نیشنل بک فاؤنڈیشن کراچی کو تاریخی مرکز فراہم کریگی ، عرفان صدیقی

نیشنل بک فاؤنڈیشن کراچی کو تاریخی مرکز فراہم کریگی ، عرفان صدیقی

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ کتاب سے دوری نے ہمیں بہت دکھ دیئے ہیں ۔کتاب کی روشنی اور خوشبو پھیلے گی تو ہم ایک روشن پاکستان تخلیق کر سکیں گے ۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے تحت کراچی کو ایک عظیم تہذیبی ،ثقافتی اور تفریحی مرکز فراہم کریں گے ۔وہ این بی ایف کے زیر اہتمام بک پارک کے افتتاح کے موقع پر تقریب ملاقات سے خطاب کررہے تھے ۔تقریب سے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ایم ڈی ڈاکٹر انعام الحق جاوید ،سینئر صحافی اور ممتاز شاعر محمود شام ، اورآرٹس کونسل کے سابق صدر احمد شاہ نے بھی خطاب کیا ۔عرفان صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستانی قوم میں جذبہ ہے ضرورت ہے تو اسے متحرک کرنے کی ۔ہمارے اکثر ادارے بھوت بنگلے اور آسیب گھر بنے ہوئے ہیں ۔ان اداروں کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے انہیں فعال کرنا ضروری ہے ۔انہوں نے بتایا کہ این بی ایف جلد ہی اپنا پرنٹنگ پریس لگانے جا رہا ہے جس کے بعد کتاب کلچر کے فروغ کی مہم میں مزید تیزی آجائے گی ۔اس موقع پر انہوں نے نابینا افراد کے لیے کتابوں کی اشاعت کے سلسلے کو مزید بہتر کرنے کے لیے نئے بریل پریس لگانے کی منظوری بھی دی ۔خطب�ۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے کہا کہ وہ سر کاری سطح پر عطرِ کتاب کا کاروبار کرتے ہیں ۔میرا کام کتاب کا عطر کشید کرنا اور اسے دوسروں تک پہنچانا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے این بی ایف کا چارج سنبھالا تو کراچی میں این بی ایف کی جس جگہ کو بھوت بنگلہ کہا جاتا تھا وہاں اب کتاب سرائے کے نام سے ریسٹ ہاؤس موجود ہے ۔یہاں 20کنال کے جنگل میں شہرِ کتاب قائم ہو چکا ہے ۔جہاں گٹر بہتے رہتے تھے وہاں پارکنک لاٹ بن چکا ہے ۔آج بک پارک کا افتتاح کیا جا رہا ہے ،جلد ہی یہاں ماڈل بک شاپ کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محمود شام نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ جس طرح اور کئی حوالوں سے دن منائے جاتے ہیں سال میں ایک دن کتاب کے حوالے سے بھی منایاجائے ۔پاکستان ایک کھلی کتاب ہے ۔اس ملک میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ان نوجوانوں کو دنیا بھر کے علوم سے آشنا کرنے کے لیے ترجمے کی تحریک چلائی جانی چاہیے ۔دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے اس کا ترجمہ کرکے ہمیں اپنی نئی نسل کو فراہم کرنا چاہیے ۔احمد شاہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید ایک فعال شخصیت ہیں ،انہوں نے 140کتاب کی دکانوں پرمشتمل شہر کتاب قائم کرکے ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی ہے۔تقریب میں سابق وفاقی وزیر جاوید جبار،پرفیسر سحر انصاری ،زاہدہ حنا ،انور شعور ،نذیر لغاری ،ادریس بختیار ،ڈاکٹر فاطمہ حسن ، نصیر سومرو ،سیدمظفر اعجاز ،جاوید منظر ،عقیل عباس جعفری ،رضوان صدیقی ،بلائنڈ فاؤنڈیشن کے چیئر مین شاہد میمن ،ڈاکٹر فہیم شناس کاظمی ،شاعر علی شاعر ،سلیم صدیقی سہیل مفتی،عابد رضوی ،راشد نور سمیت بڑی تعداد میں صحافی ، ادیب، شاعر اورسول سوسائٹی کی اہم شخصیات بھی موجود تھیں ۔

مزید :

کراچی صفحہ آخر -