ایل این جی منصوبہ سے کئی سال سے جاری بجلی اور گیس کا بحران ختم ہو گا: ماہرین

ایل این جی منصوبہ سے کئی سال سے جاری بجلی اور گیس کا بحران ختم ہو گا: ماہرین

  

لاہور(لیاقت کھرل) ایل این جی منصوبہ سے کئی سالوں سے جاری بجلی اور گیس کا بحران ختم، پاور اور انڈسٹریز سیکٹر کو فراہمی سے سستی بجلی اور معیشت مضبوط ہو گی۔ سی این جی اسٹیشنوں کو آر ایل این جی کی فراہمی سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری اور سستے فیول سے ٹرانسپورٹ کے کرائے کم ہوں گے۔ تاہم ایل این جی کی 2600 ملین کیوبک فٹ تک درآمدگی کا ٹارگٹ کو مکمل کرنے سے بجلی اور گیس بحران کے خاتمہ میں مدد مل سکتی ہے اور جس سے پاور سیکٹر کی ڈیمانڈ کو بھی پورا کیا جا سکے گا۔ ان خیالات کا اظہار گیس کمپنی کے حاضر و ریٹائرڈ اعلیٰ افسران ، گیس ماہرین اور انجینئروں نے ’’ پاکستان‘‘ سے خصوصی گفتگو میں کیا ہے۔ جس میں ایل این جی منصوبے کو پاکستان کے لئے انتہائی مفید ترین منصوبہ اور معیشت کی ترقی کا ضامن قرار دیا گیا ہے۔ گیس کمپنی کے ماہرین چودھری مسعود احمد، ریحان ضیاء، سہیل گلزار، سید جواد نسیم، مجاہد اسلام اور دیگر نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت گیس کی ڈیمانڈ 3500 سے 4000 ملین کیوبک فٹ ہے۔ اس کے مقابلہ میں گیس کے موجودہ ذخائر 1200 ملین کیوبک فٹ ہے اور اس میں گیس ذخائر پیدا کرنے والے کنوؤں میں سب سے بڑے فیلڈ سوئی گیس فیلں چس سے 100 ملین کیوبک فٹ گیس حاصل ہو رہی تھی۔ اب 250 ملین کیوبک فٹ اور دوسرے نمبر پر ساون گیس فیلڈ اور تیسرے نمبر پر زم زم گیس فیلڈز سے 600 ملین کیوبک فٹ حاصل ہو رہی تھی جو کہ اب ان دونوں فیلڈز سے 200 سے 225 ملین کیوبک فٹ حاصل ہو رہی ہے۔ جس کے باعث گیس کے موجودہ ذخائر انتہائی ناکافی اور صرف گھریلو ڈیمانڈ کو کسی حد تک اگلے دو سے تین سال تک چلانے کے کارآمد ہو سکتے ہیں جس کی بنا پر گزشتہ چند سالوں سے پاور سیکٹر، سی این جی اور انڈسٹریز سیکٹر کو گیس کی فراہمی میں دشواری کا سامنا ہے۔ گیس ماہرین اور گیس کمپنی سے ملنے والی معلومات کے مطابق پاور سیکٹر کو کم سے کم 900 سے 100 ملنی کیوبک فٹ گیس درکار ہے جو کہ ایل این جی منصوبے سے کم سے کم 600 ملین کیوبک فٹ دی جا سکے گی ، جس سے پاور سیکٹرز گڈو پاور، اورینٹ پاور، سیف پاور، بھکی پاور، سفائر پاور، مظفر گڑھ پاور ، ملتان پاور ، لبرٹی پاور کی ڈیمانڈ کو پورا کیا جا سکے گا۔ اس سے بجلی پیدا ہونے پر انرجی بحران کا خاتمہ، بجلی کی قیمتوں میں کمی اور معیشت پروان پکے گی، جبکہ صوبے میں چار ہزار سے زائد بڑی صنعتیں جن کو گیس کی فراہمی معطل ہے، ایل این جی سسٹم میں آنے سے انڈسٹریز سیکٹر کو 500 سے 600 ملین کیوبک فٹ کی کم سے کم ضرورت کو پورا کیا جا سکے گا، جس سے برآمدات کے ٹارگٹ کو پورا کیا جا سکے گا جس سے معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ فرٹیلائزر کو یعنی کھانے تیار کرنے والے کارخانوں اور سی این جی سیکٹر کو گیس ملنے سے ملک میں کھاد کی ضرورت کو پورا اور سستے فیؤل سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی آئے گی۔ اس سے گھریلو سیکٹر جس کو گرمیوں میں 400 سے 500 ملین کیوبک فٹ اور سردیوں میں 22 سو سے 2500 ملین کیوبک فٹ کی ڈیمانڈ ہے۔ اس کو بھی پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ گیس ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ایل این جی جو کہ فی الحال جو کہ 400 ملین کیوبک فٹ ویکلی بیس پر درآمد کی جا رہی ہے اس میں درآمدگی 2000 ملین کیوبک فٹ تک بڑھانے پر گیس کی قیمتوں میں بھی کمی ہو سکے گی اور ملک میں کھاد تیار کرنے ، پاور سیکٹر اور معیشت کو چلانے کے لئے ضرورت کو پورا کیا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ اگر تاپی گیس منصوبے اور ایران گیس منصوبہ کو مکمل کیا جاتا ہے تو اگلے 20 سے 25 سال تک گیس کے اضافی ذخائر میسر ہو سکیں گے اور صنعتوں کے لئے گیس کے کنکشن کی پابندی ختم کرنے سے نئی صنعتیں قائم ہو سکیں گیں اور گھریلو سیکٹر ، فرٹیلائزر اور کمرشل سمیت سی این جی سیکٹر کی ڈیمانڈ کے مطابق نئے گیس کنکشن میں مدد ملے گی اور ان سیکٹرز کی ڈیمانڈ کو بھی پورا کیا جا سکے گا۔ اس حوالے سے گیس کمپنی کے حکام سہیل گلزار ، سید جواد نسیم اور دیگرکا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لئے گیس کمپنی کے سسٹم کو بھی اپ گریڈ کیا جا رہا ہے جس کیلئے روس کے ساتھ ارپوں روپے مالیت کے منصوبے کا معائدہ طے پا گیا ہے۔ ساون سے ملتان تک 42 انچ کی نئی ٹرانسمیشن لائن جبکہ کراچی سے لاہور تک 42 انچ کی ٹرانسمیشن لائن بچھائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد سمیت ملتان اور راولپنڈی کے اضلاع میں گیس کمپنی کے پرانے سسٹم کو جدید بنیادوں پر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے جس سے گیس کے لائن لاسز اور یو ایف جی پر تقریباً مکمل طور پر کنٹرول ممکن ہو سکے گا۔

مزید :

صفحہ آخر -