نیب کاڈاکٹر عاصم کیخلاف بدعنوانی ریفرنس دائرکرنیکا فیصلہ

نیب کاڈاکٹر عاصم کیخلاف بدعنوانی ریفرنس دائرکرنیکا فیصلہ

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ نے غیر قانونی دھوکہ دہی اور گیس کی تلاش کے ٹھیکوں میں او جی ڈی سی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کے افسران سے ملی بھگت مبینہ خرد برد پرسابق وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف بدعنوانی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ، اراضی سکینڈل اورناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے کے الزام میں رکن صوبائی اسمبلی سابق ضلع ناظم نصیر آباد بلوچستان سردار فتح علی عمرانی کے خلاف شکایات کی جانچ پڑتال اختیارات سے تجاوز اور ،مبینہ طور پر خرد برد کے الزام میں آئی جی ریلوے پولیس منیر احمد چشتی سابق آئی جی ریلوے پولیس سید ابن حسن، و دیگر کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال کی منظوری دی ۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی زیر صدارت نیب ہیڈکوارٹر اسلام آبادمیں منعقد ہوااجلاس میں سابق وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ملزموں نے او جی ڈی سی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کے افسران سے ملی بھگت کرکے پیپرا رولز کی خلاف ورزی اور غیر قانونی طریقے سے نکالی گئی ایل پی جی کا 50فیصد،اور این جی ایل کا100فیصد ٹھیکیدار کوغیر قانونی طور پربغیر کسی ادائیگی کے حاصل کرنے کی اجازت دی ،جس سے قومی خزانے کو 17.338 ملین روپے کاہوا،اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی سابق ضلع ناظم نصیر آباد بلوچستان سردار فتح علی عمرانی کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا گیاملزم پر امحکمہ خزانہ کوئٹہ بلوچستان سے ملی بھگت کر کے جعلسازی کے ذریعے پرائیویٹ زمین پر قبضے کا الزام ہے ا یگزیکٹو بورڈ نے سابق ضلع ناظم نصیر آباد بلوچستان سردار فتح علی عمرانی کے خلاف ناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے کے الزام کی شکایت کی جانچ پڑتال کا بھی فیصلہ کیا،ایگزیکٹو بورڈنے سابق آئی جی ریلوے پولیس سید ابن حسن، سابق ڈی آئی جی ریلوے پولیس لاہور(آئی جی ریلوے پولیس)منیر احمد چشتی و دیگر کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال کی منظوری دی ،ملزمان پر مبینہ طور پر خرد برد اور اختیارات سے تجاوز کرنے کا الزام ہے ،جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان ہوااجلاس میں وزیر اعلی سندھ کے پرسنل اسسٹنٹ ضیاء الحسن لنجار،لوکل بلڈر عظیم مغل اور تحصیل میونسپل آفیسرنواز دومکی کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال کی منظوری دی گئی،ملزمان پر بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اورناجائز ذرائع اثاثے بنانے کا الزام ہے،جس سے قومی خزانے کو44ملین روپے کا نقصان ہوا، ایگزیکٹو بورڈ نے میسرز شبیر کارپوریشن حافظ آباد کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا ،سٹیٹ بینک نے122.776ملین روپے دانستہ قرض نادہند گی کا مقدمہ نیب آرڈیننس کے تحت نیب کو بھجوایا تھا،یگزیکٹو بورڈ نے میسرز منگلا ویو ریسورٹ پرائیویٹ لیمٹیڈ کے خلاف انکوائری کی منظوری دی ،سٹیٹ بینک نے 81.353ملین روپے قرض نادہند گی کا یہ مقدمہ نیب آرڈیننس کے تحت نیب کو بھجوایا ،اجلاس میں سکیم 33کرزچی میں میسرز زیشان بلڈرز کو اراضی کی جعلی الاٹمنٹ پر کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا گیا،ان ملزمان پر مشتبہ الاٹمنٹ کی ریگولرائزیشن اور بحالی کا الزام ہے جو مذکورہ آرڈیننس کے تحت کینسل کی گئی،جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان ہوا،،اجلاس میں سابق سینیٹر اعظم خان ہوتی،انکی اہلیہ حمیرا کاش اعظم ،قائمقام وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی سہیل شہزاد کے خلاف عدم ثبوت پر انکوائریاں بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا،ایگزیکٹو بورڈ نے ایک مقدمہ جس میں سابق سپریٹنڈنگ انجینئر پی ڈبلیو ڈی میاں مسعود اختر ،سابق ایکسئین راناسلیم اختر،سابق ایکسیئن چوہدری حسن اختر سابق اسسٹنٹ ایکسیئن،پرویز اقبال محمود ،سابق سب انجینئر پی ڈبلیو ڈی فیصل آباداعجاز حسین،ٹھیکیدار چوہدری عبداللطیف اینڈ کو اور دیگر پر الزام ہے اس میں ٹھیکیدار عامر لطیف کی 249,441,376روپے کی پلی بارگین کی در خواست منظور کر لی

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -