ہائی کورٹ :ایف آئی اے کی خاتون کانسٹیبلز کو ترقی نہ دینے پر حکومت اور ڈی جی ایف آئی اے سے جواب طلب

ہائی کورٹ :ایف آئی اے کی خاتون کانسٹیبلز کو ترقی نہ دینے پر حکومت اور ڈی جی ...
ہائی کورٹ :ایف آئی اے کی خاتون کانسٹیبلز کو ترقی نہ دینے پر حکومت اور ڈی جی ایف آئی اے سے جواب طلب

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود ایف آئی اے کی خواتین کانسٹیبلوں کو اگلے عہدوں میں ترقی نہ دئیے جانے اور امتیازی سلوک برتے جانے کے خلاف دائر درخواستوں پر وفاقی حکومت اور ڈی جی ایف آئی اے سے جواب طلب کر لیا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزاروں کے وکیل ملک غلام حسین نے موقف اختیار کیا کہ تین سال سروس مکمل ہونے کے بعد ایف آئی اے کے کانسٹیبلوں کواگلے عہدوں میں ترقی دیا جانا قانونی تقاضا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے میں مرد کانسٹیبلوں کو خواتین پر ترجیح دی جاتی ہے مگر انہیں 12برس سے نظر انداز کیا جا رہاہے۔انہوں نے بتایا کہ فیڈرل سروس ٹربیونل نے درخواستوں گزاروں کو اگلے گریڈ میں تعینات کرنے کا حکم صادر کر رکھا ہے مگر ایف آئی اے حکام عدالتی حکم پر عمل کرنے کی بجائے درخواستوں گزاروں کو عدالت سے رجوع کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کر رہے ہیں جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قوانین کے تحت اپنے حقوق کے لئے عدلیہ سے رجوع کرنا ہر شہری کا حق ہے ،اگر کچھ لوگ اپنے خلاف ہونے والی زیادتیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو محکمے کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ان کے خلاف کاروائی کرئے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 14اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور ڈی جی ایف آئی اے سے جواب طلب کر لیا۔

مزید :

لاہور -