پاکستان ا سٹیل،پی آئی اے اورطوارقی اسٹیل،حقائق کیا ہیں: ایک تفصیلی جائزہ (4)

پاکستان ا سٹیل،پی آئی اے اورطوارقی اسٹیل،حقائق کیا ہیں: ایک تفصیلی جائزہ (4)
 پاکستان ا سٹیل،پی آئی اے اورطوارقی اسٹیل،حقائق کیا ہیں: ایک تفصیلی جائزہ (4)

  

سابق چیف جسٹس قومی ادارے کی نجکاری کے مخالفین کی طرف سے تیار کئے گئے جال میں بہت آسانی سے اس لئے آ گئے کہ انہیں اعلیٰ مسندوں پر بیٹھے اپنے جیسے اور بہت سے لوگوں کی طرح صنعت فولاد سازی کی اونچ نیچ تو کیا لوہے اور فولاد کے درمیان فرق بھی معلوم نہیں تھا (اور نہ آج ہی ہے) یہی وجہ ہے کہ سیاسی نصب العین سے عاری اکثر ارباب اختیار پاکستان اسٹیل اور ماچس فیکٹری میں کوئی فرق نہیں سمجھتے اور صرف بیلنس شیٹ کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے بہتری کی کوئی توقع بھی نہیں کی جا سکتی ہاں البتہ عقل و دانش کے حامل دور بینی اور فراست سے کام لینے والے ارباب اختیار کی توجہ اس جانب دلائی جا سکتی ہے کہ نہ صرف پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل جیسے قومی اداروں کے بارے میں فیصلے کرتے وقت قومی نقطہ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے تدبر اور فراست سے کام لیا جائے بلکہ طوارقی اسٹیل کو بھی جو ملک کی صنعتی ترقی کے لئے پاکستان اسٹیل جیسی اہمیت کا حامل ہے (اور جو پہلے ہی نجی شعبے میں ہے) قومی ادارہ سمجھتے ہوئے پیداوار شروع کرنے میں مدد دی جائے۔ طوارقی اسٹیل کے نہ چل پانے کی وجہ بھی نہ تو اس کی یونین ہے نہ غیر ذمہ دار انتظامیہ بلکہ حکومتی فیصلے ہی ہیں جن کے تحت طوارقی اسٹیل کو سوئی گیس کے حصول میں دشواری کا سامنا ہے کیونکہ سوئی سدرن اسے خام مال کے طور پر کھاد کے کارخانوں کو فراہم کی جانے والی گیس کے نرخ پر گیس فراہم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اس سے کمپنی کو اربوں روپے کا جو نقصان ہو رہا ہے سو ہو رہا، ملک کو اس سے کہیں زیادہ جو نقصان ہو رہا ہے اس کے بارے میں کوئی سوچنے کو بھی تیار نہیں۔ طوارقی اسٹیل کی پاکستان کے لئے اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2006ء میں اس کا سنگ بنیاد رکھے جاتے وقت ایک ممتاز امریکی ماہرمعاشیات نے اس خبر کی صداقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ نچی شعبے میں کوئی بھی شخص بقید ہوش وحواس 350 ملین ڈالر (35 ارب روپے) جیسی بھاری رقم پاکستان جیسے ملک میں ایک ایسے منصوبے پر نہیں لگا سکتا جس سے منافع حاصل کرنے کے لئے اسے کئی سال انتظار کرنا پڑے۔ (فولاد ساز منصوبے کی تنصیب کے لئے کئی سال درکار ہوتے ہیں اور طوارقی اسٹیل کو دو سال بعد 2008ء میں پیداوار شروع کرنی تھی) لیکن ایسا ہوا اور وہ شخص طوارقی اسٹیل کے سربراہ ڈاکٹر بلال طوارقی اسٹیل کا شریک کار پاکستانی طارق برلاس تھا جس نے اپنے ملک سے محبت کے سبب اگر یہ بے وقوفی کر کے اپنے سر پر مٹی ڈال ہی لی ہے تو حکومت پر بھی لازم ہے کہ وہ اس کے جذبات اور کارخانہ فولاد کی قدر کرے اور طوارقی اسٹیل کو ارزاں نرخوں پر گیس کی فراہمی کا بندوبست کرے جس کے لئے ایل این جی کی درآمد اور ایران سے گیس کی سپلائی شروع کرنے کے بندوبست کے پیش نظر فضا خاصی ساز گار ہو چکی ہے۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ ایک طرف تو حکومت اپنی اسٹیل مل کو چلانے کے لئے نجی شعبے کی طرف دیکھ رہی ہے تو دوسری طرف نجی شعبہ اس کے سامنے کھڑی اتنی ہی بڑی اسٹیل مل کو چلانے کے لئے حکومت کی سرپرستی کا منتظر ہے حب الوطنی کے جذبات ابھارنے کے لئے یہ مثال دینے کی ضرورت نہیں کہ بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں ہم نے چھ ایٹمی دھماکے کئے تھے لیکن بھارت کی چار سرکاری اسٹیل ملوں کے مقابلے میں جن میں سے ہر ایک کی پیداوار 10 لاکھ ٹن سے شروع ہو کر 40 لاکھ ٹن تک جا چکی ہے،۔ ہم فولاد کے ایک کارخانے میں بھی پوری طرح سرمایہ کاری نہ کر سکے۔ ہندوستان کے قومی فولاد ساز کارخانوں نے بھی اچھے برے وقت دیکھے انہیں بھی ہماری طرح بھاری خسارے کا سامنا رہا لیکن بھارتی حکومت نے ایک بھی کارخانہ نجی شعبے کے حوالے کرنے کا نہیں سوچا۔ ہاں البتہ ہندوستان کا نجی شعبہ جو تقسیم سے بہت پہلے سے فولاد سازی کی صنعت سے وابستہ تھا حکومت کی پالیسیاں اپنے حق میں ہونے پر پوری دنیا میں فولاد کی صنعت پر چھا گیا جبکہ پاکستان میں فولاد سازی میں نجی شعبہ کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دے پایا ہے۔ پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل میں سے پی آئی اے کی نجکاری کے لئے فضا اس لحاظ سے تیار دکھائی دیتی ہے کہ سستی قیمت پر تیل کی دستیابی اور ہوا بازی کی پھیلتی ہوئی صنعت کے پیش نظر اس میں منافع کے خاصے امکانات ہیں چنانچہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی نجی شعبہ پی آئی اے کے 26 فیصد شیئرز خرید کر اس میں بھاری سرمایہ کاری کے لئے جس کی پی آئی اے کو شدید ضرورت ہے آسانی سے تیار ہو جائے گا۔ اس سرمائے کے ذریعے نئے جہاز خرید کر متروکہ اور نئے روٹوں پر چلا کر حاصل ہونے والا منافع بھی کئی گنا زیادہ ہوگا جس سے جمع شدہ نقصانات کو تیزی سے کم کرنے میں مدد ملے گی۔ پی آئی اے میں سرمایہ کاری کے لئے بھاری رقم پی آئی اے کا نیو یارک میں ہوٹل اور دیگر اثاثے بیچ کر بھی حاصل کی جا سکتی ہے جس کی تجویز ایک زمانے میں خود اس وقت پیش کی گئی تھی پاکستان اسٹیل کو بھی گزشتہ کئی سالوں کے دوران جمع ہونے والے واجبات کی بھلے قسط وار ادائیگی کے علاوہ مشینوں کو نئے سرے سے قابل استعمال بنانے کے لئے بھاری رقم درکار ہو گی جو پرائیویٹ سیکٹر لگانے کے لئے تیار نہیں ہوگا اور اگر ہوا بھی تو اپنی شرائط کے تحت لگائے گا جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹیل کو اونے پونے داموں بیچنا پڑے گا۔ دوسری طرف پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کے تخمینے کے مطابق کارخانوں کو بھرپور طور پر متحرک کرنے کے لئے 25 ارب روپے کی رقم درکار ہو گی جو پی آئی اے کے حوالے سے میاں نوازشریف کے بتائے ہوئے فارمولے کے تحت پاکستان اسٹیل کے اثاثے بیچ کر بھی حاصل کی جا سکتی ہے جن میں اس کی 14 ہزار ایکٹر کے علاقے میں پھیلی ہوئی زمین شامل ہے جس میں سے ساڑھے چار ایکڑ زمین پر پاکستان اسٹیل کے کارخانے و دیگر تنصیبات پھیلی ہوئی ہیں۔ اس میں سے 25 ارب کے لگ بھگ رقم تو صرف وزرارت صنعت و تجارت کے زیر اہتمام کام کرنے والے ادارے نیشنل انڈسٹریل پارک مینجمنٹ کمپنی کی طرف واجب قرار پاتی ہے جس کے لئے پاکستان اسٹیل کی 930 ایکڑ زمین مختص کی گئی تھی اور جس کی قیمت 2007ء میں 70 لاکھ روپے فی ایکڑ مقرر کی گئی تھی اور جس کا پاکستان اسٹیل اور وزارت پیداوار کے درمیان سمجھوتے کے تحت ہر پانچ سال بعد اضافہ کیا جانا تھا۔ اب جبکہ بحریہ ٹاؤن پاکستان اسٹیل کے قریب پہنچ گیا ہے زمین کی کیا قیمت ہو گی اندازہ لگانا مشکل نہیں انڈسٹریل پارک کا کچھ حصہ اگرچہ ایک جاپانی کمپنی کو دے دیا گیا ہے۔ لیکن مصدقہ ذرائع کے مطابق پاکستان اسٹیل کو اس مد میں آج تک ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔ ویسے تو پاکستان اسٹیل کے تصرف میں 19 ہزار ایکڑ زمین ہے لیکن اس میں سے 14 ہزار ایکڑ وہ ہے جس کی میوٹیشن پاکستان اسٹیل کے نام ہو چکی ہے۔ دوسری طرف پاکستان اسٹیل کو مکمل طور پر بند کرنے کے لے بھی انتظامیہ کے تخمینے کے مطابق ملازمین کے واجبات وغیرہ کی ادائیگی کے لئے 9 ارب روپے کی رقم درکار ہو گی جبکہ اس سے بھی بڑا نقصان یہ ہوگا کہ ہزاروں ملازمین روزگار کے وسیلے سے محروم ہو جائیں گے اور ملک کی صنعت مکمل طور پر فولاد کی درآمد اور درآمد کنندگان کے رحم و کرم پر ہو گی۔ پاکستان اسٹیل کے بند ہونے سے سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ اس سے قوم کو نفسیاتی طور پر دھچکا لگے گااور قیادت پر اس کا اعتماد مجروح ہوگا۔ پاکستان اسٹیل کے حوالے سے حالات واقعات اس بات کے شاید ہیں کہ بحران کی وجہ کچھ بھی ہو پیپلزپارٹی کی گزشتہ حکومت نے قومی ادارے کو اس سے نکالنے کے لئے کوئی موثر کارروائی نہیں کی بلکہ اسے مزید ابتر حالت میں چھوڑ کر رخصت ہوئی۔ مسلم لیگ حکومت کی کوششیں بھی پاکستان اسٹیل کے لحاظ سے اس حد تک رہیں کہ اسے جیسے تیسے کر کے نجی شعبے کے حوالے کرنے کے قابل بنا دیا جائے۔

مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں صورت حال کا معروضی تقاضا یہ ہے کہ سیاست سے بالا تر ہو کر قومی ادارے کے بارے میں سوچ کا رویہ تبدیل کیا جائے۔ اس بارے میں ان قومی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے جن کے تحت یہ لگایا گیا تھا نہ صرف اس کی پیداوار کی بھرپور بحالی کا منصوبہ بنایا جائے بلکہ 87ء کی غلطی کا ازالہ کرتے ہوئے پیداوار کو 22 لاکھ ٹن تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا جائے تاکہ پاکستان اسٹیل ایک موثر فولادی ادارے کی حیثیت سے ملک کی ترقی میں اپنا کردار بحال کر سکے۔ اس مقصد کے لئے درکار رقم کے حصول کے لئے پاکستان اسٹیل کے غیر ضروری اثاثے فروخت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اصل اثاثہ تو خود پاکستان اسٹیل ہے۔ پاکستان اسٹیل کی پیداوار میں توسیع کے لئے اگر نجی شعبے کو بھی شریک کار بنانا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ سرکاری شعبہ یا نجی شعبہ پاکستان اسٹیل چلائے گا تو اس سے امیر غریب سبھی کو فائدہ ہوگا۔ یہی دلیل طوارقی اسٹیل پر بھی صادق آتی ہے کہ بھلے وہ نجی شعبے میں سہی اگر حکومت کی سرپرستی سے بلکہ حکومت کی شراکت سے چل سکتا ہے تو اسے ضرور چلنا چاہئے۔ ان دونوں کارخانوں کا چلنا بے حد ضروری ہے خاص طور پر اس وقت جب ہم چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کی وساطت سے تعمیر و تنصیب کے ایک وسیع دور میں داخل ہو رہے ہیں انہیں درکاربھاری مقدار میں فولاد کے لئے ان دونوں کارخانوں کی بے حد ضرورت ہو گی۔ جو اگر بند ہوں گے تو سارا فولاد باہر سے ہی آئے گا اور ان ملکوں کے کارخانے چلیں گے جو یہ فولاد بناتے ہیں۔!

جہاں تک پی آئی اے کا تعلق ہے اس سلسلے میں عمران خان نے ٹی وی چینل پر ایک انٹرویو میں پی آئی اے کو قومی تحویل میں رکھنے کے لئے ٹھوس تجاویز پیش کیں البتہ اس کے نقصانات کی وہی سنسنی خیز مقبول عام وجوہات بتائیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں سوائے اس کے ان کی آڑ میں مخالفین پر نکتہ چینی کا موقع مل جاتا ہے۔ انہوں نے اس سوال کا بڑا معقول جواب دیا کہ ایک طرف تو آپ پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال ختم کرانے کے لئے لازمی سروس کا قانون نافذ کرنے کی مخالفت کر رہے تھے تو دوسری طرف خیبرپختونخواکے ڈاکٹروں پر بھی ایکٹ نافذ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں پر یہ ایکٹ عدالت عالیہ کے حکم پر لگا تھا جس نے سرکاری ہسپتالوں کو ایک بورڈ کے زیر اہتمام، سیاسی مداخلت سے پاک، خود مختار ادارہ بنانے کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو بھی ایسے ہی ایک بورڈ کے زیر اہتمام، سیاسی مداخلت سے محفوظ ایک خود مختار ادارے کے طور پر کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے اور اگر حکومت پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ پارلیمینٹ میں لے کر آتی تو ہم اسے یہی تجویزپیش کرتے۔ انہوں نے اپنے موقف کی حمایت میں کہا کہ ماضی میں اگر قابل افراد کی سربراہی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے تو اب کیوں نہیں؟ عمران خان کی بات میں وزن ہے اور اگر حکومت سیاست سے بالاتر ہو کر عمران خاں کے تعاون سے اس تجویز پر عمل کرے تو پی آئی اے میں سرمایہ کاری کے لئے بیرون ملک مقیم قوم پرست پاکستانیوں سے خاطر خواہ رقم نہ صرف پی آئی اے بلکہ پاکستان اسٹیل میں سرمایہ کاری کے لئے بھی حاصل کی جا سکتی ہے جس سے حکومت پر بار بھی نہیں پڑے گا اور قومی ادارے بھی قومی اداروں کے طور پر کام کر سکیں گے۔ لیکن اس کے لئے سیاست سے کچھ بالا تر ہونا پڑے گا!

مزید :

کالم -