اب کیا ہو گا؟

اب کیا ہو گا؟
اب کیا ہو گا؟

  

سپریم کورٹ نے میاں نوازشریف کو پارٹی کی صدارت کے لئے نااہل قرار دے دیا ہے۔ نیب نے احد چیمہ کو گرفتار کر کے آشیانہ سکیم کے متعلق تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ وزارت داخلہ نے نیب کی سفارش پر 3 ریٹائرڈ جنرلوں کے نام ای سی ایل میں ڈال دیئے ہیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے تحریک انصاف پر ’’بلین ٹری سونامی پروگرام‘‘ میں اربوں روپے کی کرپشن اور بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کر کے نیب سے معاملہ کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اخبارات خبر کی خبر دینے سے حتیٰ الامکان پرہیز کر رہے ہیں۔مارشل ملکوہان نے کہا تھا کہ حقیقی خبر بری خبر ہوتی ہے۔ اخبارات، ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا بری خبروں سے بھرا ہوا نظر آ رہاہے۔ ان حالات میں دانشور قسم کے لوگ کسی بڑے حادثے کی خبر دے رہے ہیں مگر ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو فیض احمد فیض کی طرح مطمئن ہیں۔ فیض سے ایک مرتبہ کہا گیا کہ حالات بہت خراب ہو گئے، نظام چلتا ہوا نظر نہیں آتا۔

اس پر فیض نے کہا تھا کہ مجھے شبہ ہے کہ یہ نظام ایسے ہی چلتا رہے گا۔ پرویزمشرف کے بعد جب پیپلزپارٹی برسراقتدار آئی تو پورے پانچ سال ان کے اقتدار سے رخصتی کی خبریں آتی رہیں۔ بعض دانشوروں نے تو رخصتی کی تاریخیں تک دے دیں۔ مگر پیپلزپارٹی نے اپنے اقتدار کی مدت پوری کی۔ اس دوران اس کے وزرائے اعظم تبدیل ہوئے تاہم پیپلزپارٹی کی حکومت ختم نہیں ہوئی۔ مسلم لیگ(ن) برسراقتدار آئی تو اس کے جانے کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ پارٹی کی حکومت تو ختم نہیں ہوئی تاہم میاں نوازشریف اقتدار سے رخصت ہو گئے۔ یوں ان لوگوں کو خاصی تسلی ہوئی جنہیں ن لیگ کا اقتدار مسلسل خطرے میں نظر آ رہا تھا۔ شیخ رشید صاحب کی میڈیا میں پذیرائی کی وجہ ہی یہ ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے خلاف دل و جان سے بولتے ہیں اور اپنی سابق پارٹی اور قیادت کے خلاف کسی بھی حد تک جانے کے لئے ہمیشہ آمادہ رہتے ہیں۔ یوں وہ میڈیا کے محبوب کا درجہ اختیار کر چکے ہیں۔سپریم کورٹ کے فیصلوں اور نیب کے اقدامات کے باوجود وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آخری دن تک اس پارٹی کی حکومت رہے گی۔ اب جبکہ ن لیگ کی مدت اقتدار محض تین ماہ رہ گئی ہے اور اسے کسی بھی انداز سے رخصت کیا جاتا ہے تو اس سے زیادہ ان کے ساتھ سیاسی مہربانی کی کوئی دوسری صورت نہیں ہو گی۔ پاکستان کی سیاست کا ادراک رکھنے والے اس پر متفق ہوں گے اس سے ن لیگ کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا۔ اس لئے زیادہ امکان یہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) بھی اپنی مدت اقتدار پوری کرے گی۔

جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو انہیں بہت سے حلقوں کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔مشرقی پاکستان کے حوالے سے ان کے کردار پر بہت سے سوالات اٹھائے گئے۔ اپنی ایک تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ جب حالات کی گرد بیٹھ جائے گی تو مستقبل کا مورخ میرا مقام متعین کرے گا۔ اس وقت ’’ڈان‘‘ کے ایڈیٹر الطاف گوہر تھے۔ اس پر انہوں نے ایک اداریہ لکھا جس میں انہوں نے دلیل دی کہ مستقبل کا مورخ سوال کرے گا کہ اتنی گرد اڑانے کی ضرورت کیا تھی۔ اس پر بھٹو صاحب خفا ہو گئے اور انہوں نے الطاف گوہر کو جیل میں ڈال دیا۔ آج پاکستان میں تقریباً تمام اہم سیاسی کردار گرد اڑا رہے ہیں۔ پورے ملک میں کوئی ایک غیرمتنازعہ شخصیت بھی نظر نہیں آ رہی ہے اور یوں بے یقینی کے بادل گہرے ہو رہے ہیں۔

دنیا بھر میں صحافت پر پابندیاں لگائی جاتی رہیں۔ مگر پھر ان تجربوں سے جمہوری حکومتوں نے یہ سیکھا کہ صحافت کے معاملات کو صرف اہل صحافت کے ذریعے ہی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح اہل صحافت نے بھی یہ سیکھا کہ سیاستدانوں اور اہل صحافت کا صرف ایک ہی باس ہوتا ہے اور وہ عوام ہوتے ہیں۔ اگر عوام ان سے غیر مطمئن ہوں گے تو وہ بے وقعت ہو کر رہ جائیں گے۔ جمہوری معاشروں میں جہاں سیاستدان ہر وقت اپنے آپ کو محاسبے کے لئے پیش کرتے ہیں وہاں اہل صحافت نے ضابطہ اخلاق کی پابندی اور غیر ذمہ دارانہ صحافت پر قابو پانے کے لئے پریس کونسل، پریس محتسب اور پریس کورٹ جیسے ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ اہل صحافت بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ ذمہ دار صحافت ہی آزاد رہ سکتی ہے۔ اگر صحافت ذمہ دار نہیں ہو گی تو وہ اپنی آزادی کا تحفظ بھی نہیں کر سکے گی۔پاکستان میں اہل صحافت کو سیاستدانوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کا شوق ہے تاہم اب وہ اکثر خود ایک دوسرے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں جس پر فخر نہیں کیا جا سکتا۔ ’’سب سے پہلے‘‘ کی دوڑ میں میڈیا اپنی ساکھ کی قربانی دے رہا ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بہت جلد قارئین اور ناظرین خبر اور تفریح کے لئے دوسرے ذرائع کا رخ کریں گے۔

پاکستان ایک وکیل نے بنایا تھا اور وکلاء سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ خود قانون کی پابندی کا شاندار نمونہ ہوں گے۔ مگر گزشتہ کچھ عرصے سے وکلاء کے متعلق جو خبریں آ رہی ہیں ان پر صرف دکھ کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔ جج وکلاء کی بدسلوکی کا نشانہ بنتے تھے ۔ مگر چند دن قبل ایک وکیل نے اپنے دو ساتھیوں کو کچہری میں ہی قتل کردیا۔ وکلاء نے اس پر احتجاج کیا مگر کسی نے اس وقار کی بحالی کا مطالبہ نہیں کیا جو جمہوری معاشروں میں وکلاء کا زیور ہوتا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں مختلف شعبوں کے لوگ تیزی کے ساتھ قبائل کی صورت اختیار کر رہے ہیں۔ قبائلی قوانین میں قبیلے کا فرد ہمیشہ حق پر ہوتا ہے اور ہر رکن قبیلہ کے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ جائز یا ناجائز کی بحث میں پڑے بغیر اپنے ساتھی کی حمایت کرے۔ اس مائنڈسیٹ کے ساتھ جمہوری اور مہذب معاشرے کا تصور کرنا ناممکن ہے۔

پاکستان کے بھیانک مستقبل کے متعلق ہمیشہ پیش گوئیاں کی جاتی رہی ہیں۔ اس کی تباہی کے مشوروں کی خبریں بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔ مگر یہ ملک قائم و دائم رہا ہے۔ بعض مغربی دانشور اس کی وجہ پاکستانیوں کی غیر معمولی قوت مزاحمت کو قرار دیتے ہیں۔ سیاسی طوفانوں میں بھی عام پاکستانی اپنی معمول کی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ پاکستانی بازاروں میں سیاست کی بجائے کاروبار پر زیادہ بحث ہوتی ہے۔ پاکستان کی سلامتی کی ایک وجہ اس کے جغرافیہ میں بھی تلاش کی جاتی ہے۔ جغرافیہ کی وجہ سے یہ ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کے نزدیک اہم رہا ہے۔ اسے بحرانوں سے نکالنے کے لئے کوئی نہ کوئی عالمی طاقت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مگر پاکستان کا جغرافیہ اس کی بڑی کمزوری بھی ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ملک مسلسل سازشوں کا شکار رہتا ہے۔ استحکام آتا ہے تو اس کے خلاف سازش بھی شروع ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال میں پاکستانیوں نے بہرحال زندہ رہنے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ ایک ماہر معاشیات کے مطابق تقیم ہند سے پہلے ترقی کی شرح 0.5 فی صد تھی جبکہ آزادی کے بعد یہ عمومی طور پر 5 فیصد ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔ ہم بے پناہ غلطیاں کرتے ہیں مگر ہماری آزادی ہمیں اس غذاب میں مبتلا نہیں ہونے دیتی جس کا شکار ہم انگریز کے دورحکومت میں تھے۔ پاکستان کے متعلق بہت سی مثبت رپورٹیں پڑھنے کے باوجود یہ خدشہ ہمہ وقت رہتا ہے کہ ’’اب کیا ہو گا؟‘‘

مزید : رائے /کالم