شائقین کو اچھے ڈرامے کی ضرورت ہے، امین اقبال، محب مرزا اور طوبیٰ صدیقی

شائقین کو اچھے ڈرامے کی ضرورت ہے، امین اقبال، محب مرزا اور طوبیٰ صدیقی

لاہور(فلم رپورٹر)شائقین کو ریٹنگ نہیں اچھے ڈرامے کی ضرورت ہے،پاکستانی ڈرامہ بین الاقوامی مارکیٹ کا مقابلہ کررہا ہے،کہانیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر امین اقبال،اداکار محب مرزا اور طوبیٰ صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔امین اقبال نے بتایا کہ سکس سگما کی اس پروڈکشن ڈرامہ سیریل’’دشمن‘‘کی کہانی ثروت نزیر نے تحریر کی ہے جس کی دیگر کاسٹ میں مدیحہ امام،صبا حمید،عمران پیرزادہ،محمد،محسن گیلانی،فرح طفیل،عدنان حیدر،صائمہ سلیم اور عرفان کھوسٹ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ میری کافی عرصے سے خواہش تھی لاہور میں دوبارہ کام کروں،ڈرامہ سیریل’’دشمن‘‘میں اہم سماجی موضوع کو شامل کیا گیا لیکن اس میں اکثر ڈراموں کی طرح طلاقیں نہیں دکھائی گئیں لیکن شادی ضرور شامل کی گئی ہے،یہ سیریل کئی حوالوں سے منفرد ثابت ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں امین اقبال نے کہا کہ پاکستان میں ان بین الاقوامی معیار کا ڈرامہ بن رہا ہے لیکن ہمارے ڈرامہ ریٹنگ کا محتاج نہیں ہے کیونکہ چند میٹرز اس کی نمائندگی نہیں کرسکتے،ہمیں کہانیوں میں تنوع کی ضرورت ہے،ڈراموں میں اب چینلز کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کی مداخلت بڑھ گئی ہے اس لئے بہت سے موضوعات پر ڈرامہ نہیں بنایا جاتا۔انہوں نے بتایا کہ میں خواتین کرکٹرز کی زندگی میں آنے والی مشکلات پر کام کررہا ہوں اور جلد ہی یہ پراجیکٹ بھی شروع کروں گا۔ہمارے ملک میں سب ٹیکنیشنز کو اہمیت دی جاتی ہے لیکن رائٹرز کو نہیں۔

اداکار محب مرزا نے کہا کہ میں چار سال بعد کسی ڈرامے میں کام کررہا ہوں۔ڈرامے میں ایک ٹائٹل ہیرو ہوتا ہے لیکن 22 ویں قسط تک ولن لگتا ہے،ڈراموں میں اکثر ہیرو جسمانی تشدد کرتے نظر آتے ہیں یا کسی اور طرح سے تشدد کرتے ہیں کیا مردوں کے صرف ایسے ہی کردا رر ہ گئے ہیں۔ایک فنکار کی حیثیت سے میری سوشل ذمہ داری بھی ہے یہی وجہ ہے کہ اس ڈرامے میں کسی طرح کا بھی جسمانی تشدد نہیں ہے۔ اس سیریل میں ایک غلطی کے بعد مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھے اب نارمل انسان کی طرح زندگی گزارنی چاہیئے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اگر میں نے چار سال میں 30سے35 ڈرامے چھوڑے ہیں تو اس کی وجہ یہی تھی کہ ان میں میرے کرنے کے لئے کچھ نہیں تھا جبکہ لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید میں فلموں میں مصروف ہوں۔اس دوران میں نے جتنی بھی فلموں میں کام کیا ان میں کوئی بھی نیگٹو نہیں سوائے’’ارتھ‘‘ کے۔محب مرزا نے کہا کہ ڈراموں میں مردوں کو نیگٹو ضرور دکھائیں لیکن بچوں کا بھی خیال رکھیں کیونکہ ٹین ایجر کو مثبت پیغام دینا بہت ضروری ہے۔مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مردوں کے منفی کردار بچوں کو بہت متاثر کرتے ہیں۔ڈرامہ اثر تو کرتا ہے،اگر میرے گھر میں بھی چل رہا ہوتو اسے دیکھ کر بچے ضرور متاثر ہوں گے لیکن میری سوچ ہے کہ ایسا کیوں نہ پرفارم کروں اور کیوں نہ ایسا کردار کروں جو مثبت اندازسے اثرانداز ہو لیکن ہوسکتا ہے کہ دوسرے لوگ میری طرح نہ سوچتے ہوں۔اداکارہ طوبیٰ صدیقی نے کہا میں ایک بہت مضبوط عورت کا کردار کررہی ہوں۔میری خواہش تھی کہ محب مرزا کے ساتھ کام کروں جو اس ڈرامے کے ذریعے پوری ہوگئی ہے۔امین اقبال کے ساتھ پہلی بار کام کا تجربہ بہت اچھا ہے۔ایک سوال کے جواب میں طوبیٰ صدیقی نے کہا کہ گھریلو عورتوں کو جب اپنی کہانیاں سکرین پر نظر آتی ہیں تو ڈرامے کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے لیکن عورت کو جتنا زیادہ مظلوم دکھایا جائے گا اتنی ہی ریٹنگ زیادہ آئے گی۔

مزید : کلچر