پولیس کا انوکھا کارنامہ ،باپ کے خلاف اپنے ہی بچوں کے اغواءکا مقدمہ درج ،قانونی ماہرین محو حیرت

پولیس کا انوکھا کارنامہ ،باپ کے خلاف اپنے ہی بچوں کے اغواءکا مقدمہ درج ...
پولیس کا انوکھا کارنامہ ،باپ کے خلاف اپنے ہی بچوں کے اغواءکا مقدمہ درج ،قانونی ماہرین محو حیرت

  

لاہور(کرائم رپورٹر)پنجاب پولیس نے باپ کے خلاف اپنے ہی بچوں کے اغواءکے الزا م میں مقدمہ درج کرلیا ۔عدالتی نظائر اور تعزیرات پاکستان کی منشا کے منافی یہ انوکھا مقدمہ تھانہ ہنجروال میں عائشہ فاروق نامی خاتون کی درخواست پر درج کیا گیا ہے ۔یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ363کے تحت خاتون کے سابق شوہر فواد رسول ،اس کے والد محمد افتخار رسول اور بھائی جواد رسول وغیرہ کے خلاف درج کیا گیا ہے ۔قانونی ماہرین کے مطابق دفعہ363کے تحت باپ کے خلاف اپنے ہی بچوں کے اغواءکا مقدمہ درج نہیں ہوسکتا جب تک کہ بچوںکی تحویل کے حوالے سے گارڈین کورٹ نے ماں کے حق میں فیصلہ نہ دے رکھا ہو ۔زیرنظر کیس میں خاتون نے الزام لگایا ہے کہ اس کے شوہر فواد رسول نے اسے 5ستمبر 2015ءکو طلاق دے دی اور 6ستمبر2015ءکو مذکورہ ملزموں کے ہمراہ گن پوائنٹ پر اس کے بچے اغواءکرلئے ۔یہ امردلچسپی سے خالی نہیں کہ 6ستمبر 2015ءکے مبینہ وقوعہ کی ایف آئی آر 18فروری 2016ءکو درج کی گئی جس کے بعد ملزموں کی گرفتاری کے لئے ان کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں ۔ممتاز قانون دان اور پاکستان بار کونسل کے رکن اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ماں اور باپ دونوں اپنے بچوں کے فطری سرپرست ہیں ،تعزیرات پاکستان کی دفعہ363بہت واضح ہے جس کے تحت ماں اور باپ دونوں کے خلاف بچوں کے اغواءکے الزام میں مقدمہ درج نہیں ہوسکتا ۔اس دفعہ کے تحت اسی صورت میں مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے جب بچوں کی تحویل کے مقدمہ میں عدالت نے کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ دیا ہو اور دوسرا فریق زبردستی بچوں کو اغواءکرکے لے جائے ۔معروف قانون دان آفتاب باجواہ سے اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایسے وقوعہ جات کے بارے میں عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں یہ اصول طے پا چکا ہے کہ والد یا پھر والدہ کے خلاف اپنے ہی بچوں کے اغواءکے الزا م میں مقدمہ درج نہیں ہوسکتا ۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ کیسی ایف آئی آر ہے جو وقوعہ کے ساڑھے 5ماہ بعد درج کی گئی ہے اور اس میں تاخیر کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی گئی ہے ،اس سلسلے میں جب انچارج انوسٹی گیشن ہنجروال ارشد گجر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اب تک کی تفتیش کے مطابق ملزم بے گناہ ہیں اسی لئے ان کی گرفتاری التواءمیں رکھی گئی ہے ،ان سے پوچھا گیا کہ بچوں کا دادا اور اس مقدمہ کا ملزم افتخار رسول 6ستمبر 2015ءکو ملک میں موجود ہی نہیں تھا ،اس سلسلے میں وہ اپنا پاسپورٹ بھی پیش کرچکا ہے تو ارشد گجر نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پولیس نے ابھی تک کسی ملزم کو قصور وار قرار نہیں دیا تاہم تفتیش جاری ہے ۔

مزید :

لاہور -