آرمی چیف کا دورۂ تاجکستان!

آرمی چیف کا دورۂ تاجکستان!
 آرمی چیف کا دورۂ تاجکستان!

  

یکم مارچ (منگل وار) کو پاکستان کے آرمی چیف نے تاجکستان کا ایک روزہ دورہ کیا۔ جس مقصد کے لئے یہ دورہ کیا گیا تھا، اس کے پیش نظر ایسے دوروں کی تشہیر قبل ازیں نہیں کی جاتی۔ سرکاری طور پر (بتوسط آئی ایس پی آر) جو خبر دی گئی وہ یہ تھی کہ جنرل راحیل شریف نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف سے ملاقات کی۔ مزید کہا گیا: ’’دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورت حال پر باہمی گفتگو کی اور افغانستان میں مفاہمت کے موضوع پر بالخصوص زور دیا کہ افغانستان کی سرحدیں دونوں ممالک (پاکستان اور تاجکستان) سے ملتی ہیں‘‘۔۔۔ لیکن اگر واوین کے درمیان کی درج بالا تحریر کو ڈی کوڈ کیا جائے تو اس دورے کا مقصد شوال کے علاقے میں ہفتہ کے روز پیش آنے والے اس حادثے کی صورت میں سامنے آتا ہے جس میں پاکستان کے چار فوجی شہید ہو گئے تھے اور جن میں ایک جواں سال آرمی آفیسر، کیپٹن عمیر عباسی بھی شامل تھے۔ اسی خبر میں یہ تفصیل بھی دی گئی تھی کہ اس جھڑپ میں 19 دہشت گرد بھی مارے گئے تھے جن میں 7ایسے دہشت گرد بھی تھے جن کا تعلق تاجکستان سے تھا۔۔۔شمالی وزیرستان کے جن دو علاقوں کو ابھی تک دہشت گردوں سے کلیتاً کلیئر نہیں کیا جا سکا ان میں دتہ خیل اور شوال کے علاقے شامل ہیں۔ یہ دونوں علاقے عین پاک افغان سرحد پر واقع ہیں۔ یہاں کی زمینی کیفیت ایسی ہے کہ ایک تو دفاع کرنے والوں کو پناہ فراہم کرتی ہے اور دوسرے پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمد و رفت میں قطعاً مزاحم نہیں ہوتی۔ دہشت گرد اسی ٹیرین کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شمالی وزیرستان کے ان دونوں علاقوں میں برس ہا برس تک مقیم رہے اور افواج پاکستان کا بڑی شدت سے مقابلہ کرتے رہے (اور ایک حد تک آج بھی کر رہے ہیں۔)

ان علاقوں میں پاک فضائیہ کی کارروائیوں سے بھی قارئین آگاہ ہیں۔ آئے روز عسکری ذرائع سے یہ خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں کہ پاکستان ائر فورس کے طیاروں نے علاقے پر بمباری کی اور فلاں تعداد میں دہشت گرد مارے گئے۔ حال ہی میں پاکستان نے امریکہ سے جو 8عدد جدید ایف۔16 خریدنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس سودے کی غرض و غائت بھی یہی بیان کی گئی ہے کہ اس مشکل سرزمین میں درست ترین (Precise) کارروائی/ بمباری کرنے کے لئے یہ جدید ترین طیارے درکار ہیں۔ ان طیاروں کے ذریعے کارروائی کرنے میں دو باتیں اہم ہیں۔۔۔ ایک تو یہ ہے کہ چونکہ یہ علاقے پاک افغان سرحد پر ایسی جگہ واقع ہیں جن کا رقبہ کچھ زیادہ نہیں اور دوسرے ان ایف۔16 طیاروں میں ایسے سمارٹ بم استعمال کئے جا سکتے ہیں جو شوال اور دتہ خیل کے گردونواح میں گہری غاروں کے اندر دور تک پہنچ کر ہدف کو برباد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایف۔16 جیسے لڑاکا ہوائی جہازوں کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ چشم زدن میں سینکڑوں میل ان کے نیچے سے گزر جاتے ہیں اور جب کوئی زمینی ہدف کسی ایسی سرحد پر واقع ہو جیسی کہ شمالی وزیرستان کے متذکرہ بالا علاقوں میں ہے تو ان پر ٹھیک ٹھیک اور درست نشانے لگانے کا ٹاسک نہائت مشکل ہو جاتا ہے۔ ذرا سی بھی غلطی یا بھول چوک ہو جائے تو افغانستان کی فضائی خلاف ورزی ہو جاتی ہے اور اگر افغان فضائی دفاع کے عناصر سرحد پر ڈیپلائے ہوں تو ایف۔16 پر فائر کرنے کا جواز پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک فضائیہ کے طیاروں کو ان علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے میں حد درجہ احتیاط برتنی پڑتی ہے۔ احتیاط کا یہی پہلو ہے جو پاکستان نے ایف ۔16کی خرید میں سامنے رکھا ہے۔

افغانستان، ہمارے فاٹا کے دہشت گردوں کا بیک یارڈ (عقبی صحن) بھی ہے۔ یعنی یہ دہشت گرد پاکستان میں کارروائی کرنے کے بعد افغانستان کی طرف نکل جاتے ہیں اور گویا ’’اِدھر ڈوبے، اُدھر نکلے‘‘ والی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ہفتہ کے روز پاک آرمی کے جو چار افراد شہید ہوئے وہ پاک افغان سرحد پر صف بند تھے۔ انہوں نے پہلے سرحد کو سیل کیا تاکہ اگر دہشت گرد دفاعی غاروں سے نکل کرسرحد عبور کرنے کی کوشش کریں تو ان کو روکا جا سکے۔ جب پاک آرمی کے عناصر نے ان کی ایک مستورگاہ (Hide out) پر حملہ کیا تو اس میں درجنوں دہشت گرد پناہ لئے ہوئے تھے۔ ان کو جب وہاں سے نکالا گیا تو وہ سرحد کی طرف بھاگے تاکہ افغانستان کی طرف نکل کر محفوظ ہو جائیں لیکن چونکہ سرحد پر بھی آرمی نے اپنے فوجی تعینات کر رکھے تھے اس لئے ان کے ساتھ فائرنگ کے تبادلہ میں 19دہشت گرد مارے گئے اور پاک آرمی کے چار سپوت بھی شہید ہو گئے۔ جنرل راحیل شریف نے شہدا کی میتوں کو کاندھا دینے کے بعد اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ پاک آرمی دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لئے ’’کسی بھی حد‘‘ تک جائے گی۔ اس ’’کسی بھی حد تک‘‘ والے تقریری ٹکڑے کا ترجمہ کریں تو یہی بات سامنے آئے گی کہ اگر ان دہشت گردوں نے سرحد عبور کی تو ہم سرحد عبور کرکے بھی ان کو جا ماریں گے۔ یاد کیجئے جب آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوا تھا اور آپریشن ضرب عضب میں تیزی آئی تھی تو اس حادثے کے اگلے ہی روز جنرل راحیل شریف کابل پہنچ گئے تھے اور وہاں اربابِ اختیار سے دوٹوک باتیں کی تھیں۔ اب دو روز پہلے اگر وہ دوشنبے میں جا کر تاجک صدر سے ملے ہیں تو میرے خیال میں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ جس جھڑپ میں ہمارے چار فوجی شہید ہوئے اس میں نصف درجن سے زیادہ تاجک بھی مارے گئے تھے۔

تاجکوں اور افغانوں میں ایک قدر مشترک یہ بھی ہے کہ دونوں کی مادرانِ وطن مقفل سرزمینیں ہیں۔ تاجکستان بھی افغانستان کی طرح Land Locked ہے۔ مقفل سرزمینوں میں چونکہ اجنبی لوگوں کی آمد و رفت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، اس لئے وہاں قدامت پرستی اور جاہلیت کا دور دورہ ہوتا ہے۔ اس کلچر کو ختم کرنے کے لئے ایک طویل جدوجہد درکار ہے۔ یورپ میں بھی کئی ممالک مقفل ہیں لیکن وہاں کی آبادیوں کا انٹرایکشن دوسرے ممالک سے آنے والوں کے ساتھ اتنا زیادہ ہے کہ جاہلیت یا قدامت پرستی کا کلچر دب کے رہ جاتا ہے۔ تاجکستان اور افغانستان کے درمیان دریائے آمو سرحد بناتا ہے۔ ویسے بھی آمو، تاجکستان کا سب سے بڑا دریا ہے۔ برسبیل تذکرہ تاجکستان میں دریاؤں کی تعداد 900 کے لگ بھگ ہے جن کی اوسط لمبائی 10سے 15کلومیٹر تک ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تاجک ٹیرین کی دشوار گزاری کا عالم کیا ہوگا۔ افغانوں اور ہمارے فاٹا کے مکینوں کی طرح تاجکوں کی زندگی کا دارومدار بھی صدہا برس سے لوٹ مار، راہزنی، قتل و غارت گری اور اور مظاہر فطرت سے پنجہ آزمائی پر ہے۔ یہی قدر مشترک تاجکوں،ازبکوں اور ترکمانوں کو ہمارے فاٹا میں لے آئی۔ یہ دہشت گردی گویا اِن قومیتوں کی زندگی ہے۔محمود غزنوی سے لے کر آج تک ان ممالک کی آبادیوں کو سوائے لوٹ مار کے کسی اور کام کے لئے استعمال ہی نہیں کیا گیا تو ان کا قصور کیا ہے؟ محمود، تیمور، بابر،نادر شاہ اور ابدالی سب کے سب لٹیرے ہی تو تھے! لوٹ مار، ان مقفل سرزمینوں کے باسیوں کی گھٹی میں پڑی ہے۔ پاکستان اگر آج تاجکستان اور افغانستان کو CPEC کی سہولتوں کی پیشکش کر رہا ہے تو ان ممالک کی آنے والی نسلیں شائد اس آفر سے مستفید ہو سکیں اور اس لوٹ مار کے کلچر سے باہر نکل آئیں جس سے ان کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ اس تناظر میں دیکھیں تو ’’سی پیک‘‘ کا منصوبہ ایک انقلابی اور تاریخ ساز منصوبہ ہوگا۔ دتہ خیل، شوال، میرن شاہ اور انگور اڈہ وغیرہ کے باسیوں کو اگر کل کلاں کوئی اچھا وسیلہ ء روزگار ہاتھ آ جائے تو شائد یہ لوگ صدیوں کے اپنے قدیم وسیلہ ء راہزنی سے باز آ جائیں!

ہم جنرل راحیل شریف کے دورۂ دوشنبہ کا ذکر کر رہے تھے۔۔۔ ممکن ہے میری سوچ غلط ہو لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے آرمی چیف کا یہ اچانک دورہ ،تاجک اربابِ اختیار کو یہ احساس دلانے کے لئے کیا گیا کہ وہ اپنے ہم وطنوں کو فاٹا میں آنے سے روکیں۔ بادی النظر میں تاجک حکام ان تاجک دہشت گردوں کو براستہ افغانستان، فاٹا میں آنے سے روک سکتے ہیں۔ یعنی دریائے آموکے اس پار اگر ملٹری چیک پوسٹوں کی ایک زنجیر بنا دی جائے تو یہ آمد و رفت بہت حد تک رک سکتی ہے۔لیکن وہاں بھی صورت وہی ہے جو ہماری درانڈ لائن پر ہے۔ جنرل راحیل شریف نے تاجک صدر کو جو یہ پیشکش کی ہے کہ پاکستان، تاجک مسلح افواج کی ان صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتا ہے جو انسدادِ دہشت گردی کے لئے ضروری ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ تاجکستان کو اپنے ملک میں بھی جس دہشت گردی کا سامنا ہے اس کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ صدر امام علی رحمانوف نے پاکستان کے آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کی تعریف کی اور پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا۔ آرمی چیف نے اس ایک روزہ دورے میں تاجک وزیردفاع اور تاجک چیف آف جنرل سٹاف سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

ابھی چند ماہ پیشتر وزیراعظم نوازشریف نے بھی تاجکستان کا دورہ کیا تھا اور سات معاہدوں پر دستخط کرنے کی تقریب میں بہ نفیس نفیس شرکت کی تھی۔ یہ معاہدے توانائی، مواصلات، مختلف صنعتی شعبوں، مجرموں کے باہمی تبادلوں، سائنس اور ٹیکنالوجی اور بزنس کونسل کے قیام کو محیط تھے۔۔۔۔ اس قسم کے دوروں کی اصل غرض و غائیت کیا ہوتی ہے، اس کا انکشاف میڈیا پر نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیا کے لئے صرف یہی کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے امور پر گفت و شنید کی۔ یا زیادہ سے زیادہ یہ بتایا جاتا ہے کہ دفاع، تجارت اور مواصلات کے شعبوں میں بہتری پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اس قسم کی کوششوں کے لئے تو سفیروں اور ڈیفنس اتاشیوں کی موجودگی ہی کافی ہوتی ہے۔ وزرائے اعظم، صدور مملکت اور آرمی چیفس کی سطوح تک جب نوبت آتی ہے تو پس پردہ اور بھی محرکات ہوتے ہیں جو بہ بانگ دہل نہیں کہے جا سکتے۔۔۔دوشنبے کی اس ملاقات میں صدر امام علی رحمانوف کا یہ بیان کہ پاکستانی افواج نے آپریشن ضرب عضب میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ دنیا بھر کی افواج میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں اور یہ بھی کہ پاکستانی آرمی چیف کی یہ وزٹ، دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرے گی، میرے اس قیاس کو تقویت دیتا ہے کہ جنرل صاحب کا یہ دورۂ تاجکستان محض معمول کا کوئی دورہ نہ تھا بلکہ اس میں کئی غیر معمولی موضوعات و معاملات پر بھی ڈسکشن کی گئی اور فیصلے لئے گئے۔

مزید :

کالم -