قطر سے گیس کی درآمد شروع

قطر سے گیس کی درآمد شروع

  

قطر کے ساتھ پاکستان کے درآمدی معاہدے کے بعد قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد شروع ہو گئی ہے۔ یہ درآمدی ایل این جی اگلے ہفتے سوئی سدرن گیس کے سسٹم میں شامل ہو جائے گی، جس کے بعد صارفین کو سپلائی شروع ہو جائے گی۔ قطر کے ساتھ15سالہ معاہدے کے تحت ایل این جی لے کر آنے والا پہلا جہاز پورٹ قاسم پر لنگر انداز ہوا، جہاز میں ایک لاکھ50ہزار مکعب میٹر گیس موجود ہے، جس کی ری گیسی فیکشن کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ایک اور شمپنٹ8مارچ کو کراچی پہنچے گی، ہر ماہ ایل این جی کے چار جہاز پورٹ قاسم آئیں گے۔ مستقبل میں جہازوں کے لنگر انداز ہونے کے لئے مزید چار ٹرمینل قائم کئے جائیں گے۔ ایل این جی کی آمد سے پاکستان میں گیس کی کمی کو دور کیا جا سکے گا اور کھاد بنانے والے کارخانوں کے علاوہ ٹیکسٹائل کی صنعتوں کو ایل این جی فراہم کی جائے گی۔ ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے تین ایل این جی پاور پلانٹ پنجاب میں لگائے جا رہے ہیں۔ چھوٹے پاور پلانٹ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی لگائے جائیں گے۔ روس کے تعاون سے2ارب ڈالر کے ایک منصوبے پر کام ہو ہا ہے، جس کے تحت کراچی سے لاہور تک نئی پائپ لائن ڈالی جائے گی۔

قطر سے ایل این جی درآمد کرنے کے لئے مذاکرات تقریباً دو برس پہلے شروع ہوئے تھے اور گزشتہ ماہ پندرہ سال تک قطر سے ایل این جی درآمد کرنے کا معاہدہ ہو گیا تھا،جب تک معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آئی تھیں اُس وقت تک پروپیگنڈے کا ایک طوفان اُٹھا ہوا تھا، جو تھمنے میں نہیں آ رہا تھا اور نت نئے الزامات سامنے آ رہے تھے، کہا جا رہا تھا کہ گیس اتنی مہنگی خریدی جا ر ہی ہے کہ پاکستان میں صارفین کے لئے اس کے نرخ قابلِ برداشت ہی نہیں ہوں گے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر ٹیکسٹائل سیکٹر میں یہ درآمدی ایل این جی استعمال کی گئی تو مہنگی گیس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی پیداواری لاگت اتنی ہو جائے گی کہ برآمدی مارکیٹ میں ان کا کوئی گاہک ہی نہیں رہے گا۔ یہ بھی کہا گیا کہ اگر گھریلو صارفین کو یہ گیس فراہم کی گئی تو سوئی گیس کے موجودہ نرخوں سے اس کے نرخ بہت زیادہ ہوں گے۔ یہ بھی کہا گیا کہ گیس درآمد اِس لئے نہیں کی جا رہی کہ اس قیمت پر کوئی گیس نہیں خریدے گا۔

سیاست دان بھی اپنے اپنے انداز میں اس پر تبصرے کر رہے تھے، ارکانِ پارلیمینٹ کی جانب سے یہ مطالبہ بار بار سامنے آ رہا تھا کہ قطر سے معاہدے کی تفصیلات پیش کی جائیں۔ یہ مطالبہ اس لحاظ سے قبل از وقت تھا کہ جو معاہدہ ابھی گفت و شنید کے مراحل میں تھا ظاہر ہے اس کی قیمتیں ابھی طے نہیں ہوئی تھیں اور یہ تو طے شدہ ہے کہ مذاکرات میں اُونچ نیچ تو ہوتی ہی ہے، اِس لئے اسمبلی میں معاہدہ تو پیش نہیں کیا جا سکتا تھا جو ابھی ہوا ہی نہ تھا، لیکن اس سلسلے میں حکومت کی خاموشی کو من پسند معنی پہنائے گئے، گزشتہ ماہ جب وزیراعظم نواز شریف کی موجودگی میں قطر کے ساتھ معاہدہ طے ہوا اور اس کی تفصیلات سامنے آئیں تو پتہ چلا کہ پاکستان نے سستی ترین ایل این جی خریدی ہے۔ اس سے پہلے قطر نے اِن نرخوں پر کسی مُلک کو یہ گیس برآمد نہیں کی۔

اس کے علاوہ دفاعی شعبے میں بھی قطر کے ساتھ تعاون کا معاہدہ ہوا، اس موقع پر پاکستان میں تیار ہونے والے جے ایف17تھنڈر طیاروں کی پرواز کے متاثر کن مظاہرے بھی ہوئے، پاک فضائیہ کے سربراہ خصوصی طور پر اس مقصد کے لئے وزیراعظم کے ہمراہ گئے تھے۔ اس موقع پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ قطر پاکستان سے افرادی قوت بھی درآمد کرے گا اور دو لاکھ پاکستانیوں کو ملازمت کے ویزے دیئے جائیں گے۔ وزیراعظم نواز شریف کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی قطر کا دورہ کیا اور امیر قطر کے علاوہ قطر کی اعلیٰ فوجی قیادت سے ملاقاتیں کیں، ان سب سرگرمیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ قطر مستقبل قریب میں پاکستان سے جے ایف17تھنڈر طیارے خریدے گا، اس طرح دونوں مُلک تجارتی تعاون کے ساتھ ساتھ دفاعی تعاون میں بھی آگے بڑھیں گے۔

قطر سے جو ایل این جی درآمد کی جا رہی ہے اس سے20فیصد مُلکی ضروریات پوری ہوں گی اس گیس سے کھاد کے کارخانے، ٹیکسٹائل ملیں اور بجلی بنانے والے یونٹ مستفید ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کو مزید گیس کی ضرورت ہو گی ’’تاپی‘‘ گیس پائپ لائن2019ء تک مکمل ہونے کا امکان ہے یہ ایک طویل روٹ ہے اور ترکمانستان سے گیس کی پائپ لائن افغانستان کے راستے سے گزر کر چمن پہنچے گی وہاں سے کوئٹہ کے راستے بھارت جائے گی، اس پائپ لائن کی تکمیل کے بعد نہ صرف پاکستان کو اپنی ضرورت کے لئے گیس میسر آ سکے گی، بلکہ اس پائپ لائن سے رائلٹی کی مد میں بھی پاکستان کو کروڑوں روپے حاصل ہوں گے، اِس لئے اس پائپ لائن کو بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنا ہو گا، اس منصوبے پر سوچ بچار تو رُبع صدی پہلے شروع ہو گئی تھی، لیکن اِس کا سنگ بنیاد خاصی تاخیر سے رکھا گیا تاہم اب ضرورت یہ ہے کہ تعمیراتی کام کو تیز رفتاری کے ساتھ مکمل کیا جائے۔

گیس کا تیسرا ذریعہ جو اس وقت پاکستان کو دستیاب ہے وہ ایران ہے، سابق حکومت کے آخری دِنوں میں ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ ہوا تھا،اطلاعات کے مطابق ایران نے پاکستان کی سرحد تک گیس پائپ لائن بچھا دی ہے اب وہاں سے نواب شاہ تک کے حصے میں پائپ لائن بچھانے کا کام باقی ہے، جو معاہدے کے تحت پاکستان نے کرنا ہے، کہا جاتا رہا ہے کہ ایران پر عالمی پابندیوں کی وجہ سے یہ پائپ لائن تعمیر نہیں ہو سکتی تھی۔ اِس دوران یہ باتیں بھی سامنے آئیں کہ پابندیوں کی وجہ سے کوئی بینک اس پائپ لائن پر سرمایہ کاری کے لئے تیار نہیں تھا، لیکن اب تو پابندیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے، اِس لئے اب اس کام کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ایران کے پاس گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں اور اگر یہ پائپ لائن تعمیر ہو جائے تو فوری طور پر ایران سے گیس کی فراہمی شروع ہو سکتی ہے، دوسرے شعبوں میں بھی ایران کے ساتھ تعاون کے مواقع موجود ہیں اِس لئے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی تعمیر کی فوری ضرورت ہے۔ اگر اس معاہدے پر عمل نہ ہوا تو دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں اِس لئے اس معاہدے کی تکمیل ضروری ہے، اس کے نہ صرف مثبت اقتصادی اثرات مرتب ہوں گے، بلکہ سیاسی مضمرات بھی سامنے آئیں گے، قطر سے آنے والی گیس چونکہ20فیصد ملکی ضروریات ہی پوری کرے گی اِس لئے دوسرے ذرائع سے بھی گیس کی درآمد کے انتظامات بروقت مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ گیس کی دستیابی سے نہ صرف صنعتیں چلیں گی، بلکہ بجلی کی پیداوار میں بھی اضافہ ہو گا۔

مزید :

اداریہ -