جنرل پرویز مشرف نے نیب کو سیاسی وفاداریاں بدلوانے کیلئے استعمال کیا

جنرل پرویز مشرف نے نیب کو سیاسی وفاداریاں بدلوانے کیلئے استعمال کیا
جنرل پرویز مشرف نے نیب کو سیاسی وفاداریاں بدلوانے کیلئے استعمال کیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب سیاسی جماعتیں توڑنے کے لئے بنایا گیا۔ وزیراعظم کے یہ الفاظ سن کر ذہن پر تقریباً بیس سال پہلے کی تصویر ابھرتی ہے جب لاہور کینٹ کے سرور روڈ تھانے میں بڑے بڑے نامور سیاست دانوں کو اتنی بری حالت میں رکھا گیا تھا کہ ان کے استعمال کے لئے جو بیت الخلا بنایا گیا تھا اس میں بیٹھے ہوئے شخص کا اوپر والا پورا دھڑ ہر کوئی دیکھ سکتا تھا، اس بیت الخلا میں غلاظت وغیرہ کی صفائی کا کوئی خاص انتظام نہیں تھا بلکہ شاید کوشش کی جاتی تھی کہ یہ جتنا گندہ رہے اتنا ہی اچھا ہے، کیونکہ یہاں جن سیاست دانوں کو رکھا گیا تھا اُن سے مفید مطلب کام لئے جانے والے تھے۔ اِس لئے اُنہیں اس ماحول میں رکھ کر گویا کندن بنایا جا رہا تھا کیونکہ اس کٹھالی میں چند روز رہ کر جو سیاست دان باہر نکلے وہ وفاقی اور صوبائی سیاست میں دوبارہ سرگرم ہوئے اور مملکت کے برگزیدہ عہدوں پر فائز ہوئے، بظاہر تو یہ سارے سیاست دان کرپشن کے الزام میں پکڑے گئے تھے لیکن انہیں سزا دینا مقصود نہیں تھا بلکہ انہیں آنے والے وقت میں ایک نیا کردار ادا کرنے کے قابل بنانا تھا، اس تھانے میں تو سیاست دانوں پر جو گزری سو گزری لیکن باہر نکلتے ہی وہ مسٹر کلین بن گئے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب کو سیاسی جماعتوں کو توڑنے کے لئے استعمال کیا گیا تو یہ بھی غلط نہیں کہا جب جنرل پرویز مشرف نے 1999ء میں نوازشریف کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار سنبھالا تو مسلم لیگ متحد تھی اور نوازشریف کے نام سے کوئی مسلم لیگ کام نہیں کر رہی تھی البتہ پروگرام یہ تھا کہ الیکشن سے پہلے جو سپریم کورٹ کے حکم پر 2002ء میں کرانے پڑے، اس مسلم لیگ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا، طیارہ کیس میں نوازشریف کو سزائے قید ہوئی اور اس کے بعد سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا شاہ عبداللہ کی مداخلت پر جنرل پرویز مشرف نے نوازشریف کو پورے خاندان سمیت سعودی عرب جلاوطن کر دیا تو گویا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا اور نوازشریف کے بعض ساتھیوں نے جو اُن کی وزارت میں پرکشش وزارتوں کے مزے لوٹتے رہے تھے یہ کہنا شروع کر دیا کہ نوازشریف ہمارے ساتھ مشورہ کئے بغیر سودے بازی کرکے بیرون ملک چلے گئے ہیں اور پارٹی کو بے یارو مددگار چھوڑ گئے ہیں۔ اُن کی غیر حاضری میں ہم قیادت کے لئے کس جانب دیکھیں چنانچہ بہت سے سیاست دانوں نے مسلم لیگ (قائداعظم) کے نام سے نئی جماعت بنا لی، اگرچہ سیاست دان یہ تسلیم کرنے میں بُخل سے کام لیتے ہیں لیکن جنرل پرویز مشرف اس جماعت کی تشکیل کا کریڈٹ لیتے ہیں، کئی بار اُنہوں نے کہا کہ یہ جماعت میں نے بنوائی، اپنی کتاب ’’اِن دی لائن آف فائر‘‘ میں بھی یہ بات لکھی، بعد کے حالات و واقعات سے ثابت ہوگیا کہ اس جماعت کی تشکیل میں نیب نے پس پردہ کردار ادا کیا تھا، جنرل پرویز مشرف اپنے ایک خصوصی مشیر کے مشورے سے یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ مسلم لیگ (قائداعظم) کو برسراقتدار لایا جائے گا۔ اس جماعت کے پہلے صدر تو میاں محمد اظہر تھے لیکن جب وہ انتخاب میں لاہور کے حلقے سے ہار گئے تو چودھری شجاعت حسین نے آگے بڑھ کر بروقت قیادت سنبھال لی۔ اسی جماعت نے آگے چل کر 2002ء کے انتخاب کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتیں بنائیں۔ ہوا یوں کہ تمام تر سرپرستی اور جوڑ توڑ کے باوجود جب یہ جماعت سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کر پائی تو پھر دوسری جماعتوں کی شکست و ریخت کا مرحلہ آیا، اِس مقصد کے لئے پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین کا انتخاب کیا گیا جس کے صدر مخدوم امین فہیم نے پرویز مشرف کی پیش کش قبول نہ کی تو راؤ سکندر اقبال کی قیادت میں تقریباً دس ارکان قومی اسمبلی کا ایک گروپ پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین چھوڑ کر حکومت کے ساتھ مل گیا۔ اس نے اپنا نام ’’پیٹریاٹ‘‘ رکھا کیونکہ یہ سارا سیاسی کھیل حب الوطنی کے نام پر ہی کھیلا جا رہا تھا اس لئے یہ نام بہت ہی موزوں تھا، بہت سے آزاد ارکان نے بھی حکومت کی حمایت کی جن میں عمران خان، طاہر القادری اور مولانا اعظم طارق جیسے سیاست دان بھی تھے۔ اِس کے باوجود میر ظفر اللہ جمالی کی حکومت کو صرف ایک ووٹ کی اکثریت حاصل ہو سکی۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں نیب نہ صرف سیاسی جماعتوں کے توڑ جوڑ میں مصروف رہا بلکہ جب جنرل امجد نے بلا امتیاز احتساب شروع کیا تو اُنہیں جنرل پرویز مشرف نے روک دیا اور کہا کہ جو لوگ حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اُن کا احتساب نہیں ہو سکتا۔ اس پر جنرل امجد بطور احتجاج اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تاہم نیب نے اپنا کام جاری رکھا اور جس مقصد کے لئے اسے تخلیق کیا گیا وہ کام پوری تن دہی سے کرتا رہا، بیرونِ ملک سے واپسی پر آفتاب شیر پاؤ کو گرفتار کیا گیا تو اُنہوں نے کھل کر کہا کہ اُنہوں نے مشکل وقت کے لئے بیرون ملک کچھ پیسے رکھے ہوئے ہیں، یہ میرے اپنے پیسے ہیں، کسی کو اس پر کیا اعتراض ہے۔ چند دن تک ’’گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے بعد‘‘ آفتاب شیر پاؤ بھی جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں شامل ہو گئے، ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا، نیب سپریم کورٹ میں سخت تنقید کا ہدف بنتا رہا۔ فاضل جج مسلسل سخت ریمارکس دیتے رہے اور یہاں تک کہا گیا کہ یہ ادارہ مردہ ہو چکا ہے اسے کیوں نہ دفن کر دیا جائے لیکن کچھ عرصے سے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ کسی سامری نے اس بچھڑے میں کوئی ایسی کلا فٹ کر دی ہے جس کی وجہ سے یہ مردے سے دوبارہ زندہ ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ وزیراعظم کو بھی کہنا پڑا ہے کہ نیب کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ جو نیب مردہ ہو چکا تھا اسے زندہ کرنے کے لئے فسوں کس مقصد کے لئے پھونکا گیا؟ کیا اس ادارے کا مقصد کسی مخصوص گروپ کا احتساب کرنا ہے جس کے لئے قانون سے زیادہ خوف کا ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ نیب کے چیئرمین کہہ چکے ہیں کہ وہ کوئی سیاسی انتقام نہیں لے رہے لیکن نیب کا آغاز تو ایسے ہی مقصد کے لئے ہوا تھا، اگر ایسا نہ ہوتا تو سرور روڈ کے تھانے میں رکھے جانے والے لوگ چند ہی دنوں میں حکومت میں شامل کیوں ہو جاتے؟ کیا تھانے میں کوئی ایسی لانڈری لگی ہوئی تھی جو چند دنوں میں سارے گناہ دھو ڈالتی تھی؟

سیاسی وفاداریاں

مزید : تجزیہ