جی، ایس،ایم،اے گورنمنٹ لیڈر شپ ایوارڈ پاکستان کے نام

جی، ایس،ایم،اے گورنمنٹ لیڈر شپ ایوارڈ پاکستان کے نام

  



آج وقت نے ثابت کردیا کہ اللہ رب العزت جسے عزت دینا چاہے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کی تکریم میں ایک رتی بھی کمی نہیں لا سکتی۔ ہندوستان کی پاکستان کو تنہا کرنے کی خواہش ایک دیوانے کی بڑ ثابت ہوئی۔آج الحمد للہ پاکستان کے اندر اور باہر سے متواتر خوشی کی خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ دل بے ساختہ پکار اٹھتا ہے :

مدعی لاکھ برا جاہے تو کیا ہوتا ہے

وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے

آج ایک طرف تو لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل منعقد کرنے کے لئے زور شور سے تیاریاں ہورہی ہیں تو دوسری طرف پاکستان اقتصادی تعاون کی تنظیم (ای-سی-او) کے تیرہویں سربراہ اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس اجلاس میں پانچ ممبر ممالک کے صدور اور تین ممالک کے وزرائے اعظم شریک ہیں۔ چین کی اس اجلاس میں بطور مہمان شرکت بھی ایک انتہائی خوش آئند شگون سمجھی جا رہی ہے۔ خطے میں روابط کا فروغ ہی اس اجلاس کا مرکزی موضوع ہے۔ پاکستان میں اس وقت اتنی بڑی تعداد میں ممبر ممالک کے سربراہان کا آج موجود ہونا ان عناصر کے منہ پر زوردار تمانچہ ہے جو پاکستان کو سیکیورٹی رسک قرار دیتے رہے ہیں۔ تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتا اور بدلتا ہوا پاکستان ساری دنیا کے سامنے ہے۔اس وقت ایک اور اچھی خبر ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح منظر عام پر آرہی ہے۔ پاکستان نے گذشتہ چند سال میں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں جو کارہائے نمایاں سر انجام دیئے ہیں اور جس تیزرفتاری کے ساتھ ڈیجیٹل پاکستان کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنایا ہے، اس کی پذیرائی نہ صرف پاکستان کے اندر ہورہی ہے، بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کی طرقی کے ماڈل کو بطور نمونہ پیش کیا جا رہا ہے۔ کامیاب ٹیلی کام پالیسیوں پر پاکستان کو جی ایس ایم اے گورنمنٹ لیڈر شپ ایوارڈ برائے 2017 ء سے نوازا گیا ہے۔ یہ ایوارڈاسپین کے شہر بارسلونا میں جاری موبائیل ورلڈ کانگریس کی پُروقار تقریب میں پاکستان کی وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی مسز انوشہ رحمٰن کو دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ گذشتہ دو سال میں پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کی دوسری عالمی سطح کی پذیرائی ہے، کیونکہ پچھلے سال پاکستان کو شفاف سپیکٹرم نیلامی کروانے پر بھی عالمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ یہ خبر نہ صرف ٹیلی کام سیکٹر سے وابستہ افراد کے لئے بلکہ پوری قوم کے لئے باعث مسرت ہے۔ یقیناًیہ پذیرائی راتوں رات حاصل نہیں ہوئی، اس کے پیچھے گذشتہ تین سال کی انتھک محنت شامل ہے۔ جس طرح موجودہ حکومت نے آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبے کو اپنی اولین ترجیحات کا حصہ بنایا اور ایکسلریٹڈ ڈیجیٹائزیشن کو نہ صرف اپنے منشور میں شامل کیا، بلکہ اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وہ پالیسیاں اپنائیں کہ آج دنیا ہماری ترقی کی رفتار پر انگشت بد دنداں ہے۔ 2013 ء میں اسی حکومت نے ملک میں جدید سپیکٹرم 3G/4G کو متعارف کروایا۔ 2015ء میں ایک مفصل اور جامع ٹیلی کام پالیسی وضع کی۔ یونیورسل سروسز فنڈ کے ذریعے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ڈیجیٹل پاکستان کو عملی جامہ پہنانے کا عزم کیا اور بلوچستان، خیبرپختونخوا سمیت ملک کے دور افتادہ اور پسماندہ دیہی علاقوں کے مکینوں کو ٹیلی کام کی جدید سہولتوں کی فراہمی کے لئے تقریباً بیس ارب روپے کے منصوبہ جات کا آغاز کیا جس کے تحت ملک کے کونے کونے میں فائبر آپٹک کیبل بچھائی جارہی ہے اور وہ پسماندہ دیہات جہاں آج تک فکسڈ لائن ٹیلیفون کی سہولت تک میسر نہیں تھی، انہیں آج 3G سروسز فراہم کی جارہی ہیں۔

نوجوانوں کی تربیت کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت انکیوبیشن سنٹرز کھولے جا رہے ہیں۔ بیت المال کی غریب اور بے سہارا بچیوں کے لئے جدید کمپیوٹر لیبارٹریوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ جہاں مائیکروسافٹ کے ذریعے ان بچیوں کو کوڈنگ اور کمپیوٹنگ جیسی جدید مہارتوں سے بہرہ ور کیا جارہا ہے تاکہ یہ بچیاں مستقبل میں گھر بیٹھے با عزت روزگارکما سکیں۔ پاکستان میں براڈبینڈ کی شرع نمو جو تین سال قبل محض تین فیصد سے بھی کم تھی، آج 27 فیصد سے تجاوز کر رہی ہے۔ پاکستان کی سافٹ ویئر ایکسپورٹ 2.7 بلین ڈالر سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان ای- لانسنگ(آن لائن روزگار) کے حوالے سے دنیا بھر میں اس وقت چوتھے نمبر پر ہے۔ پاکستان کے پسماندہ دیہی علاقوں میں ٹیلی سنٹرز قائم کئے جا رہے ہیں۔ یہ سارے عوامل موجودہ حکومت کی مثبت ترجیحات اور وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی مسز انوشہ رحمٰن کی گذشتہ تین سالہ انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے۔ جو اس بات کا غماض ہے کہ اگر ٹیلی کام کے شعبے میں محض تین سال کے اندر ایک انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے تو کوئی ایسی وجہ نہیں کہ ہم کسی بھی شعبے میں مثالی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکیں، لیکن اس کے لئے مسلسل محنت اور خلوص نیت درکار ہے۔ پھر اس طرح کی خوش خبریاں ہر طرف سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کی طرح پاکستان کے حصے میں آتی رہیں گی اور یہ تیزی سے ترقی کرتا ہوا اور تبدیل ہوتا ہوا پاکستان اقوام عالم کو ورطہء حیرت میں ڈال دے گا۔ انشاء اللہ:

وطن کی مٹی مجھے ایڑھیاں رگڑنے دے

مجھے یقیں ہے کہ چشمہ یہیں سے نکلے گا

مزید : کالم