آٹو انڈسٹری جلد ایشیا ئی مارکیٹ کو لیڈکرے گی، صوبائی وزیر انڈسٹریز

آٹو انڈسٹری جلد ایشیا ئی مارکیٹ کو لیڈکرے گی، صوبائی وزیر انڈسٹریز

لاہور(کامرس رپورٹر)صوبائی وزیر صنعت و تجارت و انویسٹمنٹ شیخ علاؤالدین نے کہا ہے کہ پاکستانی مصنوعات کی تشہیر کیلئے پاکستان آٹو شو 2018 نمایاں اہمیت کا حامل ہوگا درحقیقت پاکستان کا شعبہ آٹو ٹیکس کی ادائیگی میں تیسرے نمبر پر موجودہے اور دنیا بھر میں دس عالمی آٹوموبائل میں پاکستان آٹوز کا نمبر چوتھا ہے جبکہ پاکستان میں سوزوکی، ٹویوٹا، ہونڈا اور ایف اے ڈبلیو پروڈکشن پلانٹس قائم کر چکے ہیں جو کہ ہماری آٹو انڈسٹری کیلئے باعث فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہماری آٹو انڈسٹری جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے ،اسی رفتار سے چلتی رہی تو بہت جلد ایشیا ء کی سب سے بڑی ماکیٹ بن کر ابھرے گی۔ ان خیالات کا اظہار آج صوبائی وزیر نے ایکسپو سینٹر لاہور میں :میڈ ان پاکستان: کے عنوان پر شروع ہونیوالی نمائش 14ویں پاکستان آٹو شو2018کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے دوران کیا۔تقریب میں ایم این اے شائستہ پرویز ملک، چیئرمین پاپام افتخار احمد،ممبر پاپام سید نبیل ہاشمی،ڈائریکٹر انڈس موٹر طارق احمد خان،ہنڈا اٹلس گروپ عامر شیرازی،نیو میجنگ ڈائریکٹر سوزوکی،راوی موٹرز عمر شیخ،بیرون ممالک سے آئے ہوئے صنعتکاروں کے ساتھ آٹو انڈسٹری سے وابستہ تاجر حضرات کی بڑی تعدادموجود تھی۔ صوبائی وزیر نے سکلز ڈیویلپمنٹ سینٹر کا باقاعدہ افتتاح کیا اور نمائش میں لگائے گئے پاکستانی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ کمپنیز کے اسٹالز کا دورہ کیا۔انہوں نے پاکستان آٹو شو میں بین الاقوامی کمپنیز کی خصوصی دلچسپی کو بے حد سراہا اور انہیں پنجاب حکومت کی جانب سے خوش آمدید کہا۔تقریب سے تمام شرکاء نے دوران خطاب پاکستانی مصنوعات کے استعمال پرزور دیا اور امید ظاہر کی کہ میڈ ان پاکستان کو ہر سطح پر ترجیح دی جائے گی۔ چیئرمین پاپام افتخار احمدنے نمائش میں شرکت پر صوبائی وزیر کا خیرمقدم کیا اور اپنے خطاب میں نمائش کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 3 روزہ نمائش میں203 سے زائد کمپنیوں کی شرکت متوقع ہے، جن میں 125گھریلو اداروں کے ساتھ 78 بین الاقوامی ادارے شامل ہیں۔.بین الاقوامی اداروں میں جاپان، چین، جرمنی، فرانس، ترکی، تھائی لینڈ، تائیوان، انگلینڈ امریکہ، متحدہ عرب امارات اور سری لنکا کی مشہور کمپنیاں شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس نمائش میں275 بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ بین الاقوامی وفد سمیت 400 سے زائد بیرون ممالک سے آنے والے افراد کی آمد متوقع ہے۔ نمائش میں مسافر کاروں، ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹرز، موٹر سائیکلوں، آٹو مینوفیکچررز پارٹس، ، مشینری ساز، آلہ ساز، قدیم کاروں اور بھاری موٹر سائیکلوں کے کاؤنٹر بھی شامل ہوں گے۔ایم این اے شائستہ پرویز ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلا شبہ یہ نمائش پاکستان کی تاریخ میں آٹو انڈسٹری کی سب سے بڑی نمائش ہے اور اس کیلئے پاپام کی تمام ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انجینئرنگ سیکٹر خاص اہمیت کا حامل ہے اور پنجاب حکومت بی ٹو بی کے کلچر کو فروغ دے کر معیشت کو استحکام کی جانب لیجارہی ہے۔صوبائی وزیر شیخ علاؤالدین نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں پاکستانی مصنوعات کے استعمال میں کافی اضافہ ہوا ہے اور امید ہے کہ یہ آٹو شو بھی ہمارے لئے ایک ایسا پلیٹ فارم بنے گا کہ ہم اپنی پاکستانی مصنوعات پر فخر کر سکیں اور بہت جلد دنیا بھر کے40 بہترین آٹوموبائل مینوفیکچررز کی لسٹ میں پاکستان کا نام بھی شامل ہوگا۔انہوں نے کہا پنجاب کی زمین بہت زرخیز ہے ،اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہاں کی ہنر مند اور محنتی نوجوان پوری دنیا میں اپنی مثال آپ ہیں ۔ صوبائی وزیر نے نمائش کی انتظامیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے باعث فخر ہے کہ پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی آٹو نمائش کی میزبانی پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اور اسیسریزمینوفیکچریرز (پا پام) جیسا ادارہ کررہاہے ، جو کہ 3000 بڑی، درمیانی اور چھوٹی صنعتوں کی نمائندگی رکھتا ہے اور ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی پاکستانی تاجر حضرات کیلئے بڑی خوشخبری ہے کہ آئیں اور اس نمائش کا حصہ بنیں۔تقریب کے اختتام پر پاپام چیئرمین کی جانب سے صوبائی وزیر یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

مزید : کامرس /رائے