’’پاکستان میں قانون کی حکمرانی ‘‘خیبر پختونخوا پہلے اور پنجاب کا دوسرا نمبر ،بلوچستان اور سندھ کارکردگی نہ دکھا سکے

’’پاکستان میں قانون کی حکمرانی ‘‘خیبر پختونخوا پہلے اور پنجاب کا دوسرا ...

  

لاہور(خصوصی رپورٹ) پلڈاٹ نے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا معیار جانچنے کیلئے ’’پاکستان میں قانون کی حکمرانی پر صوبائی انڈیکس 2016‘ پر اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق خیبرپختونخواہ کی پہلی، پنجاب کی دوسری پوزیشن جبکہ بلوچستان اور سندھ عوام اور ماہرین کی امنگوں کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکے۔پلڈاٹ کے تیار کردہ ’قانون کی حکمرانی کا صوبائی انڈیکس‘ پاکستان کے چاروں صوبوں میں اپنی نوعیت کا پہلا تجزیہ اور موازنہ ہے،تمام صوبوں میں قانون کی حکمرانی کی آگہی کے لئے تین انڈیکس لئے گئے ہیں،قانون کی حکمرانی کے مجموعی انڈکس میں خیبرپختونخواہ پہلے، پنجاب دوسرے،بلوچستان تیسرے اور سندھ چوتھے نمبر پر ہے،ماہرین نے پنجاب کو سب سے بہتر قرار دیا،خیبرپختونخواہ،آٹھ ذیلی انڈیکس میں سے چار میں پہلے نمبر پر ہے اور دیگر تین میں دوسرے نمبر پر ہے،بلوچستان ایک ’قانون اور امن عامہ‘ کے سوا تمام ذیلی انڈیکس میں دوسرے نمبر پر رہا،پنجاب اور سندھ نے زیادہ برا سکور حاصل کیا،عدلیہ کے بارے میں عوامی تاثر تمام ریاستی اداروں میں سب سے زیادہ بدعنوان ادارے کا ہے،پولیس کی کارکردگی کو سب سے کم نمبر ملے۔عوام الناس اور تکنیکی ماہرین کے تاثر پر مبنی ایک سروے کے مجموعی نتائج کے مطابق‘ خیبرپختونخواہ 0.63 کے مجموعی سکور کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ اس کے بعد پنجاب 0.58 کے مجموعی سکور کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ 0.40 کے مجموعی سکور کے ساتھ بلوچستان تیسرے نمبر پر ہے۔ مجموعی انڈیکس کے مطابق 0.38 کے مجموعی سکور کے ساتھ صوبہ سندھ آخری نمبر پر ہے۔آئینِ پاکستان میں 18 ویں ترمیم 2010 کے بعد سے قانون کی حکمرانی کے متعدد پہلو مرکز سے صوبوں کو منتقل ہو گئے ہیں۔ لہذاقانون کی حکمرانی اب صوبائی موضوع ہے۔ انتظامیہ اور گورننس میں صوبوں کے اضافی کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے،پلڈاٹ نے پنجاب،سندھ،خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں عوام الناس اور متعلقہ ماہرین کے تجربات اور تاثرات کی بنیاد پر قانون کی حکمرانی کا یہ صوبائی انڈیکس وضع کیا ہے جس میں پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے حوالے سے تقابلی صوبائی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔انڈیکس کا مجموعی سکور قانون کی حکمرانی کے آٹھ عوامل،حکومتی اختیارات پر قدغن،بدعنوانی کا نہ ہونا،حکومت کا قابل رسائی ہونا،بنیادی حقوق،امن اورسلامتی کی صورتحال،انضباط کار کا نفاذ،دیوانی نظام انصاف اورفوجداری نظام انصاف کی بنیاد پر تیار کیا گیا ،قانون کی حکمرانی کے ان 8 عوامل کی 44 ذیلی عوامل میں مزید تقسیم کی گئی ہے اور ہر فیکٹر کے اوسطاً 5 سے 6 ذیلی عوامل ہیں۔’’قانون کی حکمرانی کا صوبائی انڈیکس 2016‘‘ اِن آٹھ عوامل کے بارے میں سکور اور درجہ بندی کے ذریعے ہر صوبے میں قانون کی حکمرانی کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ان آٹھ عوامل میں سے پنجاب کی بہترین کارکردگی ’’ امن اور سلامتی‘‘ میں ہے،خیبرپختونخواہ کی بہترین کارکردگی ’’بدعنوانی کا نہ ہونا‘‘،سندھ کی بہترین کارکردگی ’’انضباط کار کا نفاذ‘‘ اور بلوچستان کی بہترین کارکردگی ’’حکومت کا قابل رسائی ہونا‘‘ میں ہے۔پنجاب کی بدترین کارکردگی ’’دیوانی نظام انصاف‘‘،سندھ کی بدترین کارکردگی ’’بدعنوانی کا نہ ہونا‘‘،خیبرپختونخواہ کی بد ترین کارکردگی ’’انضباط کار کا نفاذ‘‘ اور بلوچستان کی بدترین کارکردگی ’’امن اور سلامتی‘‘ میں رہی۔پنجاب کو ماہرین نے 8 میں سے 7 عوامل میں عوام الناس سے بہتر سکور دیا۔ سندھ کو 8 میں سے 5 عوامل میں خیبرپختونخواہ کو 8 میں سے 2 عوامل میں اور بلوچستان کو 8 میں سے ایک فیکٹر میں بہتر سکور دیا۔پلڈاٹ کے مطابق یہ انڈیکس نہ صرف ہر صوبے میں قانون کی حکمرانی میں مستحکم اور کمزور پہلوؤں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ ان پالیسی اقدامات کے چناؤ کی عکاسی کرتا ہے جو ان صوبوں میں قانون کی حکمرانی میں استحکام لا سکتی ہیں۔ اس کا ایک مقصدملک میں قانون کی حکمرانی کے بارے میں پالیسی ساز افراد،ارکان اسمبلی،سول سوسائٹی کے ارکان،ماہرین قانون‘ وکلاء،ماہرین تعلیم اور میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد کو ایک جامع منظرنامہ پیش کرنا بھی ہے۔’’پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا صوبائی انڈیکس 2016‘‘ کو پلڈاٹ نے ’’پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے استحکام (پولیس‘ پراسیکیوشن سروس اور قانونی امداد)‘‘ کے تحت تیار اور شائع کیا ہے جس کیلئے اسے Gallup پاکستان کی تکنیکی معاونت حاصل ہوئی تاہم اس کے لئے مالی معاونت Democratic Accountability and Civic Engagement (EDACE) کے تحت Development Alternatives Inc. (DAI) سے حاصل ہوئی۔ پلڈاٹ نے عوامی سروے ماہرین کی آرا اور اس پر مبنی مشترکہ اشاریہ سکور کارڈ اور تجزیے کی صحت کو یقینی بنانے کی ہر ممکن سعی کی ہے لہٰذا کوئی بھی سہو یا چوک ارادی نہ ہو گی،ضروری نہیں کہ اس اشاریے میں پیش کی گئی آرا اور تجزیہDevelopment Alternatives Inc.کی آرا کی عکاسی کرتا ہو۔

مزید :

صفحہ اول -