوم بھی تنازعے کے حل کے لئے مفاہمتی کردار ادا کریں گے۔ مذکورہ شقوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت اسلامی قوانین کے تحت فریقین کے درمیان مفاہمت اور صلح صفائی کو ہی اولین چوائس قرار دیتی ہے اور صرف بدترین تشدد کی صورت میں دیگر قانونی کارروائی کی جائے گی۔پھیلائے جانے والے عام تاثر کے برعکس یہ بل مردوں کے نہیں بلکہ تشددکے خلاف ہے اوربل میں مرد کالفظ بھی استعمال نہیں کیا گیا بلکہ اس کی بجائے تشدد کا شکار یا جارح کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو خواتین یا مرد میں سے کوئی ایک ہو سکتا ہے۔ شق 2 میں کسی جارح شخص کی طرف سے تشدد کا شکار ہونے والے شخص کے ذریعے دفاع (Defendant)کرنے والے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

ماضی کے برعکس تشدد کا شکارہونے والی خاتون کو سست رفتار روایتی عدالتی کارروائی کے برعکس تیزترین انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا گیاہے اور خاتون کو تحفظ‘ رہائش اور دیگر سہولتیں بھی ایک ہی چھت تلے فراہم کی جائیں گی۔ چونکہ خواتین کو تشدد کا نشانہ بنا کر گھر سے باہر نکالنے والے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چنانچہ شق نمبر 8کے تحت تشدد کا شکارہونے والی خاتون کو گھر سے نکالنے کی صورت میں گھر میں رہنے کاحق دیا گیاہے یا شکار خاتون کو اس کی مرضی کے مطابق متبادل رہائش گاہ فراہم کرناہو گی۔ شوہر کو زبردستی باہر رکھنے کا عام تاثر بالکل غلط ہے۔وومن پروٹیکشن آفیسر خاتون یا مرد میں سے جو بھی تشدد کرنے کا مرتکب ہو گا اسے گھر کے احاطہ سے باہر نکالنے کا اختیار رکھتی ہو گی۔ کیونکہ دونوں کی موجودگی میں تشدد روکنا ممکن نہیں ہو گا۔ صرف بدترین تشدد جو کورٹ کے ذریعے ثابت ہو جائے‘ تشدد کا شکار خاتون پروٹیکشن کا دعویٰ کر سکتی ہے۔ یعنی جو شخص خاتون کو ہراساں یا خوفزدہ کر رہاہو گا یا اس پر تشدد کر چکاہو گا اور وہ شخص تشدد کا شکار خاتون کے ساتھ رہائش پذیر نہ ہو تو صرف اسی صورت میں اس شخص سے تشدد کا شکار فرد کو دور رکھنے کے لئے جی پی ایس ٹریکر ‘ بریسلٹ استعمال کیا جائے گا‘ جو دنیا بھر میں جرائم کے خاتمے کے لئے کئی دہائیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے اور تشدد کرنے والے شخص کو اسلحہ بھی سرنڈر کرنا ہو گا تاکہ وہ تشدد یا قتل نہ کر سکے۔ تشدد کا شکار خاتون مانیٹری ریلیف کے ذریعے تشدد کرنے والے شخص سے اخراجات اور نقصانات کا مطالبہ کر سکے گی اور نہ ہی اس سے اس کی تنخواہ زبردستی چھینی جا سکے گی۔ تشدد کا شکار خاتون طبی اخراجات اور اپنے اور اپنے بچوں کے لئے دیگر ضروری اخراجات وصول کرنے کا دعویٰ بھی کر سکے گی۔تشدد کرنے والے فرد کی طرف سے ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں عدالت اس کی تنخواہ میں سے منہا کر کے ادا کرے گی۔

ضابطہ فوجداری کے تحت ایسے معاملات میں تشدد کے شکار شخص کو ریلیف فراہم کرنے کے معاملات عمومی طورپر تاخیرکا شکار ہوتے ہیں اور سانپ اور سیڑھی کا کھیل شروع ہو جاتا ہے جبکہ وومن پروٹیکشن بل کے ذریعے 24گھنٹے میں نہ صرف وی اے ڈبلیو سینٹرز میں تمام متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کی طرف سے اعانت فراہم کی جائے گی۔ ایک ہی چھت تلے فرسٹ ایڈ‘ پولیس رپورٹ‘ ایف آئی آر کا اندراج‘ پراسکیوشن‘ طبی معائنہ‘ فرانزک ‘ قانونی معاونت‘ شہادت کا بروقت حصول ‘ تمام اقدامات کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ اور پوسٹ ٹراما بحالی کے اقدامات شامل ہیں۔ تشدد کا شکار خواتین کی سہولت کے لئے ٹال فری ہیلپ لائن بھی قائم کی جا رہی ہے اور حکومت کی طرف سے تمام انکوائری وغیرہ میں معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔ ڈسٹرکٹ وومن پروٹیکشن کمیٹی وی اے ڈبلیو سینٹر اور شیلٹر ہوم کی کارکردگی کی نگرانی کرے گی اور پولیس کی طرف سے مقدمے کے اندراج کو یقینی بنائے گی۔ ڈسٹرکٹ وومن پروٹیکشن آفیسر یا وومن پروٹیکشن آفیسرکو تشدد کا شکار خاتون کو اس کی مرضی کے مطابق ریسکیو کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے اور ڈسٹرکٹ وومن پروٹیکشن افسر قابل بھروسہ معلومات کے ذریعے کیس اور عدالت کو شکایت کا اندراج بھی کراسکے گا۔ ڈسٹرکٹ وومن پروٹیکشن آفیسر اور وومن پروٹیکشن آفیسر کی طرف سے غلط شکایت کے اندراج‘ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم میں ٹمپرنگ کی صورت میں سخت سزا بشمول قید یا جرمانہ دی جا سکے گی۔

مزید :

کالم -