قائداعظم نے ہندوؤں کی ذہنیت کو قریب سے سمجھ لیا تھا،جسٹس(ر) خلیل الرحمن

قائداعظم نے ہندوؤں کی ذہنیت کو قریب سے سمجھ لیا تھا،جسٹس(ر) خلیل الرحمن

لاہور (جنرل رپورٹر) پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا۔ قائداعظمؒ ؒ نے مسلمانان برصغیر کو خودانحصاری کا درس دیا تھا۔آج ہم جو کچھ بھی ہیں پاکستان کی بدولت ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم متحدہوں اور ملکی تعمیر وترقی میں کردار ادا کریں ۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان‘ لاہور میں دسویں سالانہ سہ روزہ نظریۂ پاکستان کانفرنس کے آخری روز توسیعی اور نویں نشست کے دوران کیا۔ نشست کی صدارت معروف ماہر قانون وممبر بورڈ آف گورنرز نظریۂ پاکستان ٹرسٹ جسٹس(ر) خلیل الرحمن خان نے کی جبکہ اس موقع پر چیف کوآرڈی نیٹر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ میاں فاروق الطاف،سابق وفاقی وزیر قانون خالد رانجھا، ممتاز صحافی ودانشور پروفیسر عطاء الرحمن، سینئر صحافی سعید آسی، کالم نگار طیبہ ضیاء چیمہ، صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کاشف ادیب جاودانی، تحریک پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ کارکن عبدالجبار، ریاض چودھری، صدر تحریک تکمیل پاکستان لاہور ڈاکٹر یعقوب ضیاء، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان، بیگم خالدہ جمیل، انجینئر محمد طفیل ملک، کارکنان تحریک پاکستان ، نظریۂ پاکستان فورمز کے عہدیداران، اساتذۂ کرام سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات بڑی تعداد میں موجود تھے۔کانفرنس کا کلیدی موضوع’’خودانحصاری ۔ نشان منزل ‘‘ تھا۔ نشست کی نظامت کے فرائض نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہدرشید نے اداکیے۔جسٹس(ر) خلیل الرحمن خان نے کہا کہ قا ئداعظمؒ ہندو ذہنیت کو قریب سے دیکھ کر یہ حقیقت سمجھ چکے تھے کہ یہ دو قومیں اکٹھی نہیں رہ سکتیں چنانچہ مسلمانان برصغیر ان کی قیادت میں مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر متحد ہو گئے اور علیحدہ وطن حاصل کر لیااب ہمیں اس ملک کو قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے افکارونظریات کے مطابق جدید اسلامی جمہوری فلاحی ملک بنانا ہے۔ سعید آسی نے کہا کہ نظریۂ پاکستان ہی اس ملک کی بنیاد ہے اور اسلامیانِ پاکستان کے دلوں سے اس نظریہ کو کبھی محو نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خالد رانجھا نے کہا کہ آزادوطن حاصل کرنے کیلئے ہمارے آباواجداد نے جان ومال کی لازوال قربانیاں دیں۔ آزادی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے۔پروفیسر عطاء الرحمن نے کہاکہ ملک وقوم کی بنیادیں اور اس کا نظام حکومت اسی صورت برتر رہ سکتا ہے جب تک وہ کسی ملک کا دستِ نگر نہ ہو۔ دوسروں کے دست نگر ہو کر ہم اپنی خودمختاری برقرار نہیں رکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم عزت وآبرو کے ساتھ اپنے وسائل میں رہتے ہوئے گزارہ کرلیں تو ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں۔

نظریہ پاکستان

مزید : میٹروپولیٹن 1