دنیا میں باعزت بقا کے لئے قوم کا صاحب علم ہونا ضروری ہے،ڈاکٹر مجاہد کامران

دنیا میں باعزت بقا کے لئے قوم کا صاحب علم ہونا ضروری ہے،ڈاکٹر مجاہد کامران

  

لاہور( اپنے نامہ نگار سے ) وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا ہے کہ دنیا میں باعزت بقا کے لئے قوم کا صاحب علم ہونا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ علم کا مطلب فطرت کا علم ہے ہمیں علم سے متعلق اپنا مفہوم درست کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی آفس آف ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائیزیشن کے زیر اہتمام الرازی ہال میں منعقدہ دوروزہ ’’5th انوینشن ٹو انوویشن سمٹ2016ء ‘‘کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پرچیئرمین پاکستان سائنس فاوٗنڈیشن ڈاکٹر محمد اشرف،یو ایم ٹی ریکٹر ڈاکٹر حسن صہیب مراد،سی ای او آئی آر پی عابد ایچ کے شیروانی، ڈائریکٹر آفس آف ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائیزیشن ڈاکٹر عامر اعجاز،فیکلٹی ممبران،طلباؤ طالبات اور مختلف صنعتوں اور تعلیمی و تحقیقی اداروں سے تعلق رکھنے والے شرکاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا کہ دنیا میں فساد کی صرف 2 وجوہات ہیں کہ دنیا کی طاقتور قوموں پر ارتکاز زر کی وجہ سے چند مالدار خاندانوں کا قبضہ ہے اور دوسرا دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا نئے علم کی تخلیق میں حصہ نہ ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کا جی ڈی پی 17 ٹریلین ڈالر ہے اور امریکہ میں نئے علم کی تخلیق پر جی ڈی پی کا سالانہ 2 سے 3 فیصد یعنی 340-510 ارب ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں جبکہ پاکستان کا کل جی ڈی پی تقریباََ 250 ارب ڈالر ہے جس میں سے صرف صفر اعشاریہ 2 فیصد کی قلیل رقم آر اینڈ ڈی پر خرچ کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کی عساکر مضبوط ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان سائنس فاوٗنڈیشن ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا کہ ٹیکنالوجی اکانومی کا انجن ہے پاکستان سائنس فاوٗنڈیشن اطلاقی سائنسی منصوبوں کو فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سائنس میں ذہین نوجوانوں کے ٹیلنٹ کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں اس کے علاوہ ایسے3 سو بچے جو سائنس دان بننا چاہتے ہیں انہیں سکالرشپس دیں گے اور اس پروگرام کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سائنس فاوٗنڈیشن اب تحقیقاتی پراجیکٹس کے کیسز جلد نمٹا رہی ہے اور فنڈنگ سے متعلق مسائل حل کر رہے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ پروموشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عابد شیروانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پانچ سال سے کانفرنس کا کامیابی سے انعقاد کیا جا رہا ہے جس پر ہم ڈاکٹر مجاہد کامران اور پاکستان سائنس فاوٗنڈیشن کے تعاون پر شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں 100 سے زائد صنعتی ، تعلیمی اور تحقیقی ادارے شرکت کر رہے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد محققین، سائنسدان، طلباء و طالبات اور صنعتوں سے وابستہ افراد کانفرنس میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں 500 سے زائد انڈیجنس ٹیکنالوجیز کی نمائش ہوئی ہے جبکہ 100 پراجیکٹس ایسے ہیں جنھیں صنعتیں اپنا سکتی ہیں۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر حسن صہیب مراد نے کہا کہ کانفرنس اپنی نوعیت کا پاکستان کا سب سے بڑا ایونٹ ہے جسے بین الاقوامی سطح پر لے کر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے پراجیکٹس کی حوصلہ افزائی اور ذیادہ سے ذیادہ فنڈنگ کے لئے پالیسیاں بنائے ۔ انہوں نے کہا کہ چائنا پاکستان اکانومک کاریڈور تبھی کارآمد ہو گا جب ہماری مصنوعات بکیں گی۔ ہمیں صرف پل بنانے کی بجائے اس سڑک کے ذریعے اپنی مصنوعات دنیا تک پہنچانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ذہین عوام میں سب کو حیران کرنے کی صلاحیت ہے۔ بعد ازاں ڈاکٹر مجاہد کامران نے پاکستانی سائنسدانوں اور محققین کی جانب سے صنعتی و عام استعمال کی مصنوعات کی ایجادات و اختراعات پر مبنی نمائش کا افتتاح کیا اور تمام سٹالز پر انہیں پاکستانی سائنسدانوں اور محققین کی جانب سے کی گئی مختلف مصنوعات کی اختراعات اور ایجادات پر بریفنگ دی گئی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -