جان کیری نے پاکستان کی تعریف کی اور ایٹمی پروگرام منجمد کرنے کا مطالبہ کر دیا!

جان کیری نے پاکستان کی تعریف کی اور ایٹمی پروگرام منجمد کرنے کا مطالبہ کر دیا!

  

تجزیہ :چودھری خادم حسین

مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے واشنگٹن میں بات کرتے ہوئے پاکستان کا واضح موقف بیان کر دیا اور کہا ہے کہ پاکستان اپنا ایٹمی پروگرام اس وقت تک منجمد نہیں کر سکتا جب تک بھارت ایسا نہ کرے، انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان ذمہ دار ایٹمی ملک ہے اور کم از کم ڈیٹرنٹ کا قائل جو دفاع کے لئے ضروری ہے، انہوں نے امریکہ سے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے، اس کے علاوہ سرتاج عزیز نے یہ بھی بتایا کہ پاک بھارت سیکرٹری خارجہ ملاقات پاکستان کی تفتیشی ٹیم کے دورہ پاکستان کے بعد ہی ہوگی انہوں نے کہا بدقسمتی سے اس واقعہ کی وجہ سے یہ ملاقات موخر ہو گئی تھی۔

مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے یہ موقف امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے اس مطالبے کے بعد واضح کیا جس کے مطابق امریکی رہنما نے بتایا تھا کہ روس اور امریکہ ایٹمی ہتھیاروں میں کمی پر رضامند اور ایسا چاہتے ہیں اور اس لئے پاکستان کو بھی اس پرغور کرنا چاہیے اور کم از کم اپنا ایٹمی پروگرام منجمد ضرور کر دینا چاہیے۔ سرتاج عزیز سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے حوالے سے امریکہ گئے اور ان کے مذاکرات بھی ہوئے جن کے دوران اور پھر میڈیا کے سامنے جان کیری نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارروائی اور کارکردگی کی تعریف کی اور ایف۔16 کی حوالگی کے حوالے سے بھی کہا کہ پاکستان کو ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ایف۔16کی کارکردگی متاثر کن ہے۔جان کیری نے جو بھی کہا وہ امریکی حکومت کا موقف ہے اور یہ چینی میں لپٹی کڑوی گولی کے مترادف ہے کہ بھارت سے تو سوال ایٹمی معاہدہ کیا جاتا اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر نظر رکھی جاتی ہے۔ جان کیری نے پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کی توقع کی ہے اسی حوالے سے محترم سرتاج عزیز نے اپنا موقف واضح کیا ہے۔

ادھر بھارت کا رویہ وہی ہے، چال بے ڈھنگی والا، خبر کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے نومبر میں سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے اسلام آباد آنا ہے اور انہوں نے اپنی آمد کو مشروط کر دیا ہے کہ پٹھان کوٹ ایئربیس کی تحقیق میں پیش رفت (بھارتی موقف کے مطابق) ہونے پر ہی آئیں گے اور اب بھارت کے وزیردفاع پاریکر نے اپنے ایوان بالا میں پٹھان کوٹ ایئر بیس کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے واضح الزام لگا دیا ہے کہ پٹھان کوٹ ایئر بیس کے حملہ آور نان سٹیٹ ایکٹر تھے جو پاکستان سے آئے اور ان کو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی تائید اور تعاون حاصل تھا، یوں بی جے پی حکومت نے عالمی دباؤ سے بچنے کے لئے نئی اختراع کی ہے اور اس سلسلے میں کانگریس نے اپنے انداز میں بی جے پی پالیسی کی تائید کر دی ہے اور پاکستان دشمنی میں حزب اقتدار کے ساتھ مل گئی ہے، ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ کانگرس سے ہیں جنہوں نے 19مارچ کا پاک بھارت میچ دھرم شالا کی گراؤنڈ میں کرانے سے انکار کر دیا ہے۔

پاک بھارت تعلقات ہمیشہ سے اسی طرح اونچ نیچ کا شکا رہیں اور ماضی بھی شاہد ہے کہ تمام بھارتی سیاسی جماعتیں پاکستان مخالفت میں ایک ہی جیسا ذہن رکھتی ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک سے زیادہ بار جنگ ہوئی تو کانگریس کے دور ہی میں ہوئی اور مشرقی پاکستان بھی بنگلہ دیش کانگرس ہی کے دور حکومت میں بنا تھا، لیکن پاکستان میں سیاست کا عالم ہی مختلف ہے۔ یہاں سیاسی عمل کو دشمنی کی حد تک لے جایا جاتا ہے۔ برسراقتدار مخالفوں (حزب اختلاف) کو لفت نہیں کراتے اور اقتدار کے مزے لیتے رہتے ہیں جبکہ مخالف جماعتیں حزب اختلاف نہیں حزب مخالف بن جاتی ہیں اور یوں دونوں اطراف سے جمہوری عمل متاثر ہوتا ہے، اب بھی ایسی ہی صورت حال ہے، ہر مخالف حکومت کے خلاف حالات کو نازک سے نازک تر بناتا چلا جا رہا ہے اور حکمران بھی صحیح جذبے کے ساتھ قدم نہیں بڑھا رہے۔ بحران جاری ہے اور جلد ہی ٹھیک ہو جائے گا۔

مزید :

تجزیہ -