امریکہ کا سماجی زوال؟

امریکہ کا سماجی زوال؟
امریکہ کا سماجی زوال؟

  

دنیا کا کوئی بھی معاشرہ ایسا نہیں ہے جو ہر طرح کے مسائل سے آزاد ہوچکا ہو، جہاں پر ہر طرح کی سیاسی، معاشی، سماجی اور دوسری مشکلات پر مکمل طور پر قابو پالیا گیا ہو۔ انسانی تاریخ میں ہزاروں مفکرین ایسے آئے ہیں جنہوں نے مثالی انسانی معاشرہ قائم کرنے کے لئے کئی طرح کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظریات پیش کئے، اس کے باوجود آج بھی یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی انسانی معاشرہ ہر طرح کے مسائل سے نجات پاکر ایک مثالی یا کامل انسانی معاشرہ بن چکا ہے پر تاہم دنیا کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ صدیوں سے اس دنیا میں بعض ایسی سامراجی سلطنتیں اور ریاستیں بھی وجود میں آئیں ، جن کے حکمران طبقات نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے سماج، سماجی، معاشی، تہذیبی اور سیاسی ترقی کی ایسی بلندی یا معراج تک پہنچ چکے ہیں کہ دنیا بھر کے انسانوں کو ان کی تقلید کرنی چاہیے۔ قدیم دور کی یونانی، رومی، مصری یا ایرانی سلطنتیں ہوں یا پھر کچھ عرصہ پہلے تک فرانسیسی، ہسپانوی یا برطانوی سامراج ہوں ہر سامراج اسی غرور میں مبتلا رہا کہ اس سے زیادہ اعلیٰ اور ارفع نظام اور کسی معاشرے یا ملک کا نہیں ہے۔ ہمارے عہد میں امریکہ ایسا ملک ہے جو دوسری جنگ عظم کے بعد1945ء سے اس خبط میں مبتلا ہے کہ دنیا میں چونکہ امریکہ جیسا کوئی بھی ملک نہیں اس لئے امریکہ کو پوری دنیا کی راہنما ئی کرنی ہے اور دنیا میں ہر معاشرے اور ملک کی فلاح اور ترقی کا یہی راستہ ہے کہ وہ امریکہ کی ہی تقلید کرے۔

اس مغرورانہ سوچ کو American exceptionalismکا نا م بھی دیا گیا ہے، جس کا سادہ الفاظ میں یہی مطلب ہے کہ امریکہ ’’ایک خصوصی کردار رکھنے والا ملک‘‘ ہے۔ اس سوچ کو دنیا بھر میں مقبول بنانے کے لئے امریکہ نے جہاں اپنی عسکری قوت کا سہارا لیا وہیں پر اپنیSoft Powerکو بھی بھر پور طریقے سے استعمال کیا، ہا لی ووڈ کی فلمیں، امریکی ٹی وی سیزنز، میوزک، فاسٹ فوڈ، جینز، جیکٹ کلچر اور دنیا بھر میں امریکی مفا دات کے لئے کا م کرنے والی این جی اوز امریکہ کی اسیSoft Powerکا ایک اظہار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج مشرق کا شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جہاں کے نوجوان امریکہ کے سحر میں مبتلا نہ ہوں۔ اس بات میں رتی برابر بھی شک نہیں کہ اس وقت دنیا میں ٹیکنالوجی، سائنس، آئی ٹی، میڈیسن سمیت دیگر علوم میں اگر کسی ملک میں سب سے زیادہ ترقی ہو رہی ہے تو وہ امریکہ ہی ہے، مگر امریکی ترقی کے گن گانے والے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ امریکہ میں سائنس، ٹیکنا لوجی اور دوسرے علوم میں ہونے والی یہ ترقی ’’انسایت کی خدمت ‘‘کے جذبے کے تحت نہیں، بلکہ سرمایہ دارانہ مقاصد پورا کرنے کے لئے ہو رہی ہے۔ منافع کی اندھی ہوس اور وسائل کی ٖغیر منصفانہ تقسیم پر استوار اسی سرمایہ دا ری نظام کے باعث آج امریکہ میں سیاسی اور سماجی زوال پذیری واضح طور پر نظر آرہی ہے۔ اس کی ایک حالیہ مثال پارک لینڈ شوٹنگ کا واقعہ ہے، جس میں 14فر وری کو ایک، 19سالہ نوجوان نکولاس کروزنے امریکی ریاست فلوریڈاکے سٹون مین ڈاگلس ہائی سکول میں فائرنگ کرکے 14 طالب علموں سمیت17افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

امریکہ میں گزشتہ20سال کے دوران اس طرح کے قتل کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جن میں کوئی ایک یا دو نوجوان کسی مقصد کے بغیر ہی پستول یا بندوق سے فائرنگ کرکے کئی معصوم لوگوں کی جان لے لیتے ہیں۔ فائرنگ کے ایسے ہی واقعات میں2017ء میں لاس ویگاس میں 58افراد کو قتل کر دیا گیا، 2016ء میں فلوریڈامیں ایک نائٹ کلب میں فائرنگ کرکے49افراد کو ہلاک کیا گیا، 2014ء میں سان برناڈینومیں ایک ہی ساتھ 14 افردا کو قتل کر دیا گیا، 2012ء میں سینڈی ہوک ایلمنٹری سکول میں28 افراد کو ہلاک کیا گیا، 2012ء میں کولوریڈوکے ایک سینما میں فائرنگ کرکے 12 افراد کو ہلاک کیا گیا،اسی طرح فورٹ ہڈکے آرمی بیس میں فائرنگ سے 13افراد ہلاک ہو ئے۔امریکہ میں فائرنگ کے ان واقعات میں نہ صرف اضافہ ہو رہا ہے، بلکہ یہ پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہوتے جا رہے ہیں۔

امریکی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق امریکہ میں فائرنگ کے ایسے واقعات میں اوسط کے اعتبار سے 16دنوں میں 4افراد ہلاک ہو رہے ہیں،گزشتہ کچھ برسوں کے دوران امریکہ میں فائرنگ کے واقعات کی یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ امریکی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق 2000ء سے 2017 ء تک امریکہ میں 270,000 افراد قتل کئے گئے، 600,000 سے زائد نوجوان زیادہ مقدار میں ڈرگز لینے کے باعث مرے، 650,000 امریکیوں نے اسی عرصے کے دوران خود کشی کرکے اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لے لی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے 130,000 افراد کا تعلق ماضی میں امریکی فوج سے تھا اور ان میں سے اکثر فوجیوں نے عراق، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور جنوبی امریکہ کے کئی ممالک میں امریکہ کی طرف سے شروع کی گئی جنگوں میں بھی حصہ لیا۔ 2000ء سے 2017ء کے عرصے میں 700,000 امریکی اس بنا پر زندگی کی بازی ہار گئے کہ ان کو صحت کی سہولتیں فراہم نہ کی جا سکیں۔ اسی عرصے کے دوران 12,000 امریکی ایسے تھے جن کو پو لیس نے ہلاک کیا۔

خود امریکی میڈیا، اخبارات، کتابوں اور کئی سرویز کے مطابق امریکی نوجوان نسل، سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے طالب علموں میں تیزی کے ساتھ اپنے ملک کے نظام اور سیاستدانوں کے خلاف نفرت بڑھتی جارہی ہے۔ طالب علم اور نوجوان فائرنگ کے لئے جن رائفلوں یا بندوقوں کا سہارا لیتے ہیں، وہ امریکہ میں آسانی سے دستیاب ہیں۔ امریکہ میں چند سفید فام متعصب امریکیوں نے ’’نیشنل رائفل ایسوسی ایشن‘‘ کے نام سے ایک ایسی تنظیم بنائی ہوئی ہے جس کا منشور اور پروگرام ہی یہ ہے کہ امریکہ میں بندوقوں پر کسی بھی قسم کی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ تنظیم انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کو کروڑوں ڈالر کا فنڈ بھی فراہم کرتی ہے تاکہ ری پبلکن پارٹی، امریکہ میں کبھی بندوقوں پر پابندی کاقانون منظور نہ ہونے دے۔

امریکہ کی44ریاستیں ایسی ہیں جن کے آئین میں شہریوں کو بندوقیں رکھنے کا باقاعدہ قانونی حق دیا گیا ہے اور ان میں سے کئی ریاستوں میں کسی پرمٹ کے بغیر بھی بندوق خریدی جاسکتی ہیں۔ امریکہ میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی کئی وجوہا ت ہیں، مگر ان میں سے ایک بڑی وجہ امریکی سماج میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور وسائل کی غیر منصفافہ تقسیم ہے۔2011ء میں رچرڈ ولکنسن کی ایک کتاب The Spirit Level: Why Greater Equality Makes Societies Strongerسامنے آئی جس میں بڑ ے سائنسی انداز میں یہ موقف پیش کیا گیا ہے کہ کسی بھی سماج میں عدم مساوات اور تشدد کا بڑا قریبی تعلق ہوتا ہے، جب کوئی پڑھا لکھا اور حساس ذہن رکھنے والا نوجوان اپنے اردگرد کے ماحول میں یہ دیکھتا ہے کہ وسائل کی تقسیم انتہائی غیر منصفانہ ہے، دولت اور کامیابی کسی صلاحیت یا اہلیت سے حاصل نہیں ہورہی، بلکہ دولت اور کامیابی ایسے افراد کو حاصل ہو رہی ہے جن کے پاس پہلے سے ہی وسائل ہیں یا ان کے سیاسی رابطے بہت زیادہ مضبوط ہیں، اس لئے دولت مند مزید دولت مند ہوتے جارہے ہیں، یہ سب کچھ دیکھ کر ایسے نوجوان کی نفسیات ان سب کا اثر قبول کرتی ہے اور بعض نوجوان نفسیاتی مریض بن کر تشدد کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔

دنیا میں صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہ ممالک میں امریکہ ایسا ملک ہے جہاں پر سب سے زیادہ عدم مساوات ہے اور وسائل بھی چند ہا تھوں میں مرتکز ہوتے جارہے ہیں، ڈینیل ایم ٹی فیسلر جیسے بڑے ماہر نفسیات کے مطابق امریکی سماج میں بڑھتے ہوئے تشدد کی ایک وجہ وسائل کی ٖغیر منصفانہ تقسیم بھی ہے۔جیسا کہ اس آرٹیکل کے آغاز میں بھی کہا گیا ہے کہ ابھی تک کوئی بھی انسانی سماج یا معاشرہ ایسا نہیں ہے جس نے ہر طرح کے مسائل سے نجات حاصل کر لی ہو اور وہ مکمل طور پر ایک مثالی معاشرہ کہلا سکے۔ ظاہر ہے کہ تشدد کے واقعات دنیا کے ہر خطے میں ہوتے ہیں، خود بر صغیر کے معاشروں میں آئے روز چھوٹے اور گھریلو مسائل پر بھی ایسے پُر تشدد واقعات ہوتے رہتے ہیں کہ جن کو قطعی طور پر انسانی قرار نہیں دیا جاسکتا، مگر امریکہ کی مثال اس لئے زیادہ اہم ہے،کیونکہ امریکہ کے حکمران طبقات اور دنیا بھر میں موجود امریکی نواز دانشور امریکی سرمایہ داری نظام کو انسایت کی حتمی معراج قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتے اور دن رات American exceptionalismکا پر چار کرتے رہتے ہیں، مگر حقائق واضح طور پر اس بات کا اشارہ کر رہے ہیں کہ امریکی سرمایہ داری نظام کے باعث اس کی سیاست اور سماج دونوں زوال پذیری کا شکار ہو رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم