پٹھانکوٹ حملہ کیس، ایٹا8ی صلاحیت میں کمی، بھارت اور امریکہ سے دوٹوک الفاظ میں بات کرنا ہو گی: سیاسی رہنما، عسکری ماہرین

پٹھانکوٹ حملہ کیس، ایٹا8ی صلاحیت میں کمی، بھارت اور امریکہ سے دوٹوک الفاظ ...

  

لاہور( جاوید اقبالِ شہزاد ملک ، نواز سنگرا) امریکہ کی طرف سے پاکستان کو اٹیمی صلاحتیں کم کرنے کا مطالبہ اور بھارت کی طرف سے پٹھان کوٹ حملہ کیس پر دباؤ بڑھانے کے بیانات پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے لہٰذا پاکستان اس کا بھرپور جواب دے،ان خیالات کا اظہار مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور عسکری و خارجہ امور کے ماہرین نے کیا ہے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ اقوام عالم جانتی ہے کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور پاکستان میں دنیا میں پائیدار امن و استحکام اور خطےء کی سلامتی کویقینی بنانے کے لئے لا زوال قربانیاں دی ہیں مگر بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی نہ صرف پشت پناہی کرتا آر ہا ہے بلکہ انہیں ہر طرح کی مدد بھی فراہم کررہا ہے جس کے ثبوت پاکستان نے عالمی طاقتوں کو فراہم کئے پاکستان کا اٹیمی پروگرام پر امن اور محفوظ ہاتھوں میں ہے لہٰذاامریکہ کواس ایشو پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے مگر پاکستان کو ان معاملات پر امریکہ اور بھارت سے دو ٹوک الفاظ میں بات کرنا ہو گی۔جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیا قت بلوچ نے کہا کہ ہندوستان پاکستان کے خلاف دشمنی میں بالکل اندھا ہوچکا ہے جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ بعد میں ہمیشہ بھارت کو منہ کی کھانا پڑی۔پٹھان کوٹ واقعہ کوبہانہ بناکر ہندوستان پاکستان پر دباؤبڑھانا چاہتا ہے۔پاکستانی حکومت ہندوستان کی چالبازیوں میں آنے اور کمزوری دکھانے کی بجائے اسے دوٹوک انداز میں جواب دے۔ اے این پی کے رہنما حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ پاکستان کی حکومت کو بھارت کی بے بنیادالزام تراشیوں پرعالمی دنیا اور یواین اوسے رجوع کرنا چاہئے اور بھارت کااصل چہرہ بے نقاب کیا جائے۔ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جس نے دنیا میں پائیدارامن و استحکام اور خطے کی سلامتی کویقینی بنانے کے لئے بے شمار اور لازوال قربانیاں دی ہیں مگر اس کامطلب یہ ہرگز نہیں کہ پاکستان کی سلامتی اور بقاء کودشمنوں کے رحم وکرم پرچھوڑ دیاجائے۔ جے یو آئی کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے کہا کہ اقوام عالم جانتی ہے کہ بھارت ایک دہشت گردی کوپروان چڑھانے والی ریاست ہے جس نے ہمیشہ ’’را‘‘کے ذریعے بلوچستان سمیت پاکستان کے دیگرعلاقوں میں دہشت گردی کی اور اس کے ذریعے وہ اب تک اپنے مذموم عزائم کوعملی جامہ پہنانے کے لئے اقدامات کرتاچلاآیاہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی فوج کے مظالم، پرتشددکاروائیوں ،خواتین کی بے حرمتی،کالے قوانین کا اطلاق اور نوجوانوں کواغواکرکے کئی سالوں تک عقوبت خانوں میں ڈالے رکھنا جیسے جرائم کوکسی طور پربھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ عوامی مسلم لیگ کے سر براہ شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان کو امریکہ بھارت اور اسرائیل کے گھٹہ جوڑ سے با خبر رہنا ہو گا پاکستان کے پر امن اٹیمی پروگرام اورپٹھان کوٹ حملہ کو بنیاد بنا کر امریکہ اور بھارت پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں پاکستان کو ان دونوں کی چالبازیوں سے با خبر رہنا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت محدود کرنے اور نیوکلیئر اسلحہ کاذخیرہ کم کرنے کا امریکی مطالبہ غیر آئینی ا ورغیر قانونی ہے امریکہ کا یہ مطالبہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے پاکستان کو امریکی ڈکٹیشن قبول نہیں کرنی چاہئے حکمران پاکستانی عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے قومی مفاد میں پالیسیاں بنائیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اگر بھارت اپنی اٹیمی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے تجربات جاری رکھے گا تو پاکستان بھی اپنے دفاع کے لئے کام کرتا رہے گا امریکہ کو بھارت کا اٹیمی پروگرام نظر کیوں نہیں آتا بھارت اپنی دفاعی طاقت بڑھا رہا ہے جس کو لگام ڈالنے کی بجائے امریکہ پاکستان پر مختلف طریقوں سے دباؤ بڑھاتا ہے امریکہ جان لے کہ پاکستان ایک پر امن اور ذمے دار اٹیمی طاقت ہے پاکستان کا اٹیمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے ہم اپنے ملک کے عوام اور ایٹمی پروگرام کی حفاظت اچھے طریقے سے کررہے ہیں اور عوام کا دفاع بھی کررہے ہیں بھارت پاکستان میں خود دہشت گردی میں ملوث ہے ۔جنرل (ر) راحت لطیف نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ہونیو الی دہشت گردی میں بھارت کا ہاتھ ہے اور بھارت نے یہ شیوہ بنا لیا ہے کہ اس کے ملک میں جو بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو وہ اس کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیتا ہے بھارت کو اپنی سوچ بدلنا ہو گی پاکستان خود دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے وہ کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کیوں کروائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر خان ترین نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کمزور ہے پاکستان کو خارجہ پالیسی تبدیل کرنا ہو گی امریکہ اور بھارت پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے یہ حکومت کی کمزوری ہے کہ امریکہ اور بھارت کے نت نئے مطالبے روز سامنے آتے ہیں ۔جنرل (ر) ضیاء الدین بٹ نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی خود پشت پناہی کررہا ہے اور بلوچستان سمیت پورے ملک میں دہشت گردی کاروائیوں کی سر پرستی کی اب وہ اپنا پٹھان کوٹ حملہ کیس کے نام پر اپنا اصل چہرہ چھپانے کے لئے پاکستان پر الزام عائد کررہا ہے جب پاکستان تحقیقات کررہا ہے تو اس کو نتائج آنے تک الزامات کی سیاست سے گریز کرنا چاہئے ۔کامل علی آغا نے کہا کہ بھارت نے یہ وطیرہ ہی بنا لیا ہے کہ وہ ہر بات پر پاکستان پر الزام لگانا شروع کردیتا ہے پٹھان کوٹ واقعہ کے کرداروں کو بھارت بے نقاب کرکے دنیا کے سامنے لائے اور پاکستان پر انگلیاں اٹھانے سے گریز کرے اورجہاں تک امریکی بیان کا تعلق ہے تو اپنا دفاع کرنا پاکستان کا حق ہے ۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پاکستان ایک ذمے دار ملک ہے اور اپنے دفاع کا حق بھی رکھتا ہے کسی کو ہمارے ایٹمی پروگرام کی فکز نہیں ہو نی چاہئے اقوام عالم کو پتہ ہے کہ پاکستان کا نیو کلئیر پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔

مزید :

صفحہ آخر -