سکھ کمیونٹی کا گرفتاریوں کیخلاف پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ،دھرنا

سکھ کمیونٹی کا گرفتاریوں کیخلاف پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ،دھرنا

  

لاہور(کامرس رپورٹر)سکھ کمیونٹی کے دفعہ 123 کے تحت گرفتار درجنوں افراد کی گرفتاری کے خلاف گذشتہ روزسکھ کو نسل آف پاکستان کے صدر سر دار مستان سنگھ کی قیادت میں چیئرمین متروکہ وقف املاک اور پربندھک کمیٹی کے سرپنج شام سنگھ کے خلاف پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا دیااور دونوں اطراف کی سڑکیں بند کر دیں گئیں جس پر شہریوں اور احتجاج کر نے والے سکھوں کے مابین دھکم پیل اور سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جبکہ پو لیس کے سینئر افسران سمیت پو لیس اہلکارشہریوں کو زبر دستی راستہ صاف کروانے کے لیے اکساتے رہے۔ سکھ کو نسل آف پاکستان کے صدر سر دار مستان سنگھ اور جنرل سیکرٹری سردار سر جیت سنگھ کنول نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا احتجاج نہ حکومت اور نہ ہی عدالت کے خلاف ہے ہمارا احتجاج صرف اور صرف چیئرمین متروکہ وقف املاک اورپربندھک کمیٹی کے نام نہاد سرپنج شام سنگھ کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکھ کمیونٹی کو پاکستان میں سب سے کمزور کمیونٹی سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ پڑھے لکھے لوگ ہیں اور ابھی کوئی کام نہیں کرتے اور کرنا چاہتے ہیں جو قانون اور اختلافات کے خلاف ہو۔ ڈاکٹر ممپال سنگھ نے کہا کہ ہمیں ادراک اور احساس ہے کہ سڑک کو بلاک کرنے کا احتجاج کا طریقہ کسی بھی صورت درست نہیں ہے مگر کیا کریں کہ یہاں کی روایت ہی ایسی بن چکی ہے کہ آپ روڈ بلاک کردو اور حکومتی مشینری حرکت میں آجائے اور آپ کے معاملات حل ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاملات مختلف ہے۔ ہم پرامن احتجاج کرتے ہیں اور ہماری احتجاج کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا آج کا احتجاج صرف چیئرمین متروکہ وقف املاک اور پربندھک کمیٹی کے سرپنج شام سنگھ کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے احتجاج کو فوری ختم کرنے کو تیار ہیں مگرکوئی حکومتی ذمہ دار شخصیت ہمیں یقین دہانی کرانے کہ تمام معاملات کو جائز اور قانونی اعتبار سے حل کرلئے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومتی ذمہ دار شخصیت کے آنے سے قبل ہمارا احتجاج جاری رہیگا۔

مزید :

کراچی صفحہ آخر -