ملک میں صدارتی نظام، انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے اور نیشنل اربن پالیسی کا نفاذ: مصطفیٰ کمال کی ” بے نام “ پارٹی کا منشور

ملک میں صدارتی نظام، انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے اور نیشنل اربن پالیسی کا ...
ملک میں صدارتی نظام، انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے اور نیشنل اربن پالیسی کا نفاذ: مصطفیٰ کمال کی ” بے نام “ پارٹی کا منشور

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) ایم کیو ایم کے منحرف رہنماؤں مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی نے نئی ” بے نام “ پارٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے پاکستانی پرچم کو اپنا پارٹی جھنڈا قراردے دیا اور پارٹی منشور بیان کرتے ہوئے تین نکاتی منشور پیش کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم آج ایک ایسی پارٹی کی بنیاد رکھ رہے ہیں جس کا کوئی نام نہیں ہے پاکستانی جھنڈا ہی ہمارا پارٹی پرچم ہوگایہی پاکستان کا اور یہی ہماری پارٹی کا جھنڈا ہے پاکستان بہت ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے میں پاکستان کے پرچم کے رنگ نکال کر اس جھنڈے کو مدھم نہیں کرنا چاہتا اس جھنڈے کو ماننے والا ایک ایک انسان چاہے وہ کسی مذہب یا مسلک یا پارٹی کا فرد ہو اس کو ماننا ہمارا فرض ہوگا پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میںبھی ہم بٹے ہوئے ہیں اور مملکت کے سربراہ کہیں بھی بیرون ملک جاتے ہیں تو پاکستانیوں سے نہیں بلکہ اپنی پارٹی کے لوگوں سے مل کر آجاتے ہیں ہم یہاں بیٹھ کر انڈیا سے مذاکرات کرنے کیلئے پوری دنیا میں لابنگ کرتے ہیں لیکن اپنے ملک میں ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے ، ایک پارٹی دوسری پارٹی سے ایک مسلک دوسرے مسلک سے بات نہیں کرتا ہم توڑنے نہیں جوڑنے آئے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے اپنی پارٹی کا منشور بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم صدارتی نظام حکومت چاہتے ہیں اور صدر اپنی ٹیم بنا کر کام کرے جبکہ ارکان اسمبلی صرف قانون سازی کریں جس سے 80 فیصد کرپشن ختم ہوجائے گی۔ دوسرا نکتہ بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ ہم چاہتے ہیں کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنائے جائیں ، ہم فنڈز کو یونین کونسل تک بانٹنا چاہتے ہیں جب تک بلدیاتی نظام قائم نہیں ہوگا تب تک ملک ترقی نہیں کرے گااٹھارہویں ترمیم کے بعد طاقت ایک مرکز کی بجائے صوبوں میں تقسیم تو ہوئی ہے مگر گراس روٹ لیول تک نہیں گئی جب تک بلدیاتی نظام نہیں ہوگا صوبے بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا مقامی حکومتوں کے نام پر آج عوام کو دھوکہ دیا جارہا ہے میں یونین کونسلوں کو طاقت اور فنڈز دینے کی بات کرتا ہوں جن لوگوں میں جانے کیلئے ہم گھنٹوں لائنوں میں کھڑے ہوکر ویزے حاصل کرتے ہیں وہاں دو ، دو سو سال پرانا بلدیاتی نظام قائم ہے۔

اپنے منشور کا آخری نکتہ بیان کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نظام کے علاوہ ہم” نیشنل اربن پالیسی“ چاہتے ہیں آج دنیا کی ساٹھ فیصد آبادی شہروں میں ہجرت کرگئی ہے، ترقی یافتہ ممالک میں سہولیات ہونے کے باوجود دنیا میں نئے شہر بس رہے ہیں تاکہ پہلے سے موجود شہروں کی آبادی پر قابو پایا جاسکے۔ اپنے منشور کا آخری نکتہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم و صحت کی سہولیات یونین کونسل کی سطح پر منتقل کرنا چاہتے ہیں۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -