الزامات کی پٹاری اور سیاست کی گرم بازاری

الزامات کی پٹاری اور سیاست کی گرم بازاری
الزامات کی پٹاری اور سیاست کی گرم بازاری

  

توقع کے مطابق اپوزیشن کی توپوں کا رُخ شہبازشریف کی طرف ہو گیا ہے۔ اُنہوں نے گزشتہ روز خاصے غصے میں عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس کی۔کانفرنس کے حوالے سے اخبارات نے جو شہ سرخیاں جمائیں، وہ بھی خاصی گرما گرم تھیں۔ اکثر نے عمران خان کو شہبازشریف کی جانب سے منہ بند رکھنے، زبان کو لگام دینے اور شٹ اپ کہنے کو اِن سرخیوں میں جگہ دی۔ اِس طرز تخاطب کو کیا کہیں؟۔۔۔ شہبازشریف کو بھی معلوم ہے اور باقی لوگوں کو بھی کہ عمران خان کو اِس قسم کی شٹ اپ کال دے کر خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔ شہبازشریف عمران خان کو عمران نیازی کہہ کر ایک طرح سے تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں، حالانکہ اِس کی کوئی ضرورت نہیں، وہ تو گویا اُسی راہ پر چل نکلے ہیں، جس پر عمران خان پہلے سے بہت آگے جا چکے ہیں۔ وہ شہبازشریف کو شوباز شریف کہتے ہیں اور ڈرامے باز بھی کہہ جاتے ہیں۔

یہ سلسلہ اگر چل نکلا ہے تو انتخابی مہم کے دوران کیا رُخ اختیار کرے گا، وہ جو شائستگی کی امید اور خواہش کی جاتی رہی ہے، اُس کا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔ مَیں تو سمجھتا ہوں، شہبازشریف کو اب تھوڑا نرم لہجہ اختیار کرنا چاہئے، جتنا وہ غصے میں آئیں گے، اُتنا ہی اپوزیشن کو فائدہ پہنچے گا۔ الزامات تو اُن پر لگیں گے، جھوٹے ہوں یا سچے، وہ دس سال سے بلاشرکت غیرے پنجاب کے حکمران ہیں۔ اِس دوران پلوں کے نیچے سے کتنا پانی گزر چکا ہے، اُن کے منصوبوں کی شفافیت پر انگلیاں اُٹھتی رہتی ہیں اور اب تو کئی کیسز نیب میں زیر تفتیش ہیں۔۔۔ اگر اُن کے ہاتھ صاف ہیں تو اُنہیں تحمل و بردباری کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اِس سے یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ اُن کے پاس دلائل نہیں اور وہ اونچی آواز اور غصے سے مخالفین کو دبانا چاہتے ہیں۔ اُنہیں یہ سمجھ جانا چاہئے کہ اب وہ براہ راست اپوزیشن کا ہدف ہیں۔ پہلے تو کئی توپیں نوازشریف پر آ کر رک جاتی تھیں، اب وہ اُن کا ہدف نہیں رہے، بلکہ ساری چڑھائی شہبازشریف پر ہونی ہے، اِس لئے اُنہیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑے گا۔

احد چیمہ کی گرفتاری پر پنجاب حکومت کا شدید ردعمل بھی ایک بڑی غلطی تھی۔ ایسی بودی دلیلوں سے کام نہیں چلتا کہ احد چیمہ بہت ذہین افسر ہے، اِس لئے اُس کی حمایت کی گئی۔ کیا ذہین افسر کو کرپشن کرنے پر گرفتار نہیں کیا جا سکتا، کیا اتنے بڑے صوبے کو صرف ایک افسر چلا رہا تھا؟ کیا کسی کو اتنی اہمیت دی جانی چاہئے کہ وہ نظام پر ہی حاوی ہو جائے؟۔۔۔

یہ کہہ کر تو شہبازشریف کی گڈ گورننس کا مزید پول کھولا جا رہا ہے، گویا وہ گورننس نہیں، بلکہ ایک افسر کی افسری تھی، جو اُس کے پکڑے جانے پر ختم ہوگئی۔ قانون قاعدے کے مطابق وفاقی سروس کے افسروں کو ایک خاص مدت پوری ہونے پر دوسرے صوبوں میں بھیجا جاتا ہے۔ احد چیمہ کو بیسویں گریڈ میں ترقی ملی ہے تو اُن کی پوسٹنگ کہیں بھی کی جا سکتی ہے۔ ایک افسر کے لئے اتنا شدید ردعمل کہ کابینہ کا اجلاس بھی بلایا جائے اور بیوروکریسی کی ہڑتال بھی نہ روکی جائے، شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ اِس ردعمل کا فائدہ کیا ہوا، کیا احد چیمہ سے تفتیش رک گئی، کیا اسے رہا کر دیا گیا، کیا نیب نے اپنے اِس عمل پر معافی مانگ لی؟ ایسا تو کوئی کام نہیں ہوا، اُلٹا نیب کے چھاپے تیز ہو گئے، پیراگون سٹی کا ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا۔ ایک بے مقصد سی مہم چلا کر شہبازشریف خواہ مخواہ توپوں کی زد میں آ گئے۔ آصف علی زرداری نے بھی اُنہیں آڑے ہاتھوں لیا اور عمران خان نے بھی، بلاول بھٹو زرداری بھی اُن پر نشانہ لگاتے نہیں چوکتے اور اُنہیں بیوروکریسی کی ہڑتال اور اُسے بغاوت پر اُکسانے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

شہبازشریف پہلے عمران خان کو جھوٹوں کا آئی جی کہتے تھے، اب حالیہ پریس کانفرنس میں اُنہیں پیدائشی جھوٹا قرار دیا ہے۔ غالباً یہ بات اُنہوں نے محاورتاً کہی ہے، لیکن کیا ایک بڑی سیاسی جماعت کے صدر مستقبل کے متوقع وزیراعظم اور حال کے وزیراعلیٰ کو یہ بات کہنی چاہئے تھی؟ کیا کسی کو پیدائشی جھوٹا محاورتاً بھی کہا جا سکتا ہے اور وہ بھی ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کو؟۔۔۔ یہ لب و لہجہ پہلے بھی شہبازشریف کو نقصان پہنچا چکا ہے اور آصف علی زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے اور چوراہوں پر اُلٹا لٹکانے کی باتیں اُنہیں معافی مانگ کر واپس لینا پڑیں۔ البتہ اِس پریس کانفرنس میں ایک بہت اچھی بات یہ ہوئی کہ شہبازشریف نے چیف جسٹس ثاقب نثار سے اپیل کر دی کہ وہ ایک فل بنچ بنائیں جو میٹرو ملتان منصوبے میں کرپشن کے الزامات کی کسی جے آئی ٹی سے تحقیق کرائے، ’’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہئے‘‘۔۔۔ اُنہوں نے یہ چیلنج بھی دیا کہ اگر اُن پر الزام ثابت ہوا تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔ شہبازشریف نے چیف جسٹس پر اعتماد کرکے نوازشریف کے بیانیہ کی نفی کر دی ہے، وگرنہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف تو اب بات بے بات عدلیہ کو ہی نشانہ بناتے ہیں۔ ججوں کو کہتے ہیں کہ وہ اُن کے خلاف بغض میں بھرے بیٹھے ہیں، اُن سے انصاف کی کوئی توقع نہیں، لیکن شہبازشریف نے عدلیہ کو ہی منصف مانتے ہوئے جھوٹے الزامات کی تحقیق کا اختیار دیا ہے۔

چیف جسٹس اُن کی بات مانتے ہیں یا نہیں، یہ تو ان کی اپنی صوابدید ہے، تاہم کیا ہی اچھا ہوتا کہ شہبازشریف چیئرمین نیب سے کہتے کہ وہ جیسے چاہیں، ملتان میٹرو بس منصوبے کی چھان بین کرا لیں، ہم ہر قسم کا تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ سپریم کورٹ کوئی تحقیقاتی ادارہ تو ہے نہیں، یہ کام تو نیب کا ہے اور نیب پہلے سے ملتان میٹرو منصوبے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ڈیڑھ درجن سے زائد افسران پیشیاں بھی بھگت چکے ہیں۔ اگر ملتان میٹرو منصوبہ شفاف ہے تو نیب تحقیق کرے یا جے آئی ٹی اُسے اُس میں کیا مل سکتا ہے؟ سپریم کورٹ سیاسی الزامات کیسے نمٹا سکتی ہے، یہ کام تو نیب کا ہے کہ الزامات کی تحقیقات کرے، اگر جھوٹے ہیں تو شہبازشریف کو کلین چٹ جاری کرے، مگر شہبازشریف شاید یہ راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے، اِسی لئے اُنہوں نے سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

تحریک انصاف شہبازشریف کو کس قدر ہدف بنا چکی ہے، اِس کا اندازہ اِس امر سے کیجئے کہ عمران خان شہبازشریف کے خلاف ٹوئٹ پر ٹوئٹ کر رہے ہیں، جہانگیر ترین پریس کانفرنسوں میں اُنہیں پنجاب کا گاڈ فادر کہہ رہے ہیں اور پنجاب اسمبلی میں اُن کے خلاف نعرے لگتے ہیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان تو یہ تک کہہ گئے ہیں کہ شہبازشریف کو گرفتار ہونے سے کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔ نوازشریف کا نام تو گویا اُن سب کو بھول ہی گیا ہے۔ یہ اِس بات کا اشارہ ہے کہ شہبازشریف مسلم لیگ (ن) کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک بھی اُن کے دم سے قائم رہ سکتا ہے۔ اِس حقیقت کو خود شہبازشریف بھی یاد رکھیں کہ اُن کی شخصیت نوازشریف کا عملی خلاء پورا کر سکتی ہے، مگر اِس کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود کو نچلی سطح کے معاملات میں نہ اُلجھائیں۔

پنجاب کے منصوبوں اور مالی معاملات میں شفافیت نہیں رہی ہے، اب تک کے شواہد یہ بتا رہے ہیں، پرائیویٹ کمپنیاں بنا کر منصوبے بروئے کار لانے کا فیصلہ اب ایک بڑے الزام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ شہبازشریف اگر ہر کمپنی کے افسر کو بچانے کے لئے احد چیمہ سمجھ کر ردعمل ظاہر کرتے رہے تو یہ اُن کی شخصیت پر بُرا تاثر چھوڑے گا۔ اُنہیں افسروں کا دفاع کرنے کی بجائے اپنی نیک نیتی ثابت کرنی چاہئے۔ پنجاب میں بلاشبہ ترقی ہوئی ہے، صرف لاہور ہی نہیں، باقی شہروں میں بھی بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ شہبازشریف کا یہ مثبت پہلو ہے جس پر زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے۔ آج کے تمام بڑے سیاست دانوں کو علم ہے کہ 2018ء کے انتخابات یک نکاتی ایشو پر لڑے جائیں گے اور وہ ہے کرپشن۔

عمران خان کا تو پچھلے 5برسوں سے بیانیہ ہی یہی ہے کہ نوازشریف اور آصف علی زرداری اربوں روپے لوٹ کر ملک سے باہر لے گئے ہیں، اب پیپلزپارٹی کا بیانیہ بھی یہی ہے کہ نوازشریف اور اُن کے ساتھی اربوں روپے کی کرپشن بچانے کے لئے ملکی اداروں سے لڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف نوازشریف اور شہبازشریف کے لئے بھی سب سے بڑا ٹاسک یہی ہے کہ خود کو ایماندار ثابت کریں، عوام کو باور کرائیں کہ اُنہیں کرپشن کے الزامات میں سزائیں دے کر راستے سے ہٹایا گیا۔ اصل مقصد کچھ اور تھا، کچھ قوتیں عوام کی بالادستی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں، اِس لئے نوازشریف کو نااہل کیا گیا کہ وہ سویلین بالادستی کی علامت بن چکے ہیں۔۔۔

شہبازشریف کو ابھی تواپوزیشن کی طرف سے مزاحمت اور الزامات کا سامنا ہے، آنے والے دنوں میں پارٹی کے اندر سے بھی مزاحمت ہو سکتی ہے، کیونکہ سب کو علم ہے کہ نوازشریف کے کچھ چاہنے والے ہیں جو صدارت کے بدلنے کے موقع پر دھاڑیں مار کے روئے اور جن کی خواہش ہے کہ مریم نواز پارٹی کی باگ ڈور سنبھالیں، پھر مستقبل قریب میں چودھری نثار علی خان جیسے پارٹی کے سینئر رہنما جو عدلیہ اور فوج کے حوالے سے نوازشریف کے بیانیہ کو پسند نہیں کرتے، شہبازشریف کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ بطور صدر اِس بات کا اعلان کریں کہ مسلم لیگ (ن) قومی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ نہیں چاہتی اور عدلیہ کا احترام کرتی ہے۔ گویا شہبازشریف کو بڑے بڑے چیلنج درپیش ہیں، اِس لئے وہ تناؤ بڑھانے والی پریس کانفرنسوں پر وقت ضائع نہ کریں، بلکہ ساری توجہ اِس نکتے پر مرکوز رکھیں کہ اپنی جماعت کو متحد کیسے رکھنا ہے اور نوازشریف کے بعد مقتدر حلقوں میں خود کو قابلِ قبول کیسے بنانا

مزید : رائے /کالم