لطیف باتیں، اہم سوال اور اس کا جواب!

لطیف باتیں، اہم سوال اور اس کا جواب!
لطیف باتیں، اہم سوال اور اس کا جواب!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایسے بہت سے حضرات ہیں جو کبھی نجی اور غیر رسمی محفلوں میں شریک رہے وہ سب جانتے ہیں کہ شریف برادران میں حس مزاح بھی ہے اور وہ ایسی محافل میں لطف اندوز بھی ہوتے ہیں، یوں بھی دونوں بھائیوں کے مزاج میں جو فرق نظر آتا ہے وہ بھی ایسی بیٹھک میں محسوس نہیں ہوتا، اسی طرح ہمارے وہ دوست جو سرور پیلس میں مدارت کا لطف لے چکے وہ بھی گواہ ہیں کہ سابق وزیر اعظم جو سرکاری فرائض کے دوران بہت سنجیدہ نظر آتے ہیں وہ ایسے مواقع پر خوب کھل کر بات کرتے اور خوشگوار ماحول کو پسند کرتے ہیں، کچھ ایسا ہی چھوٹے بھائی محمد شہباز شریف کے ساتھ بھی ہے۔ جو بڑے سنجیدہ اور کرخت دکھائی دیتے ہیں وہ بھی ان محافل میں بہت کھل کر قہقہے لگا لیتے ہیں، اضافی بات یہ ہے کہ دونوں بھائیوں کو لطیفے بھی بہت یاد ہیں اور ’’چوندے، چوندے‘‘ لطیفے سنا کر محفل کو اپنے ساتھ ہنسنے پر مجبور بھی کردیتے ہیں۔

یہ کچھ یوں یاد آیا کہ بڑے شریف محترم آج کل جذباتی اور رنج و غصہ میں دکھائی دینے کے باوجود غیر رسمی محفل میں شعروشاعری کرتے تو لطیفے بھی سنا دیتے ہیں، چھوٹے جو خادم اعلیٰ ہی کہلاناپسند کرتے ہیں،غصہ میں برجستہ فقرے کسنے کے ساتھ ساتھ انقلابی شعر بھی پڑھ اور سنادیتے ہیں آج ہی جو خبر سامنے آئی وہ پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ایک غیر رسمی محفل ہی کی تھی جہاں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ایک یہ شعر پڑھا ’’بیمار ہوئے جس کے سبب، اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں‘‘ یہ بھی رپورٹ ہوا کہ اسی محفل میں انہوں نے سنایا ’’دل بغض و حادثے سے رنجور نہ کر، یہ نور خدا ہے اسے بے نور نہ کر‘‘ اب خبر نگار کے مطابق جواب میں بیرسٹر ظفر اللہ نے بھی کہا ’’خانہ زاہد زلف میں زنجیر سے گھبرائیں گے کیا، ہیں گرفتار بلازنداں سے گھبرائیں گے کیا‘‘ اس سے بھی پہلے یہ ٹکر چلا اور خبر چھپی کہ انہوں نے ریس والے گھوڑے کے مالک کا لطیفہ بیان کیا، جو ریس کے دوران بہت گھبرائے گھبرائے پھررہے تھے، ان کے دوست نے وجہ پوچھی اور یہ بھی پوچھا کہ آپ کا گھوڑا کون سا ہے، تو وہ رنج اور غصے سے بولے! وہ جس نے سب گھوڑوں کو آگے لگا رکھا ہے’’ دوسرے معنوں میں وہ سب سے آخر میں تھا اور ہار چکا تھا، خبر نگار حضرات یہ سب لکھ تو گئے تاہم سیاق و سباق کے ساتھ نہ بتاسکے اس کے باوجود یہ احساس ہوا کہ محمد نواز شریف اپنے مزاج کے مطابق ان حالات میں بھی خوش باش رہنے کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

اس سے ہم نے ایک اور نتیجہ بھی نکالا ہے کہ انہوں نے اپنی نااہلیت والے فیصلے کے بعد جب یہ پوچھا‘‘ مجھے کیوں نکالا‘‘ تو یہ غصہ والا نہیں، حس مزاح والا استفسار تھا، لیکن جب یہ بیانیے کی صورت اختیار کرگیا تو انہوں نے اسے اپنا ہی لیا اور پھر یہی فقرہ جلسوں میں تقریر کا ایک لازمہ بن گیا اس پر مخالفین نے مذاق بھی بنایا لیکن زیادہ دیر تک نہ چلا سکے اور یہ ان کی تقریروں میں جذب ہو کرسوال ہی بن گیا، اسی طرح وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے اپنے جذباتی لہجے میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو پھر چیلنج کیا اور اس مرتبہ انگریزی کا سہارا لیا اور کہہ دیا’’ پُٹ اپ، یاشٹ اپ‘‘ اب ہم صحافی حضرات کے لئے مشکل پیدا ہوگئی کہ انگریزی والے تواسے لکھ دیں گے یعنی جوں کاتوں، لیکن ہم پنجابی لوگ جو اردو لکھتے ہیں ان کے لئے مشکل ہوگی کہ ہماری زبان میں ترجمہ غیر مہذب بنتا ہے، بہر حال انگریزی کو اردو میں لکھ کر گزارہ کرنے کی کوشش کی گئی اور بعض معاصر نے تو مہذب ترجمہ بھی کردیا، ورنہ بات تو سخت ہی ہے، یوں سیاست میں یہ مکالمے بازی بھی چلی جارہی ہے اور یہ جاری بھی رہے گی کہ یہاں کوئی نوابزادہ نصراللہ خان اور مولانا شاہ احمد نورانی نہیں جو اپنے سخت ترین حریف کو بھی مہذب انداز سے مخاطب کرتے تھے، اب مسئلہ تو یہ ہے کہ الزام لگانے والے کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ خود عمران خان کی طرف سے شروع ہوا جنہوں نے ابتدا ہی اوئے، اوئے سے کی اور ’’تو، تو‘‘ کہہ کر پکارا حالانکہ وہ ’’تسی‘‘ ہی کہہ دیتے تو پھر بھی اس کا مطلب مہذب طور پر آپ ہی بنتا، ہمیں یاد ہے کہ جام شورو’’گورنمنٹ ارتھ موونگ ٹریننگ سکول‘‘ (جیمز) میں ہمارے ایک ہم جماعت صدیقی صاحب جن کا خاندان برصغیر کی تقسیم کے بعد باغبان پورہ لاہور میں آکر بسا اور بعد میں کراچی اور حیدر آباد منتقل ہوا تھا، وہ کہتے ’’میرے بڑے بھائی کا کہنا ہے کہ پنجابی زبان بہت میٹھی ہے اور بے تکلفانہ ہونے کے باوجود مہذب ہے کہ اردو میں تو آپ، جناب کے القاب چلتے ہیں، لیکن پنجابی میں ’’تسی‘‘ مربوط اور مہذب ہے جو ان تمام القابات پر بھاری ہے، بہر حال یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں اور بھی بہت حضرات شامل ہوگئے ہیں، ان میں ایسے بھی ہیں جن کو بات بنانانہیں آتی۔

اس کی ایک تازہ ترین مثال ہمارے محترم رانا ثناء اللہ خان ہیں جو ماشاء اللہ قانون دان اور وزیر قانون ہیں وہ اپوزیشن کو جواب دیتے رہتے ہیں، ابھی گزشتہ روز انہوں نے نہال ہاشمی کی نااہلیت سے خالی ہونے والی نشست کے ضمنی انتخاب کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے بے نشان ہونے کا شکوہ کرتے ہوئے اگلی بات کی وہ کہتے ہیں، ’’ان شاء اللہ 3مارچ کو ہمارے ’’بے نشان‘‘ امیدوار الیکشن جیت کر اپنے قائد محمد نواز شریف کی ’’غلامی‘‘ کا حلف اٹھائیں گے، اب یہ الیکٹرونک میڈیا والے بھی بڑے ستم ظریف ہیں یہ اس حصے کی فوٹیج بھی چلائے جاتے ہیں اور ٹکر یہ ہے ’’رانا ثناء اللہ کی زبان پھسل گئی، شاید وہ خود ہی عوام کو دکھ سنا کر خود ہی وضاحت کرنا چاہتے تھے کہ زبان پھسل گئی ورنہ وہ تو ’’وفاداری‘‘ کہنا چاہتے تھے اور بعد میں انہوں نے تصحیح بھی کردی تھی۔

یہ تو سب ہلکی پھلکی ہیں اور ہم نے صبح ہی صبح اپنے طلال چودھری صاحب کی گفتگو کی خبر دیکھ کر سوچا کہ آج ذرا موڈ ہی بہتر رکھنا چاہئے، وہ حضرت فرماتے ہیں ’’دو تہائی اکثریت ملی تو متنازع ترامیم ختم کردیں گے‘‘ اس کے بعد ہی وہ بات جس کا سارے فسانے میں ذکر نہیں ختم سمجھیں کہ ایک بہت ہی ’’باوفا‘‘ نے اپنے طور پر راز کھول دیا’’ ورنہ سوال تو یہ تھا کہ آخر سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف سخت رویے کے حوالے سے چاہتے کیا ہیں‘‘؟

مزید : رائے /کالم