میڈیا والوں پر تشدد، کب تک؟

میڈیا والوں پر تشدد، کب تک؟
میڈیا والوں پر تشدد، کب تک؟

  

شاید ایسا دور کبھی آئے گا، جب میڈیا سے تعلق رکھنے والے حضرات کو بھی عدم تحفظ کے احساس سے نجات ملے گی اور وہ ہر نوعیت کے واقعات اور حالات کی کوریج اپنی صوابدید کے مطابق کر سکیں گے، ہمیں نصف صدی سے زیادہ عرصہ عملی صحافت میں ہو چکا، اس پورے عرصے میں کبھی بھی ایسا وقت نہیں ملا، جب کسی دباؤ سے بھی آزاد فرائض ادا کئے ہوں۔ یہ دباؤ مختلف نوعیت کے ہوتے تھے اور ہیں۔ بہرحال ماضی ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، چنانچہ ایک زمانے میں جان کا خوف نہیں تھا، پولیس سے ڈنڈے پڑتے اور جرائم پیشہ افراد کی طرف سے معمولی نوٹس ملتے یا پھر کبھی کبھار دھمکی دی جاتی تھی، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا جو اب ہو رہا ہے۔

ماضی میں بھی ایک خونی واقعہ ہوا،جب ملک امیر محمد خان کے دورِ گورنری(ایوب مارشل لاء دور) میں باقی بلوچ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور ہمارے صحافی ضمیر قریشی شہید ہو گئے، اس پر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ہدایت پر یوم احتجاج منایا گیا تھا، لاہور میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس کی یہ ذمہ داری تھی، وہ ٹریڈ یونین کا سنہرا دور تھا جب بے شمار پابندیوں کے باوجود یونین مضبوط تھی۔ ہم روزنامہ ’’امروز‘‘ میں تھے اور ہماری بیٹ میں کورٹس رپورٹنگ شامل تھی، کچہریوں سے واپس آئے تو اس افسوسناک حادثے کی اطلاع ملی،ہمارے دفتر کے نیوز روم میں احتجاجی پوسٹر تیار ہو رہا تھا کہ ٹریڈ یونین پی پی ایل میں زیادہ سرگرم تھی، ان دِنوں اخبارات بلیک اینڈ وائٹ شائع ہوتے تھے، حمید ہاشمی(مرحوم) ہمارے نیوز ایڈیٹر تھے اور یہ پوسٹر بھی انہی کی نگرانی میں کتابت ہوا، اور اسے انہوں نے ڈبل کلر اس طرح کر دیا کہ دوسرا رنگ سرخ تھا جو چھینٹوں کی صورت میں پوسٹر پر نمایاں ہوا اور اس شہادت کی تصویر اُجاگر کر گیا، آج بھی اگر یہ کہیں محفوظ ہو تو ایک شہکار کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پوسٹر ہم نے خود دوستوں کو ساتھ لے کر شہر میں چسپاں کرایا، لاہور بار میں بھی لگایا وکلا نے اس کی بہت تعریف کی تھی۔

اس ایک حادثے کے علاوہ اس دور میں کوئی اور سانحہ نہیں ہوا، تاہم جب ایوب حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا اور احتجاجی جلوس نکلنا شروع ہوئے تو اخبار نویسوں کی پولیس کے ہاتھوں شامت آ گئی،مظاہرین پر لاٹھی چارج کرتے اور ڈنڈے برساتے وقت ’’ڈھول سپاہی‘‘ اخبار نویسوں پر بھی پل پڑتے، خصوصاً فوٹو گرافر ان کا نشانہ بنتے تھے اگر کوئی رپورٹر قابو آتا تو وہ بھی ضرور زخمی ہوتا اور پھر ہم سب روایتی احتجاج کرتے۔ پی یو جے کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں قرارداد مذمت ہوتی اور تحفظ کے ساتھ ساتھ لاٹھی برسانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ ہوتا، جو کسی حد تک پورا کیا جاتا تھا۔

یہ اُن دِنوں کا واقعہ ہے جب لاہور کے انچارج پولیس آفیسر ایس ایس پی حاجی حبیب الرحمن(مرحوم) تھے(بعد میں آئی جی اور پولیس فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہوئے) ایک احتجاجی جلوس نیلا گنبد سے نکلا اور جی پی او چوک سے مال روڈ پر آیا، یہاں شرکاء جلوس کی مڈ بھیڑ پولیس سے ہوئی، روایت کے مطابق رپورٹر اور فوٹو گرافر بھی زد میں آ گئے۔ پی یو جے کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، قرارداد ہوئی اور پھر ایس ایس پی سے وفد نے ملاقات کی، اس میں ہمارے امروز کے چیف فوٹو گرافر خواجہ قیوم (مرحوم) بھی تھے۔ الحاج حبیب الرحمن نے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور شائستہ انسان تھے، تجویز کیا کہ صحافی(رپورٹر+فوٹو گرافر) بازوؤں پر بینڈ باندھیں تاکہ ان کی شناخت ہو اور غلط فہمی سے ان پر تشدد نہ ہو سکے۔خواجہ قیوم کو جو خود بھی اچھے مہذب تھے، یہ تجویز بہت پسند آئی۔ ہم نے کافی کوشش کی کہ بات کسی صحیح رُخ پر آ جائے، لیکن یہ بینڈ والا فیصلہ ہی ہو گیا، باہر آ کر ہم نے خواجہ قیوم کو منع کیا کہ وہ ایسا نہ کریں کہ اس طرح تو واضح نشاندہی ہو گی۔ یوں بھی پویس والوں کو صحافیوں کا علم ہوتا ہے اور فوٹو گرافر کی نشانی تو اس کا کیمرہ ہے، وہ نہ مانے اور سب سے پہلے انہوں نے ہی بینڈ باندھا اور پھر اس سے اگلے روز نتیجہ بھی مل گیا جب پولیس والوں نے ان کو تاک کر نشانہ بنایا اور انہوں نے بینڈ اتار کر پھینک دیا۔

بتانا یہ مقصود ہے کہ صحافی ہمیشہ سے نشانہ رہے۔1970ء میں ہمیں بھی قتل کی تحریری دھمکیاں ملیں، اور پھر ہمارے دفاتر پر بھی پتھراؤ ہوتے رہے کہ جو بھی خبر چھپے اس کے دو ہی پہلو ہوتے ہیں کسی کو پسند اور کسی کے لئے ناپسندیدہ ہوتی ہے اور ناپسند کرنے ولے متشدد بھی ہو جاتے ہیں، لیکن پچھلے کچھ عرصہ سے صورت حال میں یہ تبدیلی آئی کہ صحافی(خواہ تعلق کسی بھی میڈیا سے ہے) تاک کر نشانہ بنائے گئے اور درجنوں قتل ہو چکے، بلکہ ولی خان بابر کے قتل کے ملزموں کا علم بھی ہوا، مقدمہ کے گواہ اور وکیل تک قتل ہو گئے، لیکن اب صورت حال میں جو تبدیلی ہوئی وہ یہ کہ مظاہرین نے کئی بار میڈیا والوں کا باقاعدہ گھیراؤ کیا اور ان پر تشدد کیا، ثناء مرزا کی فوٹیج تو اب بھی دیکھی جا سکتی ہے کہ اُسے کس طرح ہراساں کیا گیا۔

یہ رجحان اب تک موجود ہے اور اب ہر نوع کے مظاہرین یہ چاہتے ہیں کہ ان کی بھرپور کوریج کی جائے، خصوصاً الیکٹرونک میڈیا کی طرف رجحان زیادہ ہے اور ایسا ہی منگل کو راولپنڈی میں بھی ہوا ہے، اس سے کارکنوں کے لئے کام کرنا یا فرائض ادا کرنا دشوار ہو چکا ہوا ہے اور ہم ہیں کہ آزادئ صحافت کے چمپئن ہیں اور نعرے لگاتے نہیں تھکتے، جہاں تک آزادئ صحافت کا معاملہ ہے، تو یہ ہم نے بڑی جدوجہد کے بعد حاصل کی، ہماری وفاقی یونین کا پہلا اصول آزادئ صحافت ہے کہ صحافت کے خلاف کوئی خصوصی قانون نہ ہو اور جو بھی ہونا ہے وہ عام قوانین کے تحت ہو۔

اب ذرا ایک اور پہلو پر غور کر لیں۔ یہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ جس انداز سے الیکٹرونک میڈیا میں مقابلہ اور لائیو کوریج کا سلسلہ شروع ہوا اس نے ناظرین کو عادی بنا دیا ہے اور ہر تقریب والے اپنے ساتھ یہی سلوک چاہتے ہیں جو بوجوہ ممکن نہیں، اس کے علاوہ ضروری تو نہیں کہ سب کچھ دکھایا اور سنایا جا سکے، اسی لئے ضابطہ اخلاق کی بات کی گئی جو کئی بار تیار اور منظور ہوا، لیکن تاحال حتمی شکل سامنے نہیں آئی اگر ہم خود ضابطہ اخلاق پر عمل کرتے اور اپنے ساتھیوں کو بھی ایسا کرنے پر آمادہ کرتے تو شاید ناگوار کوریج نہ ہو پاتی اور ناظرین و قارئین کی توقعات بھی نہ بڑھتیں۔ اب بھی یہ ضرورت موجود ہے اور ہمیں ازخود اس پر عمل کرنا چاہئے تاکہ کوریج میں توازن آئے اور ناگوار کوریج نہ ہو سکے۔

یہ سب اپنی جگہ، لیکن تشدد پر اترے حضرات اور عدم برداشت والے لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ معاشرے کو نہ بگاڑیں، ان کی شہ زوری اور زبردستی سے معاملات ان کی مرضی کے مطابق نہیں چل سکتے، بہتر یہی ہے کہ اعتدال کا راستہ اختیار کریں کہ حکومت کا یہ فرض نہیں کہ جب وہ کسی اہم واقع یا حادثہ کی صورت میں اپنے لئے حفاظتی انتظامات کرتی ہے تو وہاں عام شہریوں اور ان کے ساتھ میڈیا والوں کے تحفظ کا بھی اہتمام کرے اور زیادتی کرنے والوں کو پکڑ کر قرار واقعی سزا دی جائے۔

مزید :

کالم -