اب اشیائے ضرورت سستی ہونی چاہئیں

اب اشیائے ضرورت سستی ہونی چاہئیں

  

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کا فائدہ عوام تک پہنچنا چاہئے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی اور اس کے اثرات منڈی پر مرتب ہونا چاہئیں اور اس کی نگرانی کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے یہ ہدایت بروقت کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ رجحان پختہ ہو چکا ہے کہ جب بھی پٹرولیم کے نرخ یا پھر کسی ٹیکس کی شرح بڑھے اشیاء کے نرخ بھی ساتھ ہی بڑھا دیئے جاتے ہیں، ٹرانسپورٹ والے فوراً ہی کرایوں میں اضافہ کر لیتے ہیں، لیکن کمی ہو تو اس کا فائدہ خود اٹھاتے ہیں، کرایوں اور قیمتوں میں کمی نہیں کی جاتی، حالانکہ اضافہ کے وقت یہی کہا جاتا ہے کہ نرخ متاثر ہوئے ہیں، کمی ہو گی تو کم کر دیئے جائیں گے، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوتا، پہلے دو بار پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی کے بعد اب ریکارڈ کمی کی گئی اور یوں مجموعی طور پر قریباً15 روپے کی کمی کا تو فائدہ عوام تک پہنچنے ہی نہیں دیا گیا، حتیٰ کہ ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی کم نہیں ہوئے تھے تاہم اب کمی زیادہ کی گئی ہے تو حکومت نے بھی یہ یقین حاصل کرنے کی کوشش کی کہ اثرات اشیائے ضرورت کے نرخوں تک مرتب ہوں۔خبر کے مطابق ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 11فیصد تک کمی کی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹروں کے لئے 11.9فیصد اور 6.16 فیصد کرائے کم کئے گئے،11فیصد پٹرول اور 6 فیصد ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کے لئے ہیں، جبکہ گڈز ٹرانسپورٹروں نے رضا کارانہ طور پر7فیصد کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ایک طرف یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں ہی کے تناسب سے بجلی کے فی یونٹ نرخ بھی کم کئے جا رہے ہیں اور جنوری کے لئے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں 4.11 روپے فی یونٹ کمی کی منظوری دی گئی ہے۔ یوں براہِ راست اثرات بار برداری اور استعمال پر پڑے اور بڑی معقول کمی ہوئی، تاہم ابھی تک مارکیٹوں پر یہ اثر نہیں آیا اور اشیاء ضرورت اور خوردنی جوں کے توں نرخوں پر ہی فروخت ہو رہی ہیں، حتیٰ کہ برانڈڈ اشیائے ضرورت کے نرخ بھی کم کرنے کا عندیہ نہیں دیا گیا۔ ایسی صورت میں اگر پنجاب میں وزیراعلیٰ نے ہدایت دی ہے تو اس پر عمل بھی ہونا اور عوام کو فائدہ ملنا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -