ہیٹی کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی اور سست عدالتی نظام قابل مذمت ہے،اقوام متحدہ

ہیٹی کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی اور سست عدالتی نظام قابل مذمت ...

  

اقوام متحدہ (اے پی پی) اقوام متحدہ نے ہیٹی کی جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی رکھنے اور سست قانونی نظام کی مذمت کی ہے۔عالمی ادارے کے ہیٹی کیلئے انسانی حقوق کے ماہر گستاوو گیلن نے دسمبر 2012 ء سے ہیٹی کی جیل میں قید ایک قیدی سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی رکھے جاتے ہیں اس کے علاوہ عدالتی نظام انتہائی سست ہے جبکہ قیدی تاریخوں کا طویل عرصے تک انتظار کرتے کرتے سلاخوں کے پیچھے زندگی کے قیمتی لمحات گزار دیتے ہیں۔مذکورہ قیدی کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ اس پر ایک چوری کے گن خریدنے کا الزام ہے جس کی سزا ڈیڑھ سال قید ہے ، تاہم اسے تین سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجو جج کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں 72 فیصد قیدی ایسے ہیں جو عدالتی کارروائی کے منتظر ہیں اور انسانی حقوق کے ادارے اس چیز کا کئی عشروں سے تذکرہ کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہیٹی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اب بھی معمول ہے اور یہ مسائل ماضی بعید میں حل ہوجانے چاہئیں تھے۔یاد رہے کہ قیدیوں پر تحقیق کے بین الاقوامی ادارے کے مطابق ہیٹی کی جیلوں میں گنجائش سے 450 فیصد زیادہ قیدی رکھے جاتے ہیں جوکہ دنیا بھر میں قیدی رکھنے کی سب سے زیادہ شرح ہے۔

مزید :

عالمی منظر -