بلدیاتی انتخابات ، الیکشن کمیشن عملے کیخلاف درخواستوں پر کارروائی نہ کرسکا

بلدیاتی انتخابات ، الیکشن کمیشن عملے کیخلاف درخواستوں پر کارروائی نہ کرسکا

  

لاہور(شہباز اکمل جندران) الیکشن کمیشن ،پنجاب ، سندھ اور خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوران عملے کے خلاف دائر ہونے والی 5سو سے زائد درخواستوں پر کارروئی نہ کرسکا۔میکنزم کے فقدان اور اضافی مصروفیات کے باعث الیکشن کمیشن نہ تو ان شکایات کو داخل دفتر کرسکتا ہے۔نہ ہی عملے کو عام معافی دے سکتا ہے۔ اور نہ ہی باقاعدہ کارروائی کرسکتا ہے۔ معلوم ہواہے کہ الیکشن کمیشن ان دنوں پنجاب ، سندھ اور کے پی کے میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوران انتخابی عملے کے خلاف موصول ہونے والی پانچ سو سے زائد تحریری شکایات کو لیکر گومگوں کا شکارہے۔ بتایا گیا ہے کہ متذکرہ بالا تینوں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے دوران ریٹرننگ افسروں ، اے آر اوز ،پریذائڈنگ افسروں، اسسٹنٹ پریذائیڈنگ افسروں ، پولنگ افسروں اور دیگر سٹاف کے خلاف موصول ہونے والی درخواستوں کے خلاف کمیشن کو سینکڑوں تحریری درخواستیں موصول ہوئیں۔جن میں بیلٹ پیپروں کی غلط چھپائی کی بنیاد پر الیکشن ملتوی ہونے، بیلٹ پیپروں کی کمی، سٹاف کی تبدیلی،سٹاف کی طرف سے دھاندلی میں ملوث پائے جانے،امیدواروں کو خلاف ضابطہ فیور دینے ، لڑائی جھگڑا کرنے ،یا غیر حاضر رہنے اوررشوت لینے جیسی شکایات شامل تھیں۔سب سے زیادہ درخواستیں کے پی کے سے موصول ہوئیں۔ذرائع کے مطابق کمیشن نے ملک بھر سے موصول ہونے والی ان شکایات پر تاحال کسی قسم کی کارروائی نہیں کی۔سردست کمیشن کو مسئلہ درپیش ہے کہ ان درخواستوں پر کارروائی کیسے کی جائے۔کیونکہ ان میں زیادہ ترشکایات کی نوعیت انتخابی عملے کی طرف سے کئے جانے والے ان کاموں سے متعلق ہے۔جو انہوں نے اپنی دانست میں ٹھیک کئے اور ان سے غیر دانستہ غلطیاں سرزد ہوئیں۔اور ایسا اس لیے بھی ہوا کہ انتخابات سے قبل عملے کو مناسب تربیت نہ دی جاسکی۔ اور جلد بازی میں بیلٹ پیپروں کی غلط یا کم چھپائی جیسے معاملات بھی پیش آئے۔باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ میکنزم کے فقدان اور اضافی مصروفیات کے باعث الیکشن کمیشن نہ تو ان شکایات کو داخل دفتر کرسکتا ہے۔نہ ہی انتخابی عملے کو عام معافی دے سکتا ہے۔ اور نہ ہی باقاعدہ کارروائی کرسکتا ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ آخر -