ملکی اداروں سے بھی کوئی طاقتور ہو سکتا ہے ؟ چیف جسٹس

ملکی اداروں سے بھی کوئی طاقتور ہو سکتا ہے ؟ چیف جسٹس

اسلام آباد (آن لائن ) سپریم کورٹ نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق کیس میں ایورسٹ کمپنی کے مالک محمد عثمان، ڈی آئی جی اور ایڈیشنل ڈی جی نیب کو ذاتی طور پر طلب کر تے ہوئے کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کردی جبکہ دوران سماعت سپریم کورٹ میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہی نے پاکستان کے پاور فل شخص کی نشاندہی کی توچیف جسٹس نے کہا ہے کہ اب تو میں بھی اس شخص کو دیکھنے کا مشتاق ہوں ، مجھے حیرت ہے ملک کا ادارہ ایسی درخواست لے کر آیا ہے، کیا ملک کے اداروں سے بھی کوئی طاقتور ہو سکتا ہے ۔ ادویات کی قیمتوں کے تعین کیلئے دائر درخواست کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔دوران سماعت سپریم کورٹ کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ڈریپ کے سربراہ نے بتایا ہے کہ طاقتور ڈرگ مافیا کے خلاف وزارت صحت اور ڈریپ کارروائی کرنے سے قاصر ہے، انہوں نے کہا کہ ڈریپ نے مدد کیلئے سپریم کورٹ کے ایچ آر سیل میں درخواست دائر کر دی ہے ۔ سپریم کورٹ کے سامنے ڈریپ کے سربراہ نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد میں ایورسٹ نام کی کمپنی جنسی ادویات بناتی ہے، اس کے مالک محمد عثمان اتنے طاقتور ہیں کہ ہمارا کوئی افسر اس کی کمپنی یا دفتر میں نہیں جا سکتا، ہم چار سال سے اس کمپنی کے خلاف بے یارومددگار ہیں ، سی ای او ڈریپ نے کہا کہ جیسے ہی کارروائی کرتے ہیں، ہمیں نیب اور ایف آئی اے والے بلا لیتے ہیں جبکہ کمپنی نے ڈریپ نوٹس کے جواب میں ہمارے خلاف 30 سے زائد مقدمات کر رکھے ہیں ۔سی ای او ڈریپ نے بتایا کہ اسلام آباد کی اس کمپنی کے تیار فارمولوں کی دنیا میں کہیں منظوری نہیں، ہمارا ہر افسر اس شخص کے دفتر تک جانے سے ڈرتا ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو میں بھی اس شخص کو دیکھنے کا مشتاق ہو گیا ہوں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کے آنے پر مجھے یہ نوٹس بھی واپس کرنا پڑ جائے، ڈریپ کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ ڈی آئی جی رفعت مختار بھی ہمیں جنسی ادویات والی کمپنی کی وجہ سے دھمکاتا ہے، یہ ہمارے خلاف خبریں بھی چھپواتا ہے، اس کا بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے۔عدالت کے استفسار پر سیکرٹری صحت نے بتایا کہ اس کمپنی اور اس کے مالک کی مدد نیب اور ایف آئی اے کے افسران کر رہے ہیں جو ہمیں کارروائی کرنے پر ہراساں کرتے ہیں۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ اول