گز نور الامین مینگل کا امتحان ۔۔۔! (آخری قسط)

گز نور الامین مینگل کا امتحان ۔۔۔! (آخری قسط)
 گز نور الامین مینگل کا امتحان ۔۔۔! (آخری قسط)

  

شتہ روز کالم میں مجموعی طور پر معاشرتی گراوٹ کی ایک تصویر قارئین کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی تھی میں نے چند ذاتی تجربات اور کچھ حقائق سپرد قلم کئے تا کہ انسانیت کے دشمنوں کو بے نقاب اور ملاوٹ کا شکار ہونے والے شہریوں کو شعور دیا جا سکے اور ان کو آگاہ کیا جا سکے کہ وہ اشیائے خورو نوش کے نام پر کس کس طرح سے زہر کھا رہے ہیں اور انسانیت کا قاتل ملاوٹ مافیا کس حد تک گر چکا ہے ، یہ مافیا کس طرح اشیائے ضروریہ میں ملاوٹ کر کے چلتے پھرتے انسانوں کو اپاہج بنا رہا ہے اور چلتے پھرتے انسانوں کو تیزی سے موت کی طرف دھکیل رہا ہے۔ مثال کے طور پر کیچپ ایک ایسی فوڈ آئٹم ہے جس کا استعمال روزانہ کی بنیاد پر ہم سب کرتے ہیں آپ کو یہ جان کر حیرانگی ہوگی کہ ملاوٹ مافیا چند ٹکوں کی خاطر انسانیت کے ساتھ کیا کھلواڑ کر رہا ہے، پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کوششوں کے نتیجہ میں لیبارٹری کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق کیچپ جیسی کھانے کی اہم ترین آئٹم میں مصنوعی رنگ، اراروٹ ، گاجر ، کدو ، گلے سڑے سیب اور گاڑھا کرنے کیلئے آٹے کے استعمال کے شواہد ملے ہیں ۔ ضروری نہیں کہ ہر کمپنی ایسی مضر صحت اشیاء استعمال کرتی ہو لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے کافی لوگ لاہور سمیت پورے پنجاب اور پاکستان کے دیگر حصوں میں مضر صحت کیچپ تیار کر کے بڑے پیمانے پر فروخت کر رہے ہیں۔ اسی طرح دیسی گھی کی اہمیت سے کون انکار کر سکتا ہے ہمارے بزرگ آ ج بھی ڈالڈا گھی یا آئل کے استعمال کے مقابلے میں دیسی گھی کو ترجیح دیتے ہیں مگر آ ج کل مارکیٹ میں دیسی گھی کے نام پر وسیع پیمانے پر فراڈ جاری ہے اور کئی ریسٹورنٹ دیسی گھی سے کھانے تیار کرنے کے جھوٹے دعوے بھی کرتے ہیں اور گاہکوں کو بے وقوف بنا کر لوٹ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دیسی گھی تیار کرنے کیلئے کوکونٹ آئل اور ویجی ٹیبل آئل وغیرہ کو مکس کرنے کے ساتھ ساتھ ڈالڈا گھی اور مضر صحت دیگر آئل ملایا جا رہا ہے جس سے لوگ صحت مند ہونے کی بجائے تیزی سے بیمار ہو رہے ہیں۔ آئس کریم ایک ایسی فوڈ آئٹم ہے جو کمسن بچے زیادہ شوق سے کھاتے ہیں اور پاکستان کے ہر شہر کی ہر گلی محلے میں آئس کریم فروخت کی جاتی ہے اور ہمارے پاس اس کو فوری چیک کرنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہے اس لئے آئس کریم خریدتے وقت معیار کو جانچنا بہت مشکل ہے آئس کریم میں ملاوٹ مافیا ویجی ٹیبل فیٹ، کنڈنیسڈ ملک اور غیر معیاری دودھ استعمال کرتا ہے جس سے لوگ بیمار ہو رہے ہیں۔ بچوں کیلئے ٹافیوں ، کینڈی اور چاکلیٹ کی تیاری کیلئے ویجی ٹیبل ، فیٹ ، کیمیکل کلر اور مصنوعی دودھ استعمال کیا جا ر ہا ہے اس حوالے سے بھی فوڈ اتھارٹی کئی بار ایسے لوگوں کو پکڑ کر انکے یونٹس سیل کر کے ان کو بھاری جرمانے کر چکی ہے مگر ہر بار یہ لوگ نہ صرف جرمانے یا بااثر افراد سے سفارشیں کروا کر دوبارہ سرگرم ہو جاتے ہیں بلکہ ایسے لوگ اپنے ناجائز پیسے اور اثرو رسوخ کی بنا پر عدالتوں سے بھی بری ہو جاتے ہیں۔ کینڈی کے آج کل بچے بہت شوقین ہیں اس کا ذائقہ ترش کرنے کیلئے اس میں ٹار ٹارک ایسڈ کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے گلے خراب ہو رہے ہیں اور معدے کی خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں۔

اسی طرح مصالحہ جات ہماری روز مرہ کی استعمال کی جانے والی ایسی فوڈ آئٹم ہے جس کے استعمال کے بغیر آپ کا کھانا نہیں پک سکتا۔ افسوس کا مقام ہے کہ مصالحہ جات کی تیاری میں اینٹوں کا سرخ برادہ ، لکڑی کا برادہ اور جانوروں کا چوکر تک استعمال کیا جاتا ہے ، جوس اور مشروبات کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں لیکن لیبارٹری رپورٹس کے مطابق جوسز وغیرہ میں بھی مصنوعی کلر ، سکرین، دھاتی ذرات اور مائیکرو بیالوجیکل ذرات پائے گئے اور ماشاء اللہ جس کو آج تک ہم دودھ سمجھ کر پیتے رہے ہیں تحقیق اور لیبارٹری رپورٹس کے بعد اب پتہ چلا ہے کہ یہ تو دودھ کے نام پر پوری قوم کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ دودھ خدا کا نور ہے جو اس نور میں بھی ملاوٹ کرے اس کا انجام کیا ہونا چاہئے لیکن آپ حیران ہونگے کہ دودھ میں ملاوٹ تو دور کی بات ہے یہاں تو جس کو ہم دودھ سمجھتے رہے ہیں یہ تو دودھ ہے ہی نہیں اب تک مختلف کمپنیوں نے پاکستان کے عوام کو یہ مصنوعی دودھ فروخت کر کے کھربوں روپے کمائے ہیں، اب وہی کمپنیاں جنہوں نے سفید رنگ کے محلول کو دودھ کہہ کر فروخت کیا اب تسلیم کر چکی ہیں کہ یہ دودھ نہیں ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان کمپنیوں کو ، انسانیت کے قاتلوں کو اور منافع خوروں کو بے نقاب کر کے قوم کے سامنے پیش کر دیا ہے اب قوم کا بھی امتحان ہے کہ وہ ایسے درندوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے ، یہ ہماری اخلاقی حالت ہے بحیثیت قوم ہم کس طرف بڑھ رہے ہیں خود ٹھیک ہونے کیلئے تیار نہیں لیکن 24 گھنٹے وزیر اعظم سمیت تمام دنیا کو ٹھیک کرنے کا ہم نے ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ دو روز قبل پنجاب فوڈ اتھارٹی اور الائیڈ بینک کے درمیان ایک ایم او یو پر مقامی ہوٹل میں دستخط کئے گئے جس کا مقصد یہ تھا کہ الائیڈ بینک سمارٹ کارڈز اور دیگر سمارٹ آئی آٹی ایپلیکشنز کے ذریعے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جعلی فوڈ تیار کرنے والے اور ملاوٹ مافیا کیخلاف جہاد میں مدد کرے گا۔ تقریب میں صوبائی وزیر خوراک بلال یٰسین، ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل کے علاوہ الائیڈ بینک کے سی ای او طاہر حسین قریشی، طاہر یعقوب بھٹی اور فیصل رشید غوری سمیت کثیر تعداد میں سول سوسائٹی کے ارکان اور صحافی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک بلال یٰسین نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ملاوٹ مافیا کے اس حد تک خلاف ہیں کہ انہوں نے فوڈ اتھارٹی کے ایک اہم اجلاس میں تمام شرکاء سے حلف لیا کہ کوئی شخص ملاوٹ مافیا کیخلاف سفارش نہیں کریگا، وزیر موصوف نے کہا کہ تمام لوگوں نے باری باری حلف دیا جب وہ حلف دینے لگے تو وزیر اعلیٰ نے ان کو روک کر خود ہاتھ اٹھا کر حلف دیدیا کہ وہ فوڈ اتھارٹی کے کسی معاملے میں مداخلت نہیں کرینگے بلکہ وہ فوڈ اتھارٹی کی مینجمنٹ کو مکمل آزادی ، سپورٹ اور فری ہینڈ دیں گے لیکن وزیر صاحب اپنے حلف کا معاملہ گول کر گئے شاید اسی لئے اب بھی کئی بیکریوں پر بورڈ کے ساتھ ان کی تصویریں بھی لگی ہوئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے جس قدر فوڈ اتھارٹی کو سپورٹ اور فری ہینڈ دیا ہے اس کے بعد نئے ڈی جی جواب کافی پرانے ہو چکے ہیں ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے کام کو سرکاری نوکری کی بجائے ایک مشن میں تبدیل کر کے انسانوں کو موت کے سوداگروں سے بچائیں۔ انہوں نے فوڈ اتھارٹی کے نئے قوانین بھی بنوائے ہیں جن کو فوڈ انڈسٹری کیلئے وہ بائبل کا درجہ دیتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ میدان میں رہ کر کب تک مافیا کا مقابلہ کرتے ہیں یا پھر کسی ڈویژن میں کمشنر بن کر منظر سے غائب ہو جاتے ہیں۔ (ختم شد)

مزید :

کالم -