لاہور پریس کلب، پلاک میں

لاہور پریس کلب، پلاک میں
لاہور پریس کلب، پلاک میں

  

میں ہر روز سوچتا ہوں کہ پنجابی انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر صغرا صدف کی مخالفت میں کوئی دھواں دھار کالم لکھوں ۔ سبب اس کا یہ ہے کہ وہ ہر روز کسی نہ کسی ٹی وی چینل کی سکرین پر معصوم صورت بنائے کبھی شعر سنا رہی ہوتی ہے، کبھی تصوف پر بات کر رہی ہوتی ہے، کبھی موسیقی کے کسی پروگرام میں بیٹھی سر دھن رہی ہوتی ہے، کبھی کسی تقریب کی نظامت کا فرض ادا کر رہی ہوتی ہے۔ کبھی دوستوں اور سہیلیوں کے جھرمٹ میں بیٹھ کر محبت کی خوشبو بکھیر رہی ہوتی ہے۔ مجھے اس کی یہ کامیابیاں ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ یہی نہیں بلکہ ہر روز سارے اردو اخبارات بھی اس کی تصویروں سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک بار میں نے اس کا خاکہ بھی لکھ ڈالا تھا اور عنوان رکھا تھا:’’چلاکو ماسی‘‘ لیکن جب دوبارہ پڑھا تو یہ سوچ کر پھاڑ کر پھینک دیا کہ وہ کشور ناہید ہے نہ میں احمد بشیر جنہوں نے کشور ناہید کو ’’چھپن چھری‘‘ قرار دیا تھا۔ میں نے یہ سوچ کر بھی وہ خاکہ پھاڑ ڈالا تھا کہ خواہ مخواہ کسی کو مشہور کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جیسا چل رہا ہے، ویسا ہی چلنے دیتا ہوں۔ ویسے صغرا صدف کو میں نے اگر’’چلاکو ماسی‘‘ کا خطاب دیا ہے تو اس میں اس کا وہ سگھڑ پن، پیار، انصاف اور دوستوں کو ہمیشہ ساتھ لے کر چلنے کا سبھاؤ کار فرما ہے، جو اس کی شخصیت اور شہرت کو روز بروز چار چاند لگا رہا ہے۔ میں کبھی اس سے کسی بات پر دل ہی دل میں ناراض ہو جاؤں تو اللہ جانے، اسے کیسے خبر ہو جاتی ہے وہ بار بار دل کے دروازے پر دستک دینے لگتی ہے۔ بالآخر دروازہ کھولنا ہی پڑتا ہے۔ ایسا کئی بار ہو چکا ہے اور صرف میرے ساتھ ہی نہیں،دوسروں کے ساتھ بھی اس کا ایسا ہی رویہ ہے۔ ایک طویل عرصے کی آنکھ مچولی کے بعد مجھے اندازہ ہو چلا ہے کہ وہ کسی کو ناراض دیکھ ہی نہیں سکتی۔ محبت اس کی فطرت میں شامل ہے۔ وہ دلوں کو توڑنے کے فن سے قطعاً نا آشنا ہے البتہ جوڑنے میں وہ ید طولیٰ رکھتی ہے۔ دشمن کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیتی ہے۔ دوستوں سے تو وہ ٹوٹ کر محبت کرتی ہے اور ان کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتی ہے۔وہ مجلس دوستاں کا اہتمام کرتی رہی ہے۔ اب کے اس نے ایک نئے ڈھنگ کی تقریب منعقد کی۔ اس نے پلاک میں لاہور پریس کلب کے نو منتخب عہدیداروں اور بعض دیگر صحافیوں کو کھانے پر مدعو کیا اور کچھ شاعروں ادیبوں کو بھی بلا بھیجا۔ میں نے اس سلسلے میں استفسار کیا تو کہنے لگی:’’صحافت اور ادب کا چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن اب مجھے یہ تعلق ٹوٹتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ یہ تعلق بحال ہو۔ یہ ملاقات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔‘‘

بات دل کو لگی۔ چنانچہ میں وقت مقرر پر پلاک کے کیفے ٹیریا بلاک میں پہنچا جہاں صحافت اور ادب کے جانے پہچانے چہرے دمکتے دکھائی دے رہے تھے۔ شہباز میاں ، سرفراز سید، منو بھائی، میاں حبیب، ظہیر بابر، ذوالفقار راحت، شہزادہ، ذوالقرنین، غلام سرور، استاد شکیل، جاوید اشرف، اصغر خان ، نیلم احمد بشیر، سعد اللہ شاہ، شاہدہ دلاور شاہ اور غافر شہزاد کے علاوہ اداکارہ بہار، گلوکار سجاد بری اور شاہین عباس کو تو میں جانتا ہوں کئی ایسے صحافی بھی تھے جو اپنے اپنے شعبے میں خاصے سرگرم ہوں گے لیکن میں انہیں ناموں سے نہیں جانتا تھا۔ ظاہر ہے کہ ان کی کوئی انفرادیت رہی ہو گی تبھی تو ڈاکٹر صغرا صدف نے انہیں مدعو کیا تھا۔ توسیع پر توسیع پانے والے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر شازیہ بھی آئے ہوئے تھے۔

اس محفل میں ایک شاعر دوست نے اردو میں بات کی تو صحافی دوستوں نے غالباً برا منایا یہی وجہ ہے کہ جب میں اردو میں خطاب کرنے لگا تو مجھے میاں حبیب نے پنجابی میں بات کرنے کو کہا۔ چنانچہ میں نے پنجابی ہی میں اپنے دل کی بات کی۔ اس مجلس دوستاں میں کام کی بہت سی باتیں ہوئیں۔ لبِ لباب یہی ہے کہ ادیبوں اور صحافیوں کو ایک دوسرے کے نزدیک آنا چاہئے۔ خود میرا بھی یہی خیال ہے کیونکہ ہم صحافت کی تاریخ کھنگالیں تو پتا چلتا ہے کہ ماضی میں ہر صحافی، پہلے ادیب یا شاعر ہوتا تھا، بعد میں صحافی ہوتا تھا۔ صحافی ادیب بھی ہو تو اس کی زبان، بیان اور اسلوب نکھر جاتا ہے۔ ادبی چاشنی اس کی صحافتی تحریر کو ادب کے قریب تر لے آتی ہے۔ ویسے بھی صحافت کو جلدی میں لکھا گیا ادب کہا جاتا ہے پریس کلب کے نومنتخب صدر شہباز میاں نے پنجابی زبان و ادب اور صوفیانہ شاعری کے فروغ کے عزم کا اظہار کر کے ادیبوں کے دل جیت لئے۔ یہاں ایک تجویز میں شہباز میاں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ ادیبوں، شاعروں پر بھی اب پریس کلب کے دروازے کھول دیئے جائیں۔ آپ انہیں ووٹ کا حق نہ دیں لیکن اتنا حق ضرور دیں کہ وہ چوبیس گھنٹوں میں کسی بھی وقت پریس کلب آ سکیں اور صحافیوں کے ساتھ تبادلہ خیالات کر سکیں اس میل جول سے دونوں فریقوں کا بھلا ہوگا۔ دونوں کا وژن وسیع ہوگا۔

اس مجلس دوستاں میں ہمارے دوست ایم پی اے رانا محمد ارشد بھی موجود تھے جو ان دنوں اطلاعات و ثقافت اور امورِ نوجواناں کے پارلیمانی سیکرٹری ہیں۔ صحافت اور ادب کے میل ملاپ کو جاری رکھنے کے سلسلے میں انہوں نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز کے ساتھ تو وہ تعاون کر ہی رہے ہیں، اب پریس کلب کے صدر شہباز میاں کا دست و بازو بننے کو بھی تیار ہیں۔

آخر میں یہ اقرار بھی کرتا چلوں کہ ڈاکٹر صغرا صدف کو عزت پانے اور اس میں اضافے کے لئے میرے لکھے ہوئے کسی خاکے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ ماشاء اللہ پہلے ہی اس سلسلے میں خاصی خود کفیل ہیں۔

مزید :

کالم -