تحفظ حقو ق نسواں بل

تحفظ حقو ق نسواں بل

  

مسلم سوادِ اعظم میں کسی چیز سے کراہت یا نفرت کے لئے بس کافی ہے کہ قدسی لباسی میں ملبوس مخلوق کہہ گزرے کہ یہ غیر اسلامی ہے ۔پھر کس میں جرات ،کس کی جسارت کہ و ہ آسمانی شاہی فیملی کو دلیل کی دہائی دے یا برہان کی بات کرے۔ سراج الحق دامت برکاتہم عالیہ کے مافی الضمیر،مبالغہ اور ماتم کو تو جانے دیجئے ،مولانا فضل الرحمان مد ظلہ العالیٰ کی مگر منطق ،مباحث اور مبارزت کی داد دیجئے۔تحفظ حقوق نسواں بل کے خلاف ساون بھادوں کی جو چھاجوں برکھا برس رہی ہے ۔۔۔ مخالفین کے متروک موقف میں محاسن تو کجا کوئی مبین مقدمہ ہی نہیں ۔قابلِ احترام علما و فقہا کی جانب سے بل پر مارے باندھے جو ماردھاڑ جاری ہے ۔۔۔ اس میں سب کچھ ہے ،فصاحت و بلاغت ،خشوع و خضوع ،فقہی مو شگافیاں اور ان کے پردے میں اپنی ہی کہی ہوئی بات کو شریعت قرار دینا ۔۔۔ اگر نہیں ہے تو اپنے نقطہ نظر کی صحت کے لئے کوئی دلیل نہیں ۔پنجاب اسمبلی کے پاس کردہ اس بل میں ۔۔۔ کسی بھی مکتب فکر کی جانب سے ۔۔۔ یہ نشاندہی کہاں کہ فلاں شق ،فلاں جملہ یا فلاں فقرہ قرآن کی فلاں آیت یا فلاں حدیث کی ثقہ روایت کے خلاف ہے ۔بس قصص کی روشنی ہے اور چاشنی ہے، زیب داستاں ہے اور فریبِ آرزو ہے۔ جذبات کی باد صرصر چلی ہے اور طبیعت کے تلاطم کے گہرے اور کالے بادل چھائے ہیں۔ علما کے غصے کی بدلی برس رہی ہے اور فقہا کے غضب کی بجلی کڑک رہی ہے ۔

امام شافعیؒ جس عہد میں سانس لیا کئے ۔۔۔ اس دورمیں اجماع کا غلغلہ بپا اور پھریرا لہرا یا جا رہا تھا ۔شروع شروع میں شافعیؒ نے اجماع کی حمایت کی لیکن یہی کاری اور دو دھاری تلوار جب مخا لفین کے ہاتھوں میں دیکھی تو اللہ اللہ !امام تائب ہو گئے ۔علما و فقہا نے اپنی کہی ہوئی بات کوشریعت باور کرانے کے لئے اجماع کا سہار الیا اور اجماع نے بھی دکھی دلوں کی خوب مسیحائی کی ۔ازمنہ وُسطیٰ سے ’’فقہی شریعت کا ہتھیار ‘‘مشائخیت کے ہاتھوں میں ہے اور جبھی ان کے جی میں سمائی توانہوں نے کسی کے بھی گلے پر رکھ کر تکبیر کہہ ڈالی۔بل کی حمایت اور مخالفت کے اس دنگل میں مبالغے اور مغالطے کے جنگل کے جنگل اُگ آئے ہیں ۔عوام کالانعام یہی سمجھا کئے کہ اگر اربابِ محراب و منبر نے کہہ دیا کہ فلاں چیز غیراسلامی ہے تو وہ غیراسلامی۔۔۔اور اگرانہوں نے کہہ دیا کہ فلاں فیصلہ اسلامی ہے تو وہ عین اسلام قرار پایا۔علماو فقہا کی آرا کو زیادہ سے زیادہ فقہی فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے اور بس۔ سمجھا جانا چاہئے کہ اسلام اور چیز ہے اور احبار ورہبان کے فتوے اور فیصلے چیزدیگر است۔خواتین کے تحفظ کے بل میں مردوں کو کڑے پہنانے کی لایعنی اور فضول و مجہول بات پر انگشت شہادت دراز کی جا سکتی اور وہ بھی ۔۔۔ سماجی اور اخلاقی لحاظ سے ۔شتر مرغگی اگر شیوا اور شعار ہو تو علیحدہ بات ورنہ ہمارے سماج میں خواتین پر واقعتاًتشدد،مارپیٹ،ظلم وزیادتی روا رکھی جاتی ہے ۔۔۔ پھر اس مذموم فعل کے لئے مقدس کتابوں سے حوالے تلاشے اور تراشے جاتے ہیں اور پھر انہیں عین اسلام کا نام دے دیا جاتا ہے۔

عہدِ ابو حامد غزالی سے تاایں دم ۔۔۔ مسلم سماج میں بڑی بڑی توانا اور رعنا آوازیں اٹھتی آئی ہیں کہ تشریح و تعبیر پر علما و فقہا کی اجارہ داری نہیں ۔صورتحال کی شدت و سنگینی سے تنگ آ کر غزالیؒ کو بھی احتجاج درج کرانا پڑا تھا کہ۔۔۔ ہائے ہائے !اشعریت سے بال برابرانحراف دین سے انحراف پر محمول گردانا جاتا ہے ۔تیرہ بختی کہئے ،بدقسمتی جانئے یا پھر بلائے ناگہانی کہ اس کے باوجود طبقہ علما نے تشریح و تعبیر پر اپنا حق فائق باور کرارکھا ہے اور عام آدمی اسے عین اسلام سمجھے بیٹھا ہے۔عالم اسلام پر ہی کیا موقوف !یہودیت اور عیسائیت بھی اسی خیال خام اور البتاس فکری کا شکار ہے کہ تشریح و تعبیر پر مذہبی پیشواؤں کا ہی پہرہ اور اجارہ ہے ۔کہا جاتا ہے کہ لوتھر کی ریفارمیشن سے قبل متبعین مسیح میں یہ بحثِ عام چلی کہ کلیسا اہم ہے یا بائبل؟ یا یہ کہ کلیسا کو بائبل پر ہر حال میں ترجیح دینا چاہئے ؟ وادریغا !عیسا ئیوں کے فادر یہ تاثر تخلیق کرنے میں کامیاب و کامران ٹھہرے کہ تشریح و تعبیر پر انہیں اتھارٹی حاصل ہے اور بس۔ دوسری تمام تاویلیں اور تعبیریں ۔۔۔ چاہے انہیں بائبل کی آیات سے ماخوذ بتایا اور دلائل سے مدلل ہی کیوں نہ کیا گیا ہو ۔۔۔ پوپ کی اجازت کے بغیر ہر گز ہرگز قابل قبول نہیں۔بنی اسرائیل کے اہل یہودکے ہاں بھی مذہبی تعبیر و تشریح پر ربیوں کی ہی اجارہ داری چلی آتی ہے ۔یہودی کم بخت تو اتنا آگے گئے ،اتنا آگے گئے کہ پناہ بخدا!کہنے والوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اللہ نے جب ایک بار تورات ہمارے حوالے کر دی ہے تو اس کی تعبیر و تشریح بھی ہم اپنی مرضی سے کیا کئے۔حد تو یہ ہے کہ یہودیت کے ثقہ علمی حلقوں میں بھی ربائی اکیوا۔۔۔ موسیٰ علیہ السلام کے مقابل تورات کے زیادہ مستند شارح سمجھے جاتے ہیں بابا!

کسی نئی چیزکی دریافت ،کھوئی ہوئی چیز کی بازیافت یا کوئی مستحسن غایت ۔۔۔ گماں گزرتا ہے کہ علما و فقہا کی طبیعت صالح وسعید مطالب سے اِبا کرتی ہو۔مولانا فضل الرحمان محض طلاقت لسانی اور فصاحت بیانی کی بدولت اس بل کی یکسر نکیر کرنے چلے ہیں ورنہ وحی الٰہی اور عقل سے تو اس کے خلاف دلیل لانے سے رہے ۔رہی بات سراج الحق کی ۔۔۔ باباان کا کہا ہوا خودان پرواضح کہاں کہ وہ کہا کیا کئے؟ پیچھے بچے سننے اور سمجھنے والے تو ان کا تو پھر خدا ہی حافظ !ماشاء اللہ ! مرحبا!یا حبیبی!یہ عقلی و فکری اعتبار سے اتنے لائق و فائق کب ہوئے کہ دنیا اب ان کے مشوروں کی رہنمائی میں چلنے چلی۔ برصغیر کے روایتی مولوی اشرف علی تھانوی کہ جن کا حلقہ دیوبند میں مدتوں سے سکہ چلتا اور ڈنکا بجتا آیا ہے ۔۔۔ انہوں نے گراموفون کو آلہ طرب قرار دیا اور اس کے ذریعے قرآن پاک سننا مکروہ گردانا تھا ۔عہد رواں میں آڈیو ،وڈیو یا سی ڈیز کو قبولیتِ عامہ مل جانے کے بعد ۔۔۔ آج کسی مولوی کے حاشیہ خیال میں بھی نہ آتا ہو گاکہ ان اشیا کی حیثیت مغنیوں یا رقاصاؤں کی ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ جب لاؤڈ سپیکرکی حلت وحرمت کے باب میں علما و فقہا سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے سب سے پہلے یہ جاننے کی سعی مسعود کی کہ آواز کی حقیقت کیا ہے ؟ یعنی یہ اصل ہے کہ عکس؟ صدیاں بیت گئیں ہنوز اصل اور عکس کافیصلہ ہو نہ سکا ۔ٹیلی ویژن اور انٹر نیٹ کو لیجئے۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس کا مسئلہ پیدا ہوا تو نورانی صورتوں اور گھنی داڑھیوں والوں کی مجلس بیٹھی۔ ہائے اللہ !مصیبت اور دوسرا مسئلہ یہ آن پڑا کہ طربوش برادری جدیدآلات اور سائنس و ٹیکنالوجی سے واقف کب تھی۔سو انہوں نے مذکورہ ماہرین کی خدمات مستعارلیں ۔۔۔معلومات کی روشنی میں رائے قائم کی اور فتویٰ دے ڈالا۔ پھر جیسا کہ ہوتا آیا ہے اور شاید ہوتا رہے گا ۔۔۔ خود ہی جواز اور عدم جواز پر دو،تین حصوں میں بٹ گئے ۔ مالکی فقہا نے تو خیر راہ نکال لی کہ ایسی تصویریں جن کا سایہ نہ بنتا ہو ۔۔۔ مباح قرار دے دیں ۔ ستم ظریفی دیکھئے حنفی فقہا تصاویر کی سخت حرمت کے باوجود اس کے بھی قائل یا شاید گھائل ہیں کہ ٹی وی سے حق کی نشرو اشاعت کا کام لیا جاناچاہئے ۔آسمان کی نیلی بوڑھی آنکھوں نے دیکھا کہ اپنی ہی فقہ کی ممانعت اور مخالفت کے بادجود حنفی مولویوں نے اپنی نگرانی میں ٹی وی چینل بھی قائم کئے۔جو لو گ آج تک متعدد مسائل فیصل نہ کر سکے ہوں ۔۔۔ جو لوگ جدید آلات کی ہیت سے ہی واقف نہ ہوں ۔۔۔ یا جو لوگ جدید دنیا کے جدید مسائل کے مالہ وماعلیہ سے کماحقہ آگاہ نہ ہوں ۔۔۔ حیرت ہے !حیرت سی حیرت ہے ؟ وہ ایسے فتوے اور فیصلے دینے کی جرات کیسے کرتے ہیں کہ انہیں اپنی آرا پر شرعی فیصلے کا گماں ہو۔ اور پھر وہ عوام کالانعام سے یہ بھی چاہے کئے کہ وہ ان کی پیری کرتے پھریں۔

مزید :

کالم -