کسی قانون کو غیر اسلامی قرار دینے کا اختیار صرف وفاقی شرعی عدالت کے پاس ہے: لاہور ہائیکورٹ

کسی قانون کو غیر اسلامی قرار دینے کا اختیار صرف وفاقی شرعی عدالت کے پاس ہے: ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے حقوق نسواں ایکٹ کے خلاف دائردرخواست واپس لینے کی بنیادپر خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی قانون کو غیر اسلامی قرار دینے کا اختیار صرف وفاقی شرعی عدالت کے پاس ہے ۔ہائی کورٹ کسی قانون کو اسلام کے منافی قرار دینے کی مجاز نہیں ۔یہ درخواست ناہید بیگ نامی وکیل نے دائر کی تھی جس کی ابتدائی سماعت مسٹر جسٹس شاہد وحیدنے کی ۔درخواست میں خواتین پر تشدد کے خلاف پنجاب اسمبلی کے ایکٹ کو چیلنج کیا گیا تھا،سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے نشاندہی کی کہ ہائیکورٹ کو اسلامی قوانین کے بارے میں درخواستوں پر سماعت کا اختیار نہیں ہے جسٹس شاہد وحید نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 203 ڈی کے تحت ایسے معاملات پر سماعت کا اختیار وفاقی شرعی عدالت کے پاس ہے جس پرناہید بیگ نے اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی جسے منظور کرتے ہوئے فاضل جج نے درخواست واپس لینے کی بناء پر خارج کردی ۔ درخواست میں یہ اعتراض اٹھایا گیا تھاکہ حقوق نسواں ایکٹ سے خاندانی نظام بری طرح متاثر ہو گا جبکہ نئے قانون سے قرآن میں دی گئی مرد کی حیثیت متاثر ہو گی، اس لئے حقوق نسواں ایکٹ کو غیر آئینی اورغیر اسلامی قرار دے کر کالعدم کیا جائے ۔

مزید :

صفحہ آخر -