سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر ہونے پر 3سالہ بچی کے قاتل کی پھانسی ٹل گئی

سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر ہونے پر 3سالہ بچی کے قاتل کی پھانسی ٹل ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر ہونے کی بنیاد پر سپرنٹنڈنٹ جیل کوٹ لکھپت نے جیل قوانین کے تحت 3سالہ بچی کے قاتل کو آج 3مارچ کو دی جانے والی پھانسی پر عملدرآمد روک دیاہے۔سیشن جج لاہور کی طرف سے راوی روڈ کی تین سالہ میمونہ کے قتل میں موت کی سزا پانے والے قیدی محمد آزاد کو کل کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دینے کے لے ڈیتھ وارنٹ جاری کئے گئے تھے تاہم جیل انتظامیہ نے سپریم کورٹ میں قیدی کی پھانسی کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر ہونے پر پھانسی پر عملدرآمد روک دیا ہے، قیدی محمد آزاد نے آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ کی وساطت سے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قیدی کی کمسن مقتولہ میمونہ کے ورثاء کے ساتھ صلح ہو چکی ہے لیکن پھر بھی اس کی پھانسی کے لئے ڈیتھ وارنٹ جاری کئے گئے ہیں، آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ کے مطابق جیل انتظامیہ نے سپریم کورٹ رجسٹری کی طرف سے نظرثانی کی درخواست موصول ہونے کے مراسلہ کے بنیاد پر پھانسی پر عملدرآمد روکا ہے، نظرثانی کی درخواست کو بھی قانون کی نظر میں اپیل ہی سمجھا جاتا ہے اور جب تک سپریم کورٹ میں اپیل زیر سماعت ہو ، تب تک کسی قیدی کو پھانسی نہیں دی جا سکتی، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مراسلہ موصول ہونے کے بعد جیل انتظامیہ نے قیدی کے اہل خانہ کو پھانسی روکنے سے متعلق آگاہ کر دیا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -