حکومت خام آئل کی درآمد پر ڈیوٹی کی شرح میں کمی کرے : محمد وحید چو ہدری

حکومت خام آئل کی درآمد پر ڈیوٹی کی شرح میں کمی کرے : محمد وحید چو ہدری

لاہور(فورم رپورٹ :اسد اقبال)پاکستان ایک زرعی ملک ہے اگر زراعت پر انحصار کر کے کسانوں کو ریلیف دیا جائے تو اس سے فصلوں کی بھرپور پیداوار اور ملک کے لیے کثیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے بد قسمتی سے پاکستان 70سال گزرنے کے باوجود کوکنگ آئل کے لیے کوئی فصل کاشت نہیں کر سکا جس سے پام آئل اور سو یابین کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہونے سے درآمدات کی مد میں اربوں روپے کا ذر مبادلہ خرچ ہو رہا ہے۔ حکومت وقت اگر چاہے تو پام آئل اور سو یابین خام پر درآمدی ڈیوٹی کی شرح میں کمی کر کے عوام کو سستا گھی اور کوکنگ آئل فراہم کر نے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے جس کے لیے ہم بھرپور تعاون کر نے کو تیار ہیں ۔ان خیالات کا اظہار پاکستان وناسپتی مینو فیکچرز ایسو سی ایشن کے ایگزیکٹو ممبر محمد وحید چوہدری نے گزشتہ روز پاکستان فورم میں کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گندم اور گنا کی امدادی قیمت کا تعین کرنے کے بعدکاشتکاروں نے گنا اور گندم کی کاشت میں دلچسپی لینی شروع کر دی ہے جس سے پیداوار سر پلس جبکہ دیگر فصلوں کی طرف کوئی توجہ نہ دی جارہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت گنا اور گندم کی طرح کوکنگ آئل کی فصلوں کی امدادی قیمت کا اعلان کر ے تاکہ کسان زیادہ سے زیادہ سن فلاور ، بنولہ اور مکئی کی فصلیں کاشت کر کے نہ صرف خو دکفیل ہو سکیں بلکہ ملک کا زرمبادلہ بھی بچایا جا سکتا ہے جس کے لیے حکومت کو دیگر ممالک کی طرح اپنے کسانوں کو ریلیف دینا ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 5لاکھ ٹن کے قریب سن فلاور اور 2لاکھ کے قریب مکئی اور بنولہ کاشت ہوتا ہے جو ضرورت کا 20فیصد بھی نہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انٹر نیشنل مارکیٹ میں پامولین 820ڈالر سے کم ہو کر 750ڈالر کی سطح پر آ گیا ہے تاہم پاکستان میں خام آئل کی درآمد پر ڈیوٹی کی شرح میں کمی نہ کی گئی ہے ۔ وحید چوہدری نے بتایا کہ حکومت فی کلو گھی اور فی لیٹر کوکنگ آئل پر 28روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے ۔ اگر وزات خزانہ پامو لین اور سو یا بین پر عائد کر دہ ڈیوٹی کی شرح میں کمی کر دے تو ا س سے گھی و آئل کی قیمتوں میں واضح کمی کا فائدہ عوام الناس کہ پہنچایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کے بعد گھی و آئل سیکٹر دوسرا سب سے بڑا خام مال درآمد کر تا ہے تاہم وزارت خزانہ و تجارت کی عدم توجہی کے باعث یہ سیکٹر مسائل سے دوچار ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مزید : کامرس /رائے