پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی سے پاس ہونے والے حقوق نسواں بل شریعت اور آئین پاکستان سے متصادم ، مسترد کر تے ہیں: اسلامی نظریاتی کونسل

پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی سے پاس ہونے والے حقوق نسواں بل شریعت اور آئین ...
پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی سے پاس ہونے والے حقوق نسواں بل شریعت اور آئین پاکستان سے متصادم ، مسترد کر تے ہیں: اسلامی نظریاتی کونسل

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی نظریاتی کونسل نے اتفاق رائے سے پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کے حقوق نسواں بلوں کی شریعت اسلام تعلیمات اور آئین پاکستان سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ دونوں بلوں کا مقصد خواتین کو گھروں سے نکال کر آئیڈی پیز بنانا، اسلامی رشتوں کے تقدس کو ختم کرنا، ہمارے خاندانی نظام کو توڑنا اور خواتین کو گھروں سے نکال کر اپنی منشاء کے مطابق استعمال کرنا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مولانا شیرانی نے کہا کہ اجلاس میں پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کے حقوق نسواں بلوں کا تفصیلاً جائزہ لیا گیا اور ایک ایک شق پر غور کے بعد قرار دیا ہے کہ یہ بل اسلامی تعلیمات اور آئین کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کونسل میں شیعہ سنی سمیت تمام مکاتب فکر کے نمائندے موجود ہیں، سب نے اتفاق رائے سے یہ رائے قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتفاق کی بات ہے کہ مسلم لیگ کی حکومت کے ہر دور میں اسلام ہمیشہ مشکلات کا شکار رہا، اس کا نام مسلم لیگ مگر کام غیر مسلم ہیں، ان کے گزشتہ ادوار میں شریف بل کے نام پر سود کے نظام کو طوالت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت اور وہاں کے گورنر قابل ستائش ہیں جنہوں نے کے پی اسمبلی کا بل رائے کیلئے آئینی طریقہ کار کے تحت بھیجا، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی گورنر نے اسمبلی کے کسی قانون کو رائے کے لئے نظریاتی کونسل بھجوایا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بلوں میں لڑکی اور لڑکے کا تذکرہ ہے کسی رشتے کا تذکرہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو ماں، بہن، بیٹی اور بہن کے طور پر شرف دیا ہے اور بے پناہ حقوق فراہم کئے ہیں جن کا مغرب تصور نہیں کر سکتا، ماں کے طور پر اولاد کو کہا گیا کہ وہ اس کے سامنے اف تک نہ کریں، ماں کی اجازت کے بغیر بیٹا جہاد پر بھی نہیں جا سکتا، بیوی کی مرضی کے بغیر خاوند کو حق نہیں کہ وہ ماں کو اپنے بچوں کو دودھ پلانے پر مجبور کرسکے، بیٹی کے طور پر خواتین کو یہ حق حاصل ہے کہ جب تک وہ بیاہ کر اپنے گھروں میں نہ چلی جائیں ان کا نان نقفہ ان کے والدین اور بھائیوں پر فرض ہے، مغرب میں نہ بیوی کا خاوند پر کوئی نان نقفہ ہے اور نہ اولاد پر والدین کا کوئی حق ہے، جب مرد سے مرد اور عورت سے عورت شادی کرے گی تو عورت کا کیا احترام رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تجویز ہے کہ کوئی بھی اسمبلی جب کوئی قانون بنائے گی تو اسے آئین کے آرٹیکل 31اور 35 سمیت قرآن کی سورۃ اعراف  کی آیت نمبر 189، سورۃ النساء کی آیات اور سورہ روم کی آیت نمبر 21 کو مد نظر رکھنا ہو گا، پھر خاندان یا خواتین کے تحفظ کا کوئی بہتر قانون بن سکے گے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل فریق نہیں ہمارا کام گائیڈ لائن فراہم کرنا ہے، جو آئین نے تفویض کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے جن حقوق کے تحفظ کیلئے یہ دو بل تیار کئے گئے ہیں ان کے تحفظ کیلئے تعزیرات پاکستان میں قوانین موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور کے پی کے کی حکومتیں آئین کے آرٹیکل 229 کے تحت گورنر کے ذریعے درخواست کریں تو ہم انہیں ان قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈرافٹ کر کے دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کی نظریاتی کونسل ختم کرنے کی قرار داد آئین کی خلاف ورزی ہے اور آئین کی خلاف ورزی پر دفعہ 6 لگتی ہے امید ہے سپیکر ایاز صادق چیئرمین سینیٹ کی طرح قومی اسمبلی میں قاعدہ 180 کے تحت نظریاتی کونسل کی سفارشات پر بحث کرائیں گے۔

مزید :

قومی -